صلہ رحمی کی فضیلت-شاداؔب رضا، گورکھپوری
"رشتوں کو جوڑنے والوں کیلئے باغات، اچھا انجام اور سلامتی کی خوشخبری ہے
صلہ رحمی سے مراد ہے اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ اچھے اور بہتر تعلقات قائم کرنا، آپس میں اتفاق و اتحاد سے رہنا، دکھ، درد، خوشی اور غمی میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ چلنا، آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ رکھنا، ایک دوسرے کے ہاں آنا جانا۔ الغرض اپنے رشتہ کو اچھی طرح سے نبھانا اور ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنا، ان پر احسان کرنا، ان پر صدقہ و خیرات کرنا، اگر مالی حوالے سے تنگدستی اور کمزور ہیں تو ان کی مدد کرنا اور ہر لحاظ سے ان کا خیال رکھنا صلہ رحمی کہلاتا ہے۔
یہ نافرمان وہ لوگ ہیں،جو اللہ کے عہد کو اس سے پختہ کرنے کے بعد توڑتے ہیں، اور اس (تعلق) کو کاٹتے ہیں جس کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے اور زمین میں فساد بپا کرتے ہیں، یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت مبارکہ میں ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات جوڑنے کا حکم دیا ہے، اگر اس کے خلاف کریں گے تو یقیناً دنیا و آخرت میں نقصان اٹھانے والے ہونگے۔ اسی طرح بے شمار آیات میں اللہ تعالیٰ نے صلہ رحمی کا حکم دیا ہے۔ قرآن و حدیث میں رشتوں کا پاس رکھنے اور رشتے جوڑے رکھنے کی تلقین بار بار کی گئی ہے ۔ جو لوگ صلہ رحمی کرتے ہیں ان کیلئے باغات، اچھا انجام اور سلامتی کی خوشخبری ہے اور جو رشتوں کو توڑتے ہیں، قطع رحمی کرتے ہیں ان کیلئے دنیا اور آخرت دونوں میں رسوائی ہے۔
رسول اللہ فرماتے ہیں”رشتوں کو جوڑنے والوں کیلئے باغات، اچھا انجام اور سلامتی کی خوشخبری ہے، رشتے داروں کی بے اعتنائی، ناشکری اور زیادتی کے باوجود ان سے حُسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے، بیشک سب نیکیوں میں جلد تر ثواب پانے والا عمل صلہ رحمی ہے: (السنن الکبری)۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی وہ روایت کرتے ہیں کہ رسول الله نے ارشاد فرمایا ” صلہ رحمی وہ نہیں کرتا جو صرف صلہ رحمی کرنے والوں ہی سے بنا کر رکھے، صلہ رحمی تو وہ کرتا ہے کہ جب قطع رحمی کی جائے تو وہ صلہ رحمی کرے ۔(بخاری)
صلہ رحمی کب کی جائے : عام طور پر یہ تصور پایا جاتا ہے کہ صلہ رحمی برابری کے ساتھ ہونی چاہیے۔ اگر کوئی رشتے دار اچھا سلوک کرے تو اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا چاہیے اور جس کا سلوک اچھا نہ ہو تو اس سے تعلق رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ حالانکہ صلہ رحمی کا تصور یہ نہیں ہے۔ نبی کریم ﷺ نے تو یہ تعلیم دی ہے کہ جو قطع رحمی کرے اس کے ساتھ بنا کر رکھنا صلہ رحمی کہلاتا ہے۔
احادیث میں بغیر کسی قید کے رشتے داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے اور ان سے تعلق جوڑے رکھنے کا حکم آیا ہے۔ صلہ رحمی اتنی اہم معاشرتی قدر ہے کہ تمام شریعتوں میں اس کا مستقل حکم رہا ہے اور تمام امتوں پر یہ واجب ٹھہرائی گئی ہے۔ اولادِ یعقوب علیہ السلام کے توحید پر ایمان لانے اور والدین سے حسنِ سلوک کے بعد اعزا و اقرباء سے صلہ رحمی کا عہد لیا گیا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے’’اور (یاد کرو)جب ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ وعدہ لیا کہ اللہ کے سوا (کسی اور کی) عبادت نہ کرنا، اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اور قرابت داروں کے ساتھ بھلائی کرنا۔‘‘
امیر المومنین حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے خالہ زاد بھائی جو کہ غریب و نادار و مہاجر اور بدری صحابی تھے۔ حضرت مسطح رضی اللہ عنہ جن کا آپ خرچ اٹھاتے تھے۔ ان سے سخت رنج پہنچا اور وہ رنج یہ تھا کہ انہوں نے آپ کی پیاری بیٹی یعنی ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے والوں کا ساتھ دیا تھا۔ اس پرصدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے حضرت مسطح بن امامہ رضی الله عنہ کو خرچ نہ دینے کی قسم کھا لی۔ تو پارہ 18 سورۃ النور کی آیت نمبر 22 نازل ہوئی۔
ترجمہ: اور تم میں فضیلت والے اور (مالی) گنجائش والے یہ قسم نہ کھائیں کہ وہ رشتے داروں اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو (مال) نہ دیں گے اور انہیں چاہیے کہ معاف کردیں اور دَرگزر کریں، کیا تم اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہاری بخشش فرمادے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
ذخیرۂ احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلہ رحمی کےفائدے بتلاتے ہوئے کہیں تو اس کورزق کی فراخی کا سبب، کہیں عمر دراز ہونے کاذریعہ، کہیں رشتہ داروں کی باہمی محبتوں کی زیادتی کاسبب، کبھی رحمتوں کے نزول کاوسیلہ، کہیں جہنم جیسے عذاب سے خلاصی کا ذریعہ، یہاں تک کہ جنت جیسی عظیم نعمت کے حصول کا سبب قرار دیا۔ حضرت انس ؓفرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص چاہتاہےکہ اس کےرزق میں فراخی اور عمر میں برکت ہو تو اسے چاہیے کہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرے۔‘‘
رشتہ داروں سے حُسنِ سلوک کرنے کے ساتھ ساتھ ان سے تعلق میں ہمیشگی کو ملحوظ رکھنا، ان کی مدد و خیر خواہی کرنا، غم خوشی اور دُکھ درد میں ان کے ساتھ شریک ہونا، تقاریب و تہوار میں انہیں مدعو کرنا، ان کی دعوتوں میں شرکت کرنا اور اس طرح کے دیگر سب نیک کام صلہ رحمی میں شامل ہیں۔
صلہ رحمی (رشتے داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے) کا یہ مطلب نہیں کہ وہ سلوک کرے توتب ہم بھی کریں، یہ چیز تو در حقیقت مکافاة یعنی اَدلا بدلی کرنا ہے۔ حقیقتا صلہ رحم (یعنی رشتے داروں سے حُسنِ سلوک) یہ ہے کہ وہ کاٹے اور تم جوڑو، وہ تم سے جُدا ہونا چاہتا ہے، بے اعتنائی (یعنی لاپرواہی) کرتا ہے اور تم اُس کے ساتھ رشتے کے حقوق کی مراعات (یعنی لحاظ ورعایت) کرو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بتلائی ہوئی ان تعلیمات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ان پر عمل کیا جائے اور ان تعلیمات کو معاشرہ میں عام کیا جائے اور اس کی تعلیم سے ان کے سینوں کو مزین کرنے کے ساتھ ساتھ ان اصولوں کو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذخیرۂ احادیث میں ہمیں ملتے ہیں، ان کو اصلاحِ معاشرہ کے لیے بروئے کار لایا جائے، تاکہ معاشرے میں روز مرہ کی بنیاد پر پیش آنے والے نِت نئے مسائل کا حل تلاش کیا جاسکے۔



