ہم نیتن یاہو حکومت کے انتہا پسندوں کو لگام نہیں ڈال سکے: جوزف بوریل
غزہ میں جنگی تباہی کے دوران دنیا کی انسانیت کہاں کھو گئی ہے: اقوام متحدہ
برسلز ، 30اگست:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)یورپین یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل نے غزہ کے لوگوں کی خاطر خواہ مدد نہ کرنے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔اس بات کا اظہار یورپین یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل نے اسرائیلی اخبار کو انٹرویو کے دوران کیا ہے۔انٹرویو میں ان کا کہنا ہے کہ ہمیں غزہ کے لوگوں کی جتنی مدد کرنی چاہیے تھی، ہم وہ نہیں کر پائے۔جوزف بوریل نے کہا ہے کہ ہم مشرقِ وسطیٰ میں امن قائم نہیں کر پائے۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ ہم نیتن یاہو کی حکومت کے انتہاپسندوں کو لگام بھی نہیں ڈال سکے۔سربراہ یورپین یونین خارجہ پالیسی کا یہ بھی کہنا ہے کہ غزہ پر ہم نے بہترین ردِ عمل دیا؛ لیکن اتنا نہیں جتنا ہمیں کرنا چاہیے تھا۔
غزہ میں جنگی تباہی کے دوران دنیا کی انسانیت کہاں کھو گئی ہے: اقوام متحدہ
جینوا ، 30اگست:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)غزہ کی تقریباً 11ماہ سے جاری جنگ کے دوران برتی گئی اسرائیلی جارحیت اور جبر کے ماحول میں اقوام متحدہ کے ادارے ‘اوچا’ کی قائم مقام سربراہ نے انسانی حقوق اور انسانی اقداری دعوے دار دنیا پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی ‘ انسانیت ‘ کہاں چلی گئی ہے۔انہوں نے غزہ کے حالات کے باوجود ہماری بنیادی انسانیت بھی کہاں چلی گئی ہے۔ اوچا کی قائم مقام سربراہ جوائس مسویا غزہ میں اسرائیلی جنگ سے ہونے والی تباہ کاریوں کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے سرگرم ہیں اور صبح شام غزہ میں تباہی اور انسانی المیے کو اپنی سامنے دیکھ رہی ہیں۔ مگر اس بارے میں مہذب دنیا جس میں آزادی، انسانی احترام، برابری، انسانی جان اور توقیر ایسے انسانی حقوق کا ڈھول بجایا جاتا ہے اس کے غزہ کے بارے میں ریسپانس پر یہ پوچھنے پر مجبور ہوئی ہیں۔ کہاں ہے وہ انسانیت؟ جس کا شور کیا جاتا ہے۔
اقوام متحدہ کی اس اہم ادارے کی سربراہ نے کہا کہ ہم اس پوزیشن میں بھی نہیں ہیں کہ 24 گھنٹوں سے زیادہ کا بھی سوچ سکیں اور غزہ میں خوراک یا انسانی بنیادوں پر فراہم کی جانے والی امداد کے بارے میں منصوبہ بنا سکیں کہ نہیں جانتے کہ یہ امداد کیسے پہنچے گی اور ہم اسے کس علاقے میں جنگ زدہ لوگوں تک پہنچا سکیں گے۔ جوائس مسویا نے کہا اقوام متحدہ کی سیکویرٹی کونسل کو غزہ کی اور اہل غزہ کے بارے میں بتایاکہ غزہ کے شہری بھوکے ہیں، انہیں پیاس ہے مگر یہ پانی سے بھی محروم کر دیئے گئے ہیں۔ یہ غزہ کے بے گھر فلسطینی بیمار اور زخمی ہیں مگر ان کے لیے ادویات نہیں ہیں، ہسپتال تباہ ہیں۔ یہ بے گھر کیے جا چکے ہیں کہ ان کے گھر بمباری کے بعد ملبہ بن چکے ہیں۔ یہ اس سب سے کچھ سے گذرہے ہیں جو ایک انسان پر بیت سکتی ہے۔ان کے یہ ریمارکس اس وقت سامنے آئے ہیں جب اقوام متحدہ کے ہی ایک ادارے عالمی خوراک پروگرام نے غزہ میں اپنے ٹرک پر اسرائیلی فائرنگ کے بعد اپنے سرگرمیاں روک دینے کا اعلان کیا ہے۔



