گاؤں گاؤں چائنا بازار، کیا یہی ’’ میک اِن انڈیا‘‘ ہے :چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ
مرکز سے تلنگانہ کو 3 لاکھ کروڑ کا نقصان، ملک کو بدلنے کیلئے عوام آگے آئیں، جگتیال میں جلسہ عام سے چیف منسٹر کا خطاب
جگتیال۔/7 ڈسمبر، :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے وزیر اعظم نریندر مودی کی ’ میک اِن انڈیا ‘ مہم کا مذاق اُڑایا اور کہا کہ گاؤں گاؤں میں چینا بازار قائم کئے جارہے ہیں کیا یہی ’ میک اِن انڈیا ‘ ہے؟۔ چیف منسٹر نے آج جگتیال کا دورہ کرتے ہوئے مختلف ترقیاتی پروگراموں میں حصہ لیا بعد میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر نے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ’ میک اِن انڈیا ‘ سے کوئی تبدیلی تو دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ کورٹلہ ہاسپٹل کے بازو چینا بازار، جگتیال میں چینا بازار، کریم نگر سرکس گراؤنڈ چینا بازار میں تبدیل ہوچکے ہیں کیا یہی میک اِن انڈیا ہے۔ ’ میک اِن انڈیا ‘ کے بازار کہاں غائب ہوگئے۔ گاؤں گاؤں چینا بازار کی توسیع کیوں ہورہی ہے۔ ناخن کاٹنے کے نیل کٹرس، شیونگ بلیڈز، صوفہ، دیپاولی کے پٹاخے بھی کیا چین سے حاصل کئے جائیں گے۔ مرکزی حکومت آخر کس کی حوصلہ افزائی کررہی ہے۔ ملک میں آخر کیا ہورہا ہے۔
موجودہ صورتحال پر ہر کسی کو غور کرنے کی ضرورت ہے بصورت دیگر ملک کا بھاری نقصان ہوگا۔ عوام کو مزید دھوکہ میں نہیں رہنا چاہیئے۔ چیف منسٹر نے تلنگانہ کے ساتھ ناانصافیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ سے مرکز نے 3 لاکھ کروڑ کی ناانصافی کی ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ملک کے مستقبل اور ملک کی بھلائی کیلئے ہر کسی کو تیار ہونا چاہیئے۔ تلنگانہ نے جس طرح ہر شعبہ میں ترقی کی ہے اسی طرح ملک میں بھی ترقی ہونی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی آبائی ریاست میں گجرات میں برقی کا بحران ہے۔ ملک کے دارالحکومت دہلی میں 75 سال بعد بھی پانی دستیاب نہیں، برقی کی کٹوتی ختم نہیں ہوئی۔ آزادی کیلئے جدوجہد کرنے والے مجاہدین نے کیا اسی لئے قربانیاں دی تھیں۔ انہوں نے جس ہندوستان کا خواب دیکھا تھا وہ یہ نہیں ہے۔ صرف تلنگانہ کی ترقی کافی نہیں ہے، تلنگانہ میں جی ڈی پی 5 لاکھ سے بڑھ کر 11.50 لاکھ کروڑ ہوچکی ہے۔ تلنگانہ کی طرح اگر مرکزی حکومت کی کارکردگی ہوتی تو ہماری جی ایس ڈی پی 11.50 لاکھ کروڑ نہیں بلکہ 14.50 لاکھ کروڑ ہوجاتی۔ نااہل مرکزی حکومت کے سبب تلنگانہ کا بھاری نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ تلنگانہ سے ناانصافیوں کے بارے میں تجربہ رکھنے والوں سے معلومات حاصل کریں۔ اگر ہم صرف پبلسٹی کا شکار ہوجائیں تو پھر ایک بار دھوکہ کھا جائیں گے۔
سابق میں تلنگانہ قیادت کی غلطیوں کے نتیجہ میں ہمیں 60 سال تک ناانصافیوں کو بھگتنا پڑا۔ تلنگانہ جدوجہد میں کئی قربانیاں دی گئیں تاکہ ریاست کا مستقبل تابناک ہو۔ انہوں نے کہا کہ مرکز میں برسراقتدار حکومت کے دعوؤں پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ چیف منسٹر نے عوام سے اپیل کی کہ ملک کے مستقبل کیلئے اُٹھ کھڑے ہوں اور ہم اپنے اثاثہ جات کا تحفظ کریں۔ ملک کو بدلنا ہو تو پھر ہر کسی کو ساتھ چلنا ہوگا۔ تلنگانہ کی طرح ترقی اور فلاح و بہبود کے ساتھ تلنگانہ کی طرح سیاست پر عمل کیا جائے تو ملک کا مستقبل بھی تابناک ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت فری اسکیمات کی مخالفت کررہی ہے لیکن غیر منافع بخش اداروں کے نام پر ابھی تک 40 لاکھ کروڑ کے عوامی اثاثہ جات کو فروخت کردیا گیا۔ بی جے پی نے آٹھ برسوں میں لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کرنے والے ایل آئی سی کو فروخت کرنے کی تیاری کرلی ہے۔
مرکزی بجٹ کے مماثل ایل آئی سی کے 35 لاکھ کروڑ کے اثاثہ جات ہیں۔ یہ عوامی اثاثہ جات آپ کی جاگیر نہیں، آپ کے آباء و اجداد کی میراث نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایل آئی سی کو خانگیانے کے خلاف ایل آئی سی کے ہر ایجنٹ کو ایک سپاہی کی طرح کام کرنا چاہیئے۔ ’ سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ اور ’ بیٹی پڑھاؤ بیٹی بچاؤ‘ جیسے نعرے کھولے ثابت ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں روزانہ خواتین پر حملوں اور دلتوں پر مظالم کے واقعات پیش آرہے ہیں۔
ملک کو بدلنے کی ضرورت ہے ورنہ ہر شعبہ میں نقصان ہوگا۔ ’ میک اِن انڈیا ‘ کا نعرہ اپنی جگہ ہے لیکن ملک میں 10 ہزار صنعتیں بند ہوچکی ہیں۔ اس معاملہ میں ملک کے کسی بھی شہر میں مباحث کیلئے تیار ہوں۔ 50 لاکھ افراد روزگار سے محروم ہوگئے۔ 10 ہزار سرمایہ کار ملک چھوڑ کر جاچکے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ آنے والے 10 دنوں میں رعیتو بندھو کی امداد کسانوں کے اکاؤنٹ میں جمع کردی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبہ کو مفت برقی سربراہی کے علاوہ رعیتو بیمہ، رعیتو بندھو جیسی اسکیمات پر عمل کرنے والی تلنگانہ ملک کی واحد ریاست ہے۔ انہوں نے کسانوں سیکہا کہ تلنگانہ میں زرعی شعبہ کیلئے برقی بلز کا کوئی تصور نہیں ہے۔



