
ووٹر آئی ڈی کارڈ اور ووٹرلسٹ کو آدھار کارڈ سے جوڑا جائے گا،متعدد اصلاحات کی جائیں گی
نئی دہلی19دسمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)حکومت پیر کو لوک سبھا میں انتخابی اصلاحات سے متعلق ایک بل پیش کرے گی۔ یہ جانکاری لوک سبھا کے ایک بلیٹن میں دی گئی ہے۔پی ٹی آئی نے بتایاہے کہ بلیٹن میں کہاگیاہے کہ الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2021 پیر کو ایوان زیریں کی کاروباری فہرست میں درج ہے، جسے قانون اور انصاف کے وزیر کرن رجیجو پیش کریں گے۔
اس بل کے ذریعے عوامی نمائندگی ایکٹ 1950 اور عوامی نمائندگی ایکٹ 1951 میں ترمیم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔مرکزی کابینہ نے بدھ کو انتخابی اصلاحات سے متعلق مسودہ بل کو اپنی منظوری دے دی ہے۔ مسودہ بل میں کہا گیا ہے کہ ووٹر لسٹ میں نقل اور بوگس ووٹنگ کو روکنے کے لیے ووٹر کارڈ اور لسٹ کو آدھار کارڈ سے جوڑ دیا جائے گا۔
کابینہ کے منظور کردہ بل کے مطابق انتخابی قانون کو فوجی ووٹرز کے لیے صنفی غیر جانبداربنایاجائے گا۔مجوزہ بل کو پارلیمنٹ کی منظوری ملنے کے بعد حالات بدل جائیں گے۔
الیکشن کمیشن نے وزارت قانون سے کہا تھا کہ وہ عوامی نمائندگی ایکٹ میں فوجی ووٹروں سے متعلق دفعات میں لفظ بیوی کوشوہر میں تبدیل کرے۔ اس کے تحت ایک اور شق میں کہا گیا ہے کہ نوجوانوں کو ہر سال چار تاریخوں کو بطور ووٹر رجسٹر کرنے کی اجازت دی جائے۔
فی الحال یکم جنوری کو یا اس سے پہلے 18 سال کے ہونے والوں کو بطور ووٹر رجسٹر کرنے کی اجازت ہے۔الیکشن کمیشن اہل لوگوں کو ووٹر کے طور پر رجسٹر کرنے کی اجازت دینے کے لیے کئی کٹ آف تاریخوں کی وکالت کر رہا ہے۔
کمیشن نے حکومت سے کہا تھا کہ یکم جنوری کی کٹ آف ڈیٹ کی وجہ سے بہت سے نوجوان ووٹر لسٹ کے استعمال سے محروم ہیں۔ صرف ایک کٹ آف ڈیٹ کے ساتھ، 2 جنوری کو یا اس کے بعد 18 سال کی عمر مکمل کرنے والے افراد رجسٹر نہیں کر سکے اور انہیں رجسٹریشن کے لیے اگلے سال کا انتظار کرنا پڑاہے۔
پارلیمنٹ کے جاری سرمائی اجلاس میں قانون و انصاف کی پارلیمانی کمیٹی کی طرف سے پیش کی گئی ایک حالیہ رپورٹ میں کہاگیاہے کہ وزارت قانون عوامی نمائندگی ایکٹ کی دفعہ 14-B میں ترمیم کرنا چاہتی ہے۔ اس ترمیم میں ووٹر رجسٹریشن کے لیے چار کٹ آف تاریخیں – یکم جنوری،یکم اپریل ، جولائی اور اکتوبر ہر سال رکھنے کی تجویز ہے۔
مارچ کے شروع میں، اس وقت کے وزیر قانون روی شنکر پرساد نے لوک سبھا میں ایک سوال کے جواب میں بتایا تھا کہ الیکشن کمیشن نے آدھار سسٹم کو ووٹر لسٹ کے ساتھ جوڑنے کی تجویز دی ہے، تاکہ کوئی شخص مختلف جگہوں سے کئی بار رجسٹریشن نہ کر سکے۔پارلیمنٹ کا موجودہ سرمائی اجلاس 23 دسمبر تک جاری رہے گا اور اب اس کی کل چار نشستیں مقرر ہیں۔
لکھیم پور کھیری تشدد معاملے میں، وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کے ہنگامہ آرائی کی وجہ سے گزشتہ چند دنوں میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی کارروائی میں خلل پڑا ہے۔ ایسے میں مانا جا رہا ہے کہ حکومت کے لیے بلوں پر بحث کرنا اور پاس کرنا چیلنج ہو گا۔



