لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل پیش، کرن رجیجو کا بڑا بیان
اگر ہم آج یہ ترمیم پیش نہ کرتے تو جس پارلیمنٹ ہاؤس میں ہم بیٹھے ہیں، اس پر بھی وقف املاک ہونے کا دعویٰ کیا جا سکتا تھا۔" – کرن رجیجو
نئی دہلی، 2 اپریل :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مرکزی پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے بدھ کے روز لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل پیش کیا۔ بل پر بحث کے دوران انہوں نے کہا کہ حکومت کو 97,27,772 درخواستیں آن لائن، میمورنڈا اور تجاویز کی شکل میں موصول ہوئیں، جبکہ 284 وفود نے اپنی تجاویز پیش کیں۔ ان کے مطابق، یہ کسی بھی بل کے حوالے سے موصول ہونے والی درخواستوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
کرن رجیجو نے کہا کہ 2013 میں یو پی اے حکومت نے وقف بورڈ کو اتنے وسیع اختیارات دیے کہ اس کے کسی بھی حکم کو سول عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر اس وقت کی حکومت اسی پالیسی پر عمل جاری رکھتی، تو پارلیمنٹ ہاؤس، ایئرپورٹس اور دیگر اہم عمارتیں بھی وقف املاک قرار دی جا سکتی تھیں۔
وقف املاک پر تنازعہ
کرن رجیجو نے انکشاف کیا کہ دہلی میں 1977 سے ایک مقدمہ چل رہا تھا، جس میں سی جی او کمپلیکس اور پارلیمنٹ ہاؤس سمیت متعدد جائیدادوں کو دہلی وقف بورڈ نے اپنی ملکیت قرار دیا تھا۔ یو پی اے حکومت نے اس معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے تمام اراضی وقف بورڈ کے حوالے کر دی، جس پر کئی سوالات اٹھے۔
اپوزیشن کا سخت احتجاج
بل پیش ہوتے ہی اپوزیشن جماعتوں، خصوصاً کانگریس نے سخت اعتراضات اٹھائے۔ کانگریس لیڈروں نے کہا کہ انہیں بل کی کاپی دیر سے موصول ہوئی، جس کے باعث مناسب جائزہ نہیں لیا جا سکا۔
کانگریس کے ڈپٹی لیڈر گورو گوگوئی نے کہا کہ حکومت نے ایک ایسا قانون متعارف کرایا ہے جو "غیر آئینی، اقلیت مخالف اور قومی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے والا” ہے۔
حکومت کا مؤقف
کرن رجیجو نے کہا کہ وقف ایکٹ 1923 میں پہلی بار نافذ کیا گیا تھا، اور 1995 میں وقف ٹربیونل کا قیام عمل میں آیا، جہاں کوئی بھی شخص وقف بورڈ کے فیصلے کو چیلنج کر سکتا ہے۔ اس وقت یہ بھی طے کیا گیا تھا کہ اگر کسی وقف املاک سے 5 لاکھ روپے سے زیادہ آمدنی ہو تو حکومت ایک ایگزیکٹو افسر تعینات کرے گی۔



