بین الاقوامی خبریں

مذاکرات کا مستقبل غیر یقینی، ایران کے خلاف اسرائیلی آپشن پر واشنگٹن میں بحث

واشنگٹن کی حکمتِ عملی: مذاکرات ناکام ہوئے تو ایران پر حملہ اسرائیل کرے گا

واشنگٹن 26 فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکی انتظامیہ ایک بار پھر ایران کے معاملے پر سخت اور نرم حکمتِ عملی کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جنیوا میں ایٹمی پروگرام سے متعلق ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے باوجود واشنگٹن میں فوجی آپشن مکمل طور پر مسترد نہیں کیا گیا۔ باخبر ذرائع کے مطابق صدر کے قریبی مشیروں میں یہ رائے پائی جاتی ہے کہ اگر بات چیت ناکام ہو جائے تو ایران کے خلاف پہل اسرائیل کو کرنی چاہیے۔

امریکی جریدے پولیٹیکو کی رپورٹ کے مطابق بعض حکام کا خیال ہے کہ اگر اسرائیل پہلے حملہ کرتا ہے اور ایران جوابی کارروائی میں امریکی اہداف کو نشانہ بناتا ہے تو اس سے اندرونِ ملک فوجی اقدام کے لیے عوامی حمایت حاصل کرنا آسان ہو سکتا ہے۔ واشنگٹن کی پالیسی سازی سے وابستہ حلقوں میں یہ سوچ بھی پائی جاتی ہے کہ ایسی صورت میں امریکہ کے پاس براہِ راست کارروائی کا مضبوط جواز ہوگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ اسرائیلی پہل کو ترجیح دی جا رہی ہے، تاہم زیادہ امکان امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی کا بھی ہو سکتا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے حالیہ دورۂ وائٹ ہاؤس کے دوران ایرانی ایٹمی پروگرام اور بیلسٹک میزائل ڈھانچے کے خلاف سخت اقدامات پر زور دیا تھا۔

دوسری جانب سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں امریکی مذاکراتی ٹیم ایرانی وفد سے غیر معمولی نوعیت کی بات چیت کر رہی ہے۔ ایرانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی کر رہے ہیں۔ تاہم امریکی صدر کے قریبی حلقوں میں یہ تاثر موجود ہے کہ اگر سفارتی راستہ نتیجہ خیز ثابت نہ ہوا تو محدود فوجی کارروائی کا آپشن زیر غور رہے گا۔

انتظامیہ اس وقت دو اہم عوامل کا جائزہ لے رہی ہے۔ پہلا خدشہ عسکری ذخائر میں کمی کا ہے، جس سے مشرقی ایشیا میں چین کو تائیوان کے خلاف کسی ممکنہ اقدام کا موقع مل سکتا ہے۔ دوسرا خدشہ ممکنہ فوجی کارروائی کی صورت میں امریکی جانی نقصان ہے۔

امریکی دفاعی ادارے پینٹاگون اور انٹیلی جنس حکام نے خبردار کیا ہے کہ طویل المدتی حملے سے نہ صرف عسکری وسائل متاثر ہوں گے بلکہ ایران مشرق وسطیٰ یا یورپ میں غیر روایتی ردعمل بھی دے سکتا ہے۔ اگر کارروائی کا مقصد حکومت کی تبدیلی ہوا تو تہران بھرپور طاقت سے جواب دے سکتا ہے اور خطے میں موجود امریکی تنصیبات کو ہدف بنایا جا سکتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں محدود نوعیت کی ضرب لگانے کا امکان زیر غور ہے تاکہ ایران کو نئی شرائط پر معاہدے کی طرف مائل کیا جا سکے۔ تاہم ناکامی کی صورت میں وسیع تر حملے بھی خارج از امکان نہیں، جن میں ایٹمی تنصیبات اور میزائل پروگرام کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ بعض سخت گیر حلقوں میں ایران کے اعلیٰ ترین رہنما علی خامنہ ای یا پاسدارانِ انقلاب کی قیادت کو نشانہ بنانے جیسے آپشنز پر بھی بحث جاری ہے، جسے ماہرین انتہائی خطرناک قدم قرار دے رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتِ حال نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست کے لیے بھی فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر سفارتی کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے، بصورتِ دیگر ایک محدود جھڑپ وسیع علاقائی تصادم میں تبدیل ہونے کا خدشہ برقرار رہے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button