وشاکھا پٹنم:ماہی گیری بندرگاہ میں آگ لگنے سے40 کشتیاں جل کرخاکستر
آندھرا پردیش کے وشاکھاپٹنم کے ماہی گیری کے بندرگاہ میں زبردست آگ لگ گئی۔
امراواتی، 20نومبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) آندھرا پردیش کے وشاکھاپٹنم کے ماہی گیری کے بندرگاہ میں زبردست آگ لگ گئی۔ ایک کشتی سے شروع ہونے والی آگ دیکھتے ہی دیکھتے40 کشتیوں تک پھیل گئی۔ آگ پر قابو پانے کے لیے فائر بریگیڈ کی کئی گاڑیاں موقع پر پہنچ گئیں۔ پولیس نے ایک مقدمہ درج کر لیا ہے اور معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ وشاکھاپٹنم کی مچھلی بندرگاہ پر لگی آگ آدھی رات تک تقریباً 40 فائبر مشینی کشتیوں تک پھیل گئی۔پولیس اور فائر بریگیڈ نے فوری کارروائی کی۔ آگ پر قابو پالیا گیا۔ آگ لگنے کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ ڈی سی پی آنند ریڈی نے کہا کہ اس سلسلے میں ایک کیس درج کرلیا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہے۔ماہی گیروں کو شبہ ہے کہ کچھ مجرموں نے کشتیوں کو آگ لگائی ہے۔ یہ بھی شبہ ہے کہ کسی پارٹی کی وجہ سے کشتی میں آگ لگی۔ بندرگاہ کے چونکا دینے والے مناظر میں دیکھا گیا کہ فائر فائٹرز آگ بجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جبکہ ماہی گیر بے بسی سے آگ کو دیکھ رہے ہیں کیونکہ ان کا ذریعہ معاش تباہ ہو گیا ہے۔
کچھ کشتیوں میں دھماکے بھی ہوئے۔جس سے علاقے میں خوف وہراس پھیل گیا۔ ڈی سی پی آنند ریڈی نے بتایا کہ آگ رات تقریباً 11:30 بجے لگی۔عینی شاہد کا کہناہے کہ پولیس نے مقامی لوگوں سے کہا کہ کشتیوں پر لگے سلنڈر دھماکے کر سکتے ہیں۔ اس لیے ہمیں دور رہنے کا مشورہ دیاگیا۔ فائر انجنوں نے آگ پر قابو پالیا ہے۔ آگ لگنے کی وجہ کی ابھی تک تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور تفتیش جاری ہے۔انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق وشاکھاپٹنم کے ماہی گیروں نے بتایا کہ آگ لگنے سے 40 کے قریب ماہی گیری کی کشتیاں جل گئیں۔ ہر کشتی کی قیمت کم از کم 40 لاکھ روپے تھی۔ قابل ذکر ہے کہ ابھی کچھ دن قبل آندھرا پردیش کے باپٹلا ضلع کے نظام پٹنم بندرگاہ پر ایک مشینی ماہی گیری کی کشتی میں آگ لگنے سے دو افراد زخمی ہو گئے تھے۔



