بین الاقوامی خبریںسرورق

الجہاد الاسلامی تنظیم کی طرف سے اربیل یہود کی ویڈیو جاری

ویڈیو اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ اربیل زندہ ہے

غزہ،28جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) فلسطینی تنظیم الجہاد الاسلامی کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں اسرائیلی خاتون اربیل یہود کو دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ ویڈیو اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ اربیل زندہ ہے۔اربیل کو دیگر دو یرغمال خواتین کے ساتھ رواں ہفتے آزاد کیا جائے گا۔مذکورہ ویڈیو کلپ کا دورانیہ ایک منٹ سے زیادہ کا ہے جس میں 29 سالہ اربیل نے اپنا تعارف کرایا اور بتایا کہ یہ وڈیو 25 جنوری بروز ہفتہ ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ اربیل نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے مطالبہ کیا کہ وہ فائر بندی معاہدہ جاری رکھنے اور بقیہ یرغمالیوں کی واپسی کے لیے پوری کوشش کریں۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے کے روز اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 کو اپنے دوست ارییل کونیو کے ساتھ قیدی بنائی جانے والی اربیل یہود کی عدم رہائی پر احتجاجا اعلان کیا تھا کہ بے گھر فلسطینیوں کو غزہ کی پٹی کے شمال میں واپس نہیں آنے دیا جائے گا۔ اس پر وساطت کار اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے سرگرم ہو گئے۔ بعد ازاں حماس نے اپنے ایک بیان میں معاملہ حل ہو جانے کی تصدیق کر دی۔حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کی قیادت میں شامل ذریعے نے اتوار کی شام الاقصیٰ چینل کو دیے گئے بیان میں بتایا تھا کہ رواں ہفتے حوالے کیے جانے والے اسرائیلی قیدیوں کی تعداد میں اضافے کو منظور کر لیا گیا ہے۔

ذریعے نے واضح کیا کہ زندہ قیدیوں کی تعداد توقع سے زیادہ تھی جو پورے پہلے مرحلے سے زیادہ کے تبادلے کے واسطے کافی ہے (پہلے زندہ قیدیوں کی تعداد کا تعین 18 کیا گیا تھا)۔ ذریعے کے مطابق رہا کیے جانے والے اسرائیلی قیدیوں کی تعداد میں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ کی پٹی میں بے گھر افراد کی واپسی کا بحران دیکھا گیا، لہٰذا یہ اس بحران کا حل ثابت ہو گا۔فلسطینی تنظیم حماس پہلے ہی یہ اعلان کر چکی ہے کہ اس نے فائر بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کے دوران میں رہا ہونے والے اسرائیلی قیدیوں کی فہرست سے متعلق مطلوبہ معلومات وساطت کاروں کے حوالے کر دیں۔

حماس نے تصدیق کی کہ اس نے اتوار کی شام ان قیدیوں کی فہرست کے حوالے سے درست تفصیلات وساطت کاروں کے حوالے کیں جن کو تبادلے کے سمجھوتے کے پہلے مرحلے میں رہا کیا جائے گا۔اس سے قبل قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے ایک سرکاری بیان میں بتایا تھا کہ وساطت کاروں کی کوششوں کے نتیجے میں فریقین کے بیچ مفاہمت طے پا گئی ہے۔ اس کی رو سے حماس آئندہ جمعے سے قبل اربیل یہود اور دو دیگر یرغمالیوں کو حوالے کر دے گی۔ الانصاری کے مطابق ان کے علاوہ تنظیم ہفتے کے روز مزید 3 یرغمالیوں کو واپس کرے گی۔

اس پیشرفت کے مقابل اسرائیل نے پیر کی صبح سے بے گھر فلسطینیوں غزہ کی پٹی کے جنوب سے شمالی علاقوں کی جانب واپسی کی اجازت دے دی۔واضح رہے کہ اتوار کے روز نافذ العمل ہونے والے فائر بندی معاہدے کی رو سے دو روز قبل حماس نے قیدیوں کی دوسری کھیپ میں چار اسرائیلی خواتین فوجیوں کو رہا کیا۔اس کے مقابل اسرائیل نے اپنی جیلوں میں قید 200 فلسطینی اسیروں کو آزاد کیا۔

اس سے قبل پہلی کھیپ میں گذشتہ اتوار کو 3 اسرائیلی خواتین کو تقریبا 90 فلسطینی گرفتار شدگان کے مقابل رہا کیا گیا تھا۔فائر بندی معاہدہ تین مراحل پر مشتمل ہے۔ اس میں لڑائی کی کارروائیوں کا روکا جانا اور گنجان علاقوں سے اسرائیلی فوج کا انخلا شامل ہے۔معاہدے کا پہلا مرحلہ 6 ہفتے جاری رہے گا۔ اس دوران میں غزہ سے 33 یرغمالیوں کو آزاد کیا جائے گا۔ اس کے مقابل اسرائیل اپنی قید میں موجود تقریبا 1900 فلسطینی گرفتار شدگان کو رہا کرے گا۔پہلے مرحلے کے دوران میں معاہدے کے دوسرے مرحلے کے حوالے سے مذاکرات ہوں گے۔

غزہ پٹی کے شمال میں واپس آنے والے نوے فیصدی افراد گھروں سے محروم: حماس

دوحہ،28جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)غزہ کی پٹی میں بے گھر فلسطینیوں کی شمال کی جانب واپسی کا سلسلہ آج دوسرے روز بھی جاری ہے۔ حماس تنظیم نے تصدیق کی ہے کہ اس کی گنتی کے مطابق گذشتہ روز تقریبا تین لاکھ بے گھر فلسطینیوں کی غزہ کی پٹی کے شمال میں اپنے گھروں کو واپسی ہوئی۔ادھر غزہ میں سرکاری انفارمیشن بیورو کے سربراہ نے بتایا ہے کہ واپس آنے والے 90% افراد اپنے گھروں سے محروم ہیں جو ان کا ٹھکانا بن سکیں۔ بیورو نے تصدیق کی ہے کہ غزہ کی پٹی کا شمالی حصہ بے گھر افراد کے استقبال کے لیے مطلوب انتظامات کے حوالے سے شدید کمی کا شکار ہے۔

بیورو نے فوری امداد پیش کرنے کی اپیل کی ہے جس میں واپس آنے والوں کے ٹھکانے کے لیے خیموں کی فراہمی شامل ہے۔اس وقت غزہ کی پٹی کا بڑا حصہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔ انفارمیشن بیورو کے مطابق شمالی حصے میں واپس آنے والوں کو کم از کم 1.35 لاکھ خیموں کی ضرورت ہے۔پیر کے روز غزہ کی پٹی کے شمال کی سمت آنے والے دونوں مرکز راستوں پر لاکھوں فلسطینیوں کا سیلاب نظر آیا۔ یہ لوگ کئی ماہ تک عارضی پناہ گاہوں میں رہنے کے بعد خوشی اور خوف کے ملے جلے جذبات کے ساتھ واپس لوٹے۔بے گھر افراد نے بحیرہ روم کے متوازی راستے پر پیدل شمالی حصے کا رخ کیا۔ ان میں بعض لوگوں نے شیر خوار بچوں کو یا کندھوں پر سامان اٹھا رکھا تھا۔

ہجوم کے بیچ بچے بھی نظر آئے جنھوں نے سردی سے بچنے کے لیے جیکٹیں پہنچ رکھی تھیں اور ان کی کمروں پر بیگ تھے۔ اس دوران بہت سے مرد حضرات عمر رسیدہ افراد کو وہیل چیئر پر بٹھا کر رواں دواں تھے۔ بعض گھرانے اس موقع پر سیلفیاں بناتے بھی نظر آئے۔ اس موقع پر حماس تنظیم کی جانب سے مقرر کیے گئے سرخ جیکٹوں میں ملبوس ذمے داران لوگوں کو ساحلی راستے کی سمت رہنمائی کر رہے تھے۔سات اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد چھڑنے والی جنگ کے دوران میں غزہ کی پٹی کے شمال سے تقریبا 6.5 لاکھ فلسطینی اپنے گھروں کو چھوڑ کر چلے گئے تھے۔اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق اس روز حماس کے حملے میں 1200 افراد ہلاک ہوئے اور 250 کو قیدی بنا لیا گیا۔ادھر غزہ میں وزارت صحت کے بیان کے مطابق غزہ کی پٹی پر اسرائیلی حملوں میں اب تک 47 ہزار سے زیادہ فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

حماس کی فہرست میں شامل 26 قیدیوں میں سے 18 اب بھی زندہ: اسرائیل

مقبوضہ بیت المقدس،28جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) فلسطینی قیدیوں کے بدلے غزہ کی پٹی میں زیر حراست اسرائیلیوں کی تیسری کھیپ کی حوالگی میں التوا کے دوران اسرائیلی حکومت نے ایک نیا انکشاف کیا ہے۔حکومتی ترجمان ڈیوڈ منسر نے وضاحت کی ہے کہ حماس نے 33 قیدیوں کی فہرست میں زندہ اور مردہ افراد کے بارے میں کچھ تفصیلات فراہم کی ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے تحت پہلے مرحلے میں جن یرغمالیوں کو رہا کیا جانا تھا ان میں سے آٹھ کی موت ہو گئی ہے۔ مر جانے والے یرغمالیوں کے لواحقین کو آگاہ کردیا گیا ہے۔پہلے مرحلے کے تحت سات یرغمالی رہا ہو چکے ہیں اور 26 کو ابھی رہا ہونا ہے۔

ان 26 میں سے صرف 18 ابھی تک زندہ ہیں۔ تحریک حماس کے ایک سرکاری ترجمان کے مطابق اسی تناظر میں حماس نے کہا ہے کہ وہ آنے والے ہفتوں میں رہائی پانے والے قیدیوں کے ساتھ آٹھ نعشیں حوالے کرے گی۔قبل ازیں حماس کے ایک رہنما نے اعلان کیا تھا کہ تحریک نے ثالثوں کو 33 میں سے 25 زندہ قیدیوں کے ناموں کی فہرست سونپ دی ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اتوار کو کہا تھا کہ حماس کے ساتھ مذاکرات کے بعد فلسطینی تحریک تین قیدیوں کو جمعرات کو اور تین دیگر کو اگلے ہفتے کو رہا کرے گی جس کے بدلے میں جنوبی غزہ کے بے گھر افراد کو شمالی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت دی جائے گی۔انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ان کے ملک کو حماس سے ایک فہرست موصول ہوئی ہے جس میں تمام زندہ یا مردہ یرغمالیوں کی حیثیت کو واضح کیا گیا ہے، جنہیں پہلے مرحلے کے دوران رہا کیا جا سکتا ہے۔

اس کے کچھ دیر بعد حماس نے تصدیق کی تھی کہ اس نے یہ فہرست مصری اور قطری ثالثوں کو پیش کر دی ہے۔یاد رہے جنگ بندی معاہدے کے تحت تین مرحلوں پر مشتمل معاہدے کا پہلا مرحلہ چھ ہفتے تک جاری رہے گا جس میں غزہ سے تقریباً 1900 فلسطینیوں کے بدلے 33 اسرائیلی قیدیوں کی رہائی ہوگی۔

لبنانی حزب اللہ کے سات اہلکار اسرائیلی قید میں ہیں: ذرائع

بیروت،28جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)لبنان کے مزاحمتی گروپ حزب اللہ سے جڑے ذرائع نے بتایا ہے کہ اسرائیل نے حزب اللہ کے سات افراد کو ایک سال سے زائد عرصے سے قید کر رکھا ہے۔ یہ گرفتاری ایک سال تک چلنے والی جنگی صورت حال کے دوران کی گئی۔ تاہم اب نومبر کے مہینے سے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی معاہدہ ہو چکا ہے۔ اب اکا دکا اسرائیلی گولہ باری کے علاوہ کوئی بڑی جھڑپ یا حملہ نہیں ہو رہا ہے۔علاوہ ازیں اتوار کے روز اسرائیلی فوج نے چار مزید لبنانیوں کو اتوار کے روز حراست میں لے لیا ہے۔ یہ بات بھی لبنانی ذرائع کی طرف سے بتائی گئی ہے۔ ان چار کو جنگجو نہیں بتایا گیا ہے۔واضح رہے 27 نومبر سے شروع ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے لبنانی فوج نے جنوبی لبنان میں تعینات یونیفل کی پوزیشن سنبھالنا تھی۔تاہم اسرائیلی فوج نے ابھی لبنان سے انخلا نہیں کیا ہے۔

اس کے بعد سے اب تک سینکڑوں افراد گھروں کو واپسی کی کوشش کر رہے ہیں۔حالانکہ اسرائیلی فوج جس نے ستمبر 2024 میں لبنان میں زمینی کارروائی شروع کردی تھی، مکمل طور پر پیچھے نہیں ہٹی ہے۔امریکی وائٹ ہاؤس نے اتوار کے روز اس معاہدے کوایک طرف رکھتے ہوئے معاہدے میں 18 فروری تک توسیع کر دی ہے۔لبنان کے نگراں وزیر اعظم نجیب میقاتی نے کہا ہے کہ لبنان معاہدے میں توسیع کا احترام کرے گا۔ اس معاہدے کے تحت ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ دریائے لیطانی کے شمال سے اپنی افواج کو پیچھے ہٹائے اور جنوب میں باقی ماندہ فوجی انفراسٹرکچر کو ختم کر دے۔میقاتی نے کہا لبنان کی حکومت کی درخواست کے بعد امریکہ اسرائیلی جیلوں میں قید لبنانی قیدیوں کی واپسی کے لیے بات چیت شروع کرے گا۔ جنہیں اسرائیل نے سات اکتوبر 2023 کے بعد گرفتار کیا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button