قومی خبریں

صدارتی انتخابات روس میں ،مگر کیرالہ سے بھی ہو رہی ہے ووٹنگ

کیرالہ کے ترواننت پورم میں ووٹ ڈالے جا رہے

نئی دہلی،15مارچ:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)روس میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے کیرالہ کے ترواننت پورم میں ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ کیرالہ میں رہنے والے روسی شہریوں نے روسی صدارتی انتخابات کے لیے ترواننت پورم میں روسی فیڈریشن کے اعزازی قونصلیٹ کے روسی ہاؤس میں خصوصی طور پر قائم پولنگ بوتھ پر اپنا ووٹ ڈالا۔روس کے اعزازی قونصل اور ترواننت پورم میں روسی ہاؤس کے ڈائریکٹر رتیش نائر نے کہا کہ یہ تیسرا موقع ہے جب انہوں نے روسی صدارتی انتخابات کے لیے ووٹنگ کا اہتمام کیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے کیرالہ میں ووٹنگ کے عمل میں تعاون کے لیے روسی شہریوں کا شکریہ ادا کیا۔ اے این آئی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں رتیش نائر نے کہا کہ روسی فیڈریشن کا قونصلیٹ جنرل تیسری بار روسی صدارتی انتخابات کے لیے ووٹنگ کی میزبانی کر رہا ہے۔ یہ واقعی یہاں رہنے والے روسیوں کے لیے اور سیاحوں کے لیے بھی ہے۔ سینٹرل الیکشن کمیشن روسی فیڈریشن کے ساتھ منسلک ہونے پر ہمیں خوشی ہے۔ میں کیرالہ میں روسی شہریوں کا انتخابی عمل میں ہمارے نئے صدر کو ووٹ دینے میں تعاون اور جوش و خروش کے لیے بے حد مشکور ہوں۔

چنئی میں سینئر قونصل جنرل سرگئی ازوروف نے کہا کہ ہم صدارتی انتخابات کے لیے قبل از وقت ووٹنگ کا اہتمام کر رہے ہیں۔ ہم یہاں ہندوستان میں رہنے والے روسی فیڈریشن کے شہریوں کو ایک موقع دے رہے ہیں۔ روسی شہری اولیا نے کہا کہ کیرالہ میں رہنے والے روسی عوام روسی ہاؤس اور ہندوستان میں قونصلیٹ جنرل کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے صدارتی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا موقع دیا۔ اولیا نے اے این آئی کو بتایا کہ آج آنے والے تمام لوگ روسی شہری ہیں، وہ یا تو مستقل طور پر ہندوستان میں رہ رہے ہیں یا پھر سیاح ہیں۔ یہاں آنے اور انتخابات کا حصہ بننے پر ہر کوئی شکر گزار اور خوش ہے۔

روس کے ہر شہری کے لیے ایک پیغام ہے۔ یہ ہندوستان کے لیے بہت اہم ہے۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے۔ اس لیے، ہم سب روسی ہاؤس اور چنئی میں ہندوستان کے قونصلیٹ جنرل کے شکر گزار ہیں کہ ہمیں یہ موقع فراہم کیا گیا۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ روس میں 15 سے 17 مارچ کے درمیان صدارتی انتخابات ہو رہے ہیں۔ ہندوستان میں موجود روسی شہری جمعہ سے اتوار تک ملک کے 11 ٹائم زونز میں ووٹ ڈال سکیں گے۔سی این این کی رپورٹ کے مطابق روسی صدر ولادی میر پوتن کے مقابلے میں تین امیدوار میدان میں ہیں۔

پوتن کے مقابلے میں کھڑے ہونے والے تین امیدوار لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے لیونیڈ سلٹسکی، نیو پیپلز پارٹی کے ولادیسلاو ڈیوانکوف اور کمیونسٹ پارٹی کے نکولے کھریٹونوف ہیں۔ تینوں کو کریملن کا حامی سمجھا جاتا ہے۔ خبر کے مطابق ان میں سے کوئی بھی یوکرین کے خلاف روس کی فوجی کارروائی کے خلاف نہیں ہے۔سی این این کی رپورٹ کے مطابق اپوزیشن کے زیادہ تر امیدوار یا تو مر چکے ہیں یا جیل میں ہیں یا پھر انہیں الیکشن لڑنے سے روک دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پوتن کی جیت تقریباً یقینی سمجھی جا رہی ہے۔ اگر پوتن دوبارہ صدر منتخب ہوتے ہیں تو ان کی مدت ملازمت 2030 تک بڑھ جائے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button