
ترواننت پورم، 26 ستمبر 2026 (اردودنیانیوز/ایجنسیز) بھارتی کرکٹ کے اسٹار بلے باز ویراٹ کوہلی نے اگلے سال ہونے والے ون ڈے ورلڈ کپ کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بھارت کے لیے ان کا آخری ورلڈ کپ ہوگا۔ کوہلی نے واضح کیا کہ ان کی پوری توجہ عالمی کپ جیتنے پر ہے اور وہ ٹرافی حاصل کرنے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔
ویسٹ انڈیز کے خلاف اتوار سے شروع ہونے والی ون ڈے سیریز سے قبل جیو اسٹار سے گفتگو کرتے ہوئے ویراٹ کوہلی نے کہا کہ آخری ورلڈ کپ کھیلنے کا خیال ان کے لیے بڑی تحریک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ٹورنامنٹ میں اپنا سب کچھ میدان میں چھوڑنا چاہتے ہیں اور بھارت کو عالمی کپ جتوانا ان کا بنیادی ہدف ہوگا۔
ویراٹ کوہلی اس وقت صرف ایک فارمیٹ میں کھیل رہے ہیں اور نومبر میں 38 برس کے ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ کپ جیتنے کے لیے جو کچھ بھی کرنا پڑا، وہ اس کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ کوہلی کے مطابق بھارت کے لیے آخری عالمی کپ کھیلنے کا موقع ان کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔
ویراٹ کوہلی اس سے قبل بھی ورلڈ کپ جیتنے والی بھارتی ٹیم کا حصہ رہ چکے ہیں۔ انہوں نے مہندر سنگھ دھونی کی قیادت میں 2011 کے ون ڈے ورلڈ کپ میں شرکت کی تھی، جب بھارت نے طویل انتظار کے بعد عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔
بھارتی اسٹار نے 50 اوورز کے ورلڈ کپ کی سختی پر بھی بات کی۔ ان کے مطابق موجودہ دور میں ایک روزہ کرکٹ میں مقابلے کی شدت بہت زیادہ بڑھ چکی ہے اور عالمی کپ جیسے بڑے ٹورنامنٹ میں مسلسل کئی میچوں کے دوران اسی شدت کو برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔
کوہلی نے کہا کہ 50 اوورز کے ورلڈ کپ میں کھلاڑیوں کو ایک ہی دن میں طویل دورانیے تک انتہائی شدت کے ساتھ کھیلنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ پورے ٹورنامنٹ میں کئی میچز کھیلنے اور ہر مقابلے میں بہترین کارکردگی دکھانے کے لیے جسمانی اور ذہنی طور پر مضبوط تیاری ضروری ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس مرتبہ عالمی کپ غیرملکی حالات میں ہوگا، جہاں مختلف پچز، موسم اور میدان کھلاڑیوں کے لیے اضافی چیلنج پیدا کرسکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے حالات میں کئی میچوں تک اپنی کارکردگی کا معیار برقرار رکھنا آسان نہیں ہوتا۔
دوسری جانب بھارتی ٹیم کے سابق کپتان روہت شرما نے بھی عالمی کپ کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ 39 سالہ روہت نے کہا کہ جب تک کوئی کھلاڑی کرکٹ کھیل رہا ہے، اس کے لیے یہ سوچنا درست نہیں کہ اس کا کام مکمل ہوچکا ہے۔ ان کے مطابق کھیل میں ہمیشہ کچھ نیا حاصل کرنے کے مواقع موجود رہتے ہیں اور وہ بھی آئندہ چیلنجز پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔
روہت شرما نے کہا کہ ورلڈ کپ اور آئی سی سی کے بڑے ٹورنامنٹس میں ہر مرتبہ ایک منفرد چیلنج سامنے آتا ہے، کیونکہ ٹیموں کو مختلف حریفوں کے خلاف مختلف مقامات پر کھیلنا پڑتا ہے۔ ایسے مقابلوں کے لیے کھلاڑیوں کو اپنی تیاری اور حکمت عملی بھی حالات کے مطابق تبدیل کرنا ہوتی ہے۔
اگلے سال ہونے والے ون ڈے ورلڈ کپ کی میزبانی جنوبی افریقہ، زمبابوے اور نمیبیا مشترکہ طور پر کریں گے۔ ویراٹ کوہلی کے لیے یہ ٹورنامنٹ خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ وہ پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ بھارت کی جانب سے یہ ان کا آخری ورلڈ کپ ہوگا اور ان کی خواہش ٹرافی کے ساتھ اپنے عالمی کپ سفر کا اختتام کرنا ہے۔



