بین ریاستی خبریںسرورق

لاؤڈاسپیکر اور مساجد کی دستاویزات کی تفتیش کیلئے وشوہندو پریشد اوربجرنگ دل کی ناپاک ’مہم ‘

بھوپال،18فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مسئلہ حجاب کے جلو میں اب ملک میں ایک اور نیاہنگامہ پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ اور اس ہنگامہ کا باعث وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل ہوسکتی ہے ۔ اس تناظر میں موصولہ اطلاع کے مطابق مدھیہ پردیش میں بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد نے مساجد اور لاؤڈ اسپیکر کے خلاف مہم شروع کر دی ہے،جس سے امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔

مدھیہ پردیش کے اندور سے شروع ہونے والی مہم کی گرمی اب مالوا سے ہوتی ہوئی مہاکوشل تک پہنچ گئی ہے۔کچھ دن پہلے اندور کے کچھ وکلاء نے لاؤڈ اسپیکر کے ذریعہ اذان دینے کے خلاف مہم شروع کی تھی، اب اس پرمستزاد یہ کہ وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل نے ایک نیا راگ الاپ دیا ہے۔

اس سلسلے میں وی ایچ پی اور بجرنگ دل کے کارکن مساجد سے لاؤڈ اسپیکر ہٹانے کے مطالبہ کے ساتھ ساتھ اس کے لیے دستاویزات بھی مانگے جانے کا مطالبہ کرر ہے ہیں۔ اس کے لیے مساجد کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے مہم چلائی جا رہی ہے۔

اس سلسلے میں بجرنگ دل اور وشو ہند پریشد نے انتظامیہ کو میمورنڈم سونپا ہے۔ وہیں مسلم تنظیموں نے پورے معاملہ پر شیوراج سنگھ حکومت کی خاموشی پر تنقید کی ہے۔وشو ہندو پریشد جبل پور کے رہنما سمت سنگھ ٹھاکر کا کہنا ہے کہ وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کی جانب سے گاما پور پولیس اسٹیشن میں ایک میمورنڈم پیش کیا گیا ہے

اس میں بتایا گیا ہے کہ یہاں کی تین مساجد میں لاؤڈ سپیکر اتنے زور سے بجائے جاتے ہیں کہ بچے پڑھائی نہیں کر پاتے، خواتین بھی اپنا کام نہیں کر پاتی ۔ بعض اوقات لاؤڈ سپیکر اتنی اونچی آواز میں بجایا جاتا ہے کہ دم گھٹنے لگتا ہے۔

ہم نے میمورنڈم دیا ہے،میمورنڈم میں تمام مساجد کے دستاویزات کی تصدیق کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ الزام ہے کہ یہاں کی تمام مساجد سرکاری زمین پر بنی ہیں، ان کے پاس کوئی دستاویزات نہیں ہیں، نیز ان مساجد میں مدارس بھی چل رہے ہیں۔

بجرنگ دل لیڈر کے مطابق گاما پور تھانہ علاقہ میں جرائم کو فروغ دینے میں مبینہ طور پر ان مساجد کا ہاتھ ہے۔دریں اثنا تحصیلدار شیام نند چندیل نے کہا کہ وشو ہندو پریشد نے غیر قانونی طور پر بنائی گئی مساجد کے معائنہ کے لیے میمورنڈم دیا ہے،

یہ غیر قانونی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے،اس معاملے کی تحقیقات کی جائیں گی۔ جو بھی ہوگا قانونی طریقے سے نمٹا جائے گا۔ادھر مدھیہ پردیش اقلیتی مشترکہ تنظیم نے وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے مطالبے کو فرقہ وارنہ تعصب اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔

اقلیتی یونائیٹڈ آرگنائزیشن کے سیکرٹری عبدالنفیس کا کہنا ہے کہ مسجد کبھی بھی مقبوضہ زمین پر نہیں بنائی جاتی،حکومت قانون بنائے اور لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی عائد کرے، تمام مذاہب کے پروگرام میں صوتی آلودگی پیدا ہوتی ہے ، ایسا صرف مساجد کی نمازوں سے نہیں ہوتا حکومت اس پر نظر رکھتے ہوئے قانون مرتب کرے ،

جو لوگ مساجد کو اپنی پست ذہنیت کا نشانہ بنا رہے ہیں، حکومت ان کے خلاف کارروائی کرے، حکومت کی خاموشی نہ صرف ان کا حوصلہ بڑھا رہی ہے،بلکہ ایسے عناصر کی کارروائیاں امن و امان کے لیے خطرہ بھی ہیں ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button