سرورققومی خبریں

سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ: نابینا امیدوار بھی جج بن سکتے ہیں

نابینا اور بصارت سے محروم امیدواروں کو عدالتی خدمات میں تقرری سے روک دیا گیا تھا۔

نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)بھارت کی سپریم کورٹ نے ایک اہم اور تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ نابینا اور بصارت سے محروم امیدواروں کو جوڈیشل سروس میں ملازمت حاصل کرنے سے نہیں روکا جا سکتا۔ عدالت نے مدھیہ پردیش کے اس قاعدے کو بھی غیر آئینی قرار دیا، جس کے تحت نابینا افراد کو عدالتی خدمات میں تقرری سے محروم رکھا گیا تھا۔

فیصلے کی تفصیلات

جسٹس جے بی پارڈیوالا اور جسٹس آر مہادیون کی بنچ نے کہا کہ جسمانی معذوری کی بنیاد پر کسی بھی امیدوار کو عدلیہ میں خدمات انجام دینے سے روکا نہیں جا سکتا۔ عدالت نے مزید کہا کہ ریاستی حکومت کو معذور افراد کی حوصلہ افزائی کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ انہیں برابری کے مواقع مل سکیں۔

چھ درخواستوں پر فیصلہ

سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ چھ مختلف درخواستوں پر دیا، جن میں عدالتی خدمات میں نابینا امیدواروں کے لیے ریزرویشن نہ دیے جانے کے خلاف درخواستیں شامل تھیں۔ عدالت نے مدھیہ پردیش سیو ایگزامینیشن رولز 1994 کی بعض دفعات کو غیر آئینی قرار دے کر منسوخ کر دیا اور راجستھان جوڈیشل سروس امتحان میں معذور امیدواروں کے لیے الگ سے کٹ آف نہ دینے کے معاملے پر بھی سماعت کی۔

متاثرہ امیدواروں کو دوسرا موقع

عدالت نے حکم دیا کہ جو نابینا امیدوار جوڈیشل سروس امتحان میں شریک ہو چکے ہیں، انہیں دوبارہ منتخب ہونے کا موقع دیا جائے گا۔ اگر وہ تمام مطلوبہ اہلیت پر پورا اترتے ہیں تو انہیں خالی آسامیوں پر تعینات کیا جائے گا۔

فیصلے کا پس منظر: ایک ماں کی درخواست

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک نابینا امیدوار کی ماں نے سابق چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑ کو خط لکھا۔ عدالت نے اس خط کو آئین کے آرٹیکل 32 کے تحت درخواست کے طور پر قبول کیا اور کیس کی سماعت شروع ہوئی۔ سپریم کورٹ نے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے رجسٹرار جنرل، مدھیہ پردیش حکومت اور مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا اور سماعت کے بعد پایا کہ امتحانات میں نابینا امیدواروں کو ریزرویشن نہیں دیا گیا تھا۔

قانونی ماہرین اور سماجی حلقوں کی جانب سے خیر مقدم

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ معذور افراد کے لیے برابری، انصاف اور شمولیت کی ایک بڑی کامیابی ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف معذور افراد کے حقوق کو تحفظ دے گا بلکہ انہیں عدالتی نظام کا ایک اہم حصہ بننے کا موقع بھی فراہم کرے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button