بین الاقوامی خبریں

کیا یکم اکتوبر کو ایران کا اسرائیل پر حملہ اسٹرٹیجک نہیں،ٹیکٹکل اقدام تھا؟

کیا یکم اکتوبر کو ایران کا اسرائیل پر حملہ اسٹرٹیجک نہیں،ٹیکٹکل اقدام تھا؟

نیویارک، 26اکتوبر (ایجنسیز )

ایران کے اسرائیل پر دو سو کے قریب میزائل حملوں اور تل ابیب کی جانب سے تہران کو سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیوں کے بعد مبصرین کا کہنا ہے کہ اطراف سے جاری عسکری اقدامات نے مشرق وسطی میں جنگ کے خطرات کو اچانک کئی درجے بڑھا دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق صورتحال نے امریکی کردار کو بھی کئی حوالوں سے نمایاں کر دیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے وسیع تر جنگ میں تبدیل ہونے پر دو بڑے عوامل اثر انداز ہوں گے۔ ایک یہ کہ ایران اپنی حمایت یافتہ عسکریت پسند تنظیموں کو پہنچنے والے نقصان کے وقت کیا آپشنز استعمال کرتا ہے۔

دوسرا یہ کہ اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کہاں تک اس جنگ کو پھیلانے کے لیے تیار ہیں؟واشنگٹن میں قائم مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے ماہر اور بین الاقوامی تعلقات کے نائب صدر پال سیلم کہتے ہیں کہ حسن نصراللہ کی ہلاکت نے خطے میں زلزلے کا کام کیا ہے۔ اس واقعہ کے بعد تہران اپنے آپ کو بہت غیر محفوظ سمجھ رہا ہے۔ان پر خطر حالات میں ایران کے آپشنز پر سیلم کہتے ہیں کہ ایران کی ایک راہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ کشیدگی میں کمی لانے، اسرائیل کے حملے کی شدت میں کمی کرنے، اسے سست کرنے یا روکنے کے لیے راستہ تلاش کرنے کی کوشش کرے۔

بیروت میں مقیم سیلم کے بقول ایران کے آپشنز میں یہ بھی شامل ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی مجموعی حکمت عملی پر نظرثانی کرے اور حزب اللہ کی قیادت اور صلاحیتوں کو از سر نو تعمیر کرے۔ان کے مطابق تہران یہ آپشن بھی اختیار کرسکتا ہے کہ وہ اپنی سلامتی کے لیے ایک زیادہ طاقتور ڈیٹرنٹ بنائے، جو ایک جوہری ہتھیار ہوگا۔لیکن اس کے لیے ہو سکتا ہے بہت دیر ہو چکی ہو۔ اگر ایران اب اس کے لیے بھاگ دوڑ کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو اسرائیل، امریکہ کی حمایت کے ساتھ، ایرانی سکیوریٹی اور جوہری تنصیبات،اور دیگر پر جہاں تک ممکن ہو سکے گا فضائی حملے کرے گا۔

”اس صورت حال میں، سیلم کے مطابق، تہران حکومت کو بڑا دھچکا لگ سکتا ہے۔تاہم مشرق وسطی کے ماہر نے کہا کہ ان سب ممکنات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ نیتن یاہو آگے کی کیا پالیسی اختیار کرتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ممکنہ اسرائیلی اقدامات کے نتیجے میں حماس اور حزب اللہ سمیت ایران کی حمایت یافتہ اور مشرق وسطی میں فعال تنظیموں کے رہنماؤں کے قتل کے بعد تہران سمجھتا ہے کہ نئے چیلنجز کی بھرمار کی اس صورت حال میں اسے کچھ نہ کچھ جوابی کارروائی کرنی چاہیے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button