بین الاقوامی خبریں

ہم نے اسرائیل کے ساتھ کبھی امن معاہدے پر دستخط نہیں کیے،فتح کی تردید

حماس نے فتح کو اسرائیل کا سیکورٹی گارڈ قرار دے دیا

رملہ،26جون :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)تحریک فتح کے ترجمان جمال نزال نے کہا کہ حماس کے بین الاقوامی تعلقات کے دفتر کے سربراہ موسیٰ ابو مرزوق کے بیانات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ حماس مفاہمت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔انہوں نے مزید کہا کہ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) نے کبھی بھی اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ نہیں کیا۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حماس کو فلسطینی اتھارٹی پر حملہ کرنے کے بجائے غزہ کے بحران کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان کوئی سکیورٹی کوآرڈینیشن نہیں ہے۔ فتح تحریک ایک ایسے امن معاہدے کی خواہاں ہے جس سے فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار ہوسکے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ تحریک غزہ میں جنگ بندی اور فلسطینی ریاست کے قیام کا راستہ کھولنا چاہتی ہے۔

حماس نے فتح کو اسرائیل کا سیکورٹی گارڈ قرار دے دیا

قبل ازیں حماس کے بین الاقوامی تعلقات کے دفتر کے سربراہ موسیٰ ابو مرزوق نے روسی میڈیا کو دیئے گئے بیان میں کہا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی اسرائیل کی ’سکیورٹی گارڈ‘ ہے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ غزہ میں 100 سے زائد قیدی مردہ یا زندہ موجود ہیں۔ابو مرزوق نے اس بات پر زور دیا کہ حماس کا موقف مضبوط ہے،جس کا ثبوت اس کے مطالبات سے ہوتا ہے۔ ہم غزہ کی پٹی سے مکمل اسرائیلی انخلاء، ایک مستقل جنگ بندی، فوری انسانی امداد کی فراہمی، بے گھر افراد کی ان کے گھروں کو واپسی،غزہ کی پٹی کی تعمیر نو اور قیدیوں کی رہائی کے لیے جامع معاہدے کے خواہاں ہیں۔

ابو مرزوق نے کل سوموار کو روس کے دارالحکومت ماسکو میں روسی نائب وزیرخارجہ میخائل بوگدانوف کے ساتھ غزہ کی پٹی اور اسرائیلی جنگ کو روکنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔پچھلے روز فتح نے چین کی میزبانی میں ہونے والے مذاکرات میں حماس پر الزام لگایا تھا کہ حماس فلسطینیوں کے باہمی مذاکرات کے درمیان رکاوٹ پیدا کر رہی ہے۔دونوں فلسطینی گروپوں کے درمیان ایک دوسرے پر لگائے جانے والے الزامات اور اختلافات اسرائیل کی موجودہ غزہ جنگ کے باوجود جاری ہیں۔ پچھلے اکتوبر سے دونوں گروپوں کے درمیان تقسیم اور اختلاف پہلے سے زیادہ بڑھ گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button