قومی خبریں

حراست میں تشدداب بھی جاری ، پولیس کو حساس بنانے کی ضرورت: چیف جسٹس

نئی دہلی،8اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)چیف جسٹس (سی جے آئی) این وی رمن نے اتوار کو کہا کہ ملک میں حراس میں تشدد اور دیگر پولیس مظالم جاری ہیں اور یہاں تک کہ مراعات یافتہ افراد کو بھی ’تھرڈ ڈگری‘ کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ نیشنل لیگل سروسز اتھارٹی (این اے ایل ایس اے) ملک میں #پولیس افسران کو حساس بناتی ہے۔’انصاف تک رسائی‘ پروگرام کو ایک جاری #مشن کے طور پر بیان کرتے ہوئے چیف #جسٹس نے کہا کہ قانون کی حکمرانی سے چلنے والا معاشرہ بننے کیلئے انتہائی مراعات یافتہ اور انتہائی کمزور کے درمیان انصاف تک رسائی کے فرق کو ختم کرنا ضروری ہے۔

اگر ایک ادارے کے طور پر عدلیہ #شہریوں کا اعتماد جیتنا چاہتی ہے تو ہمیں ہر ایک کو یقین دلانا ہوگا کہ ہم ان کے ساتھ ہیں۔ ایک طویل عرصے سے کمزور آبادی کو نظام انصاف سے باہر رکھا گیا ہے۔جسٹس رمن نے یہاں وگیان بھون میں لیگل سروسز موبائل #ایپلیکیشن اور این اے ایل ایس اے کے وژن اور ’مشن سٹیٹمنٹ‘کے اجراء کے موقع پر زور دیا کہ ماضی مستقبل کا تعین نہیں کرنا چاہیے اور سب کو مساوات لانے کیلئے کام کرنا چاہیے۔ موبائل ایپ غریب اور نادار لوگوں کو قانونی امداد کیلئے درخواست دینے اور متاثرین کو معاوضہ طلب کرنے میں مدد دے گی۔

این اے ایل ایس اے لیگل سروسز اتھارٹیز ایکٹ، 1987 کے تحت تشکیل دیا گیا تھا تاکہ معاشرے کے کمزور طبقات کو مفت قانونی خدمات فراہم کی جا سکیں اور تنازعات کے پرامن حل کیلئے لوک عدالتوں کا اہتمام کیا جا سکے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ انسانی حقوق اور جسمانی چوٹ، نقصان کا خطرہ تھانوں میں سب سے زیادہ ہے۔ حراستی تشدد اور دیگر #پولیس #مظالم وہ مسائل ہیں جو اب بھی ہمارے معاشرے میں موجود ہیں۔ آئینی اعلانات اور ضمانتوں کے باوجودتھانوں میں موثر قانونی نمائندگی کا فقدان گرفتار یا حراست میں لیے گئے افراد کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button