سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

ماہ ِ’’جمادی الاُخریٰ‘‘ کی فضیلت

یہ مہینہ عربی زبان کے دولفظوں ’’جمادی‘‘اور’’ الاُخریٰ ‘‘ کامجموعہ ہے۔جمادی ’’جمد‘‘ سے نکلا ہے ، جس کے معنی ’’منجمد ہوجانے، جم جانے ‘‘ کے ہیں اور ’’ الاُخری ٰ‘‘ کے معنی ہیں: دوسرا تو جمادی الاُخریٰ کے معنی ہوئے ’’دوسری جم جانے والی چیز‘‘

جس زمانے میں اس مہینے کا نام رکھا گیا تھا، عرب میں اُس وقت سردی کا موسم تھا ، جس کی وجہ سے پانی جم جاتا تھا، اور یہ سردی کے موسم کا دوسرا مہینہ تھا، اس وجہ سے اس مہینے کا نام ’’ جمادی الاُخریٰ‘‘( سردی کادوسرا مہینہ) رکھا گیا ۔

فائدہ:

۱۔علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عربی زبان میں ’’جمادی‘‘ کا لفظ مذکر اور مؤنث دونوں طرح استعمال ہوتا ہے، چنانچہ ’’ جمادی الآخر‘‘ اور ’’جمادی الآخری ‘‘ دونوں طرح کہنا درست ہے۔

۲۔ اردو میں اس مہینے کو ’’جمادی الثانی ‘‘یا ’’جمادی الثانیۃ‘‘ کہتے ہیں ، جبکہ اہل ِ عرب کے ہاں یہ درست نہیں ہے ، کیونکہ ’’ثانی ‘‘ اس مقام پر آتا ہے ، جس کے بعد ثالث بھی ہو، اس لیے بہتر یہی ہے کہ اس مہینے کو ’’ جمادی الاُخریٰ‘‘ کہا جائے۔

ماہ ِ’’جمادی الاُخریٰ‘‘ کے اَعمال:

قرآن وسنت کی روشنی میں اس مہینے سے متعلق مخصوص اَعمال کا کوئی ثبوت نہیں ملتا، اس لیے اس ماہ سے متعلق اپنی جانب سے اعمال وعبادات بیان کرنا شریعت میں زیادتی ہے جو کہ ناجائز ہے، لہذ اجو مسنون اعمال دیگر ایام میں کیے جاتے ہیں ، وہ اس مہینے میں بھی کیے جائیں ،جیسے ایام بیض (قمری مہینے کی تیرہ، چودہ اور پندرہ) مستحب ہیں، ان کا رکھنا فضیلت کا باعث ہے۔

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : صَوْمُ ثَلَاثَةٍ مِنْ کُلِّ شَهْرٍ، وَرَمَضَانَ إِلَی رَمَضَانَ صَوْمُ الدَّهْرِ. ترجمہ:ہر ماہ تین دن کے روزے رکھنا اور ایک رمضان کے بعد دوسرے رمضان کے روزے رکھنا یہ تمام عمر کے روزوں کے مترادف ہے۔(صحیح مسلم،حدیث نمبر:۱۱۶۲)

ماہ ِ’’جمادی الاُخریٰ‘‘رسوم و بدعات:

اس مہینے میں ہمارے علاقوں میں کوئی خاص رسم اور بدعت رائج نہیں ہے۔

ماہ ِ’’جمادی الاُخریٰ‘‘کے مخصوص نوافل کا حکم:

بعض لوگ ماہ ِ’’جمادی الاخریٰ‘‘ میں مخصوص نوافل کا اہتمام کرتے ہیں۔واضح رہے کہ اس قسم کی مخصوص نمازوں کا قرآن و حدیث سے کوئی ثبوت نہیں ہے، اس لیے ان نمازوں کا اس طرح سے التزام نہ کیا جائے، جس کو شریعت نے منع کیا ہو، کیونکہ ہر مباح کام کو اپنے اوپر لازم کرلینے سے شرعاً وہ مکروہ ہو جاتا ہے، اور ان نمازوں کے پڑھنے پر مخصوص ثواب کا اعتقاد بھی نہ رکھے۔

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہمیں اپنے اوقات کی قدر کرنے اور اس میں خوب عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہم سب کو ہر طرح کی بدعات سے محفوظ رکھے اور سچا مومن بنائے۔آمین

متعلقہ خبریں

Back to top button