رام نومی کے موقعہ پر تشدد : ہاوڑہ میں مشتعل بھیڑ نے گاڑیوں میں لگایا آگ ، وڈودرا اور اورنگ آبادمیں سنگ باری
ملک کی کئی ریاستوں میں جھڑپیں بھی دیکھی گئیں۔
کولکاتہ ؍احمد آباد ، 30مارچ :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) جمعرات (30 مارچ) کو رام نومی کا تہوار، شری رام کی یوم پیدائش پر پورے ملک میں پورے مذہبی جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا۔ اس دوران ملک کی کئی ریاستوں میں جھڑپیں بھی دیکھی گئیں۔ گجرات کے وڈودرا کے فتح پورہ علاقے میں رام نومی کے جلوس پر پتھراؤ کیا گیا۔ اس کے علاوہ مغربی بنگال کے ہاوڑہ میں رام نومی کے جلوس کے دوران پتھراؤ کیا گیا اور گاڑیوں میں بھی آگ لگا ئی گئی۔ہنگامہ آرائی کے بعد پولیس اہلکاروں نے علاقے میں فلیگ مارچ کیا۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بغیر نام لیے ہاوڑہ واقعہ کے لیے بی جے پی کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا کہ وہ فرقہ وارانہ فسادات کرانے کے لیے ریاست کے باہر سے غنڈے بلا رہے ہیں۔
ان کے جلوسوں کو کسی نے نہیں روکا ،انہیں تلوار اور بلڈوزر لے کر مارچ کرنے کاکوئی حق نہیں ہے۔ انہیں ہاوڑہ میں ایسا کرنے کی جرات کیسے ہوئی؟ممتا بنرجی نے کہا کہ رمضان کا مقدس مہینہ چل رہا ہے اور مسلمان اس مہینے میں برے کام سے اجتناب کرتے ہیں۔تو پھر ایسی حرکت کی ہمت کسی میں کیسے ہوئی؟ انہوں نے کہا کہ میری آنکھیں اور کان کھلے ہیں۔ میں ہر چیز کو سونگھ سکتی ہوں۔ میں نے انہیں پہلے ہی متنبہ کیا تھا کہ وہ مسلم اکثریتی علاقوں سے جلوس نکالتے وقت محتاط رہیں۔ میں پہلے بھی کہہ چکی ہوں کہ اگر ہم رام نومی پر ریلی نکالتے ہیں ،تو تشدد ہو سکتا ہے۔ آج بلڈوزر بھی ہاوڑہ لے جایا گیا۔ روٹ بدلا کس سے پوچھ کر روٹ بدلاگیا؟ اس لیے تاکہ ایک کمیونٹی کوتشددکا نشانہ بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ وہ دوسروں پر حملہ کریں گے اور قانونی مداخلت کے ذریعے راحت حاصل کرلیں گے تو انہیں جان لینا چاہیے کہ عوام ایک دن انہیں مسترد کر دیں گے۔’
جنہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا انہیں گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ بی جے پی کارکنوں کو لوگوں کے گھروں پر بلڈوزر چلانے کی ہمت کیسے ہوئی؟وہیں مہاراشٹر کے اورنگ آباد کے کیراد پورہ علاقے میں دو گروپوں میں تصادم اور پتھراؤ ہوا۔ اس کے علاوہ کچھ پرائیویٹ اور پولیس گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی گئی۔ پولیس نے لوگوں کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا۔ اورنگ آباد کے سی پی نکھل گپتا نے کہا کہ اب حالات پرامن ہیں۔ پولیس شرپسندوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔اس واقعہ پر مہاراشٹر کے سی ایم ایکناتھ شندے نے کہا کہ میں نے حکام سے بات کی ہے اور لوگوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔ آج تک جس طرح تمام تہوار ایک ساتھ منائے جاتے رہے ہیں، اسی طرح تمام تہواروں کو بھی منانے چاہیے۔
ریاست میں امن و امان کی صورتحال کو خراب نہ کریں۔وہیں گجرات کے وڈودرا میں ہنگامہ آرائی پر ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس یشپال جگنیا نے کہا کہ اس دوران کچھ گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا، حالانکہ کوئی زخمی نہیں ہوا۔ جلوس پولیس کی حفاظت میں پہلے سے طے شدہ راستے سے نکالا گیا۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی جگنیا اور دیگر اعلیٰ پولیس افسران موقع پر پہنچ گئے۔جگنیا نے دعویٰ کیا کہ جمعرات کو شہر میں نکالے گئے ہر جلوس میں سیکورٹی کے انتظامات کیے گئے تھے، حالت قابو میں ہے۔ واقعہ اس وقت پیش آیا جب جلوس ایک مسجد کے قریب پہنچا اور لوگ موقع پر پہنچنے لگے ۔ فرقہ وارانہ تنازع کی صورت بننے لگی تھی، تاہم ہجوم کو منتشر کیا گیااور جلوس آگے بڑھ گیا۔ پولس کمشنر منوج کی قیادت میں بھی موقع پر پہنچ گئے اور امن برقرار رکھنے کے لیے اضافی فورس تعینات کرنے کا حکم دیا۔اس کے علاوہ اتر پردیش کے لکھنؤ میں بھی رام نومی پر ہنگامہ ہوا ہے۔
ڈی سی پی نارتھ لکھنؤ قاسم عابدی نے بتایا کہ سمیت نامی شخص کے ساتھ 10-15 لوگ ڈی جے پر موسیقی بجا رہے تھے، جس کے بعد لوگوں کے دو گروپوں کے درمیان جھگڑا شروع ہوگیا۔ اس پر ایک اور گروپ نے اعتراض کیا جب وہ جانکی پورم پولیس اسٹیشن کے تحت ماڈیاون گاؤں میں ایک مذہبی مقام سے گزرا۔جب کہ جلوس نکالنے کی اجازت نہیں تھی۔ دونوں گروپوں کو حراست میں لے لیا گیا، علاقے میں امن قائم ہے۔وہیں رام نومی کے موقع پر دہلی میں بھی سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔شمال مغربی دہلی کے جہانگیر پوری میں رام نومی کے موقع پر بڑی تعداد میں لوگوں نے پابندی کے خلاف مارچ نکالا، جس کے بعد کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لیے فساد مخالف فورس کو علاقے میں تعینات کرنا پڑا۔ دہلی پولیس نے رام نومی تہوار کے ایک حصے کے طور پر جہانگیر پوری میں لوگوں کے ایک گروپ کو شری رام بھگوان پرتیما یاترا نکالنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔پولیس نے یہ قدم پچھلے سال ہنومان جینتی کے موقع پر علاقے میں نکالے گئے جلوس کے دوران فرقہ وارانہ تشدد کے بعد اٹھایا تھا۔ وہیں ایودھیا میں سخت سیکورٹی کے درمیان شری رام کا جنم دن پورے جوش و خروش کے ساتھ منایا جارہا ہے۔



