ہمیں اپنی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے
احسان (نیکی ) کا طریقہ اختیار کرو کہ اللہ نیکی اور احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے
سورہ البقرہ کی آیت نمبر195 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ؛ترجمہ؛احسان (نیکی ) کا طریقہ اختیار کرو کہ اللہ نیکی اور احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔سورہ انعام کی آیت نمبر 160 میں ارشادی خداوندی ہے ؛ترجمہ؛ جو اللہ کے حضور نیکی لے کر آئے گا اس کے لئے دس گنا اجر ہے . .لغت میں نیکی کا مطلب ہے بھلائی ، خوبی ،عمدگی ،کار خیر اور احسان ۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو اپنی ان گنت نعمتوں سے نوازا ہے اور ان نعمتوں سے استعفادہ کرنے کا موقع عطا فرمایا ہے ۔ ساتھ ہی یہ بھی پسند فرمایا کہ معاشرے کے دوسرے لوگوں کے ساتھ نیکی اور بھلائی کریں ۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں کے ساتھ اشرف المخلوقات بنا کر زمین کی خلافت سے نوازا ۔ پھر تمام کائنات کو انسان کی خدمت میں سرگرم اور مصروف خدمت بنایا ۔
انسانوں پر ایک دوسرے کے فرائض مقرر کئے ایک مسلمان کی حیثیت سے اس پر فرض عائد ہوتا ہے کہ دوسرے مسلمانوں کے ساتھ نہ صرف بھلائی اور نیکی کرے بلکہ اس کار خیر کو دوسروں تک پھیلانے کی تلقین بھی کی گئی ہے تاکہ اس کے مثبت اثرات ہر انسان تک پہنچ سکیں ۔ اس سلسلے میں سورہ آل عمران آیت نمبر104 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ترجمہ ۔ تم میں سے کچھ لوگ ضرور ہونے چاہئیں جو نیکی کی طرف بلائیں ۔
نیکی کی تعریف سورۃ البقرہ کی آیت نمبر177 میں یہ بیان کی گئی ہے کہ آدمی کو اللہ کو، یوم آخرت کو ،ملائکہ کو، اللہ کی نازل کی گئی کتاب اور اس کے پیغمبروں کو دل سے مانے ۔ حضور نبی اکرم کی تعلیمات اور آپ کی شخصیت کا کمال یہ ہے کہ آپ کی زبان مبارک سے نکلا ہوا ایک ایک حرف اور آپ کی زندگی کا ایک ایک ورق ہمارے لئے مشعل راہ ہے ۔ آپ نے ہمیشہ عدل و انصاف ، ایفائے عہد ،تواضع انکساری ،حق گوئی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دوسروں کے ساتھ احسان ،بھلائی اور نیکی کرنے کی تلقین فرمائی ۔ ارشاد نبوی ہے ۔
بہترین انسان وہ ہے جو سب سے زیادہ انسانوں کو فائدہ پہنچائے اور صیح معنوں میں مسلمان کہلانے کا حقدار وہ شخص ہے جو سب کے ساتھ احسان ، بھلائی اور نیکی کرے ، نیکی تک رسائی حاصل کرنے کے لئے قرآن پاک نے سورۃ آل عمران آیت نمبر92 میں یہ رہنما اصول اراد فرمایا ، تم نیکی کو اس وقت تک نہیں پہنچ سکتے جب تک اپنی وہ چیزیں ( اللہ کی راہ میں ) خرچ نہ کرو جنہیں تم عزیز رکھتے ہو ، نیکی کی اصل روح اللہ کی محبت ہے ۔ ایسی محبت رضائے الہی کے مقابلے میں دنیا کی کوئی چیز عزیز نہ ہو ۔
جس چیز کی محبت بھی انسان کے دل پر اتنی غالب آ جائے کہ وہ اسے اللہ کی محبت پر قربان نہ کر سکتا ہو تو وہ ایک بہت بڑی رکاوٹ ہو گی اور جب تک اس رکاوٹ کو دور نہیں کرے گانیکی کے دروزاے اس شخص پر بند رہیں گے ۔ نیکی اللہ سے ڈرنے ، اس سے محبت کرنے اور اس کے احکامات کو من و عن دل سے تسلیم کرنے کا نام ہے۔ اصل نیکی تو اس شخص کی ہے جس نے اللہ کی محبت پر لوگوں کے ساتھ نیکی کا معاملہ کیا ۔نیکی کی اصل روح اللہ کی محبت ہے اور وہ بھی ایسی رضائے الہی کے مقبلے میں دنیا کی کوئی چیز عزیز تر نہ ہو
ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ ترجمہ ۔ اور جو بھلائی اور نیکی تم کرو گے اللہ اس سے با خبر ہو گا ،۔ ایمان کے افضل درجہ کے بارے میں آپ کا فرمان ہے کہ سب لوگوں کے لئے وہی چاہو اور پسند کرو جو اپنے لئے پسند کرتے ہو ۔ چونکہ ہر انسان یہی چاہتا ہے کہ اس کے ساتھ نیکی کی جائے اسے بھی چاہیے کہ دوسرں کے ساتھ نیکی کر کے اچھی مثال قائم کرے ۔اسلام نے جو اعلیٰ معیار نیکی کے لئے قائم کیا ہے اگر اس پر خود کو پرکھیں اور اپنے ضمیر کی عدالت سے ہم فیصلہ لیں تو وہ یہی ہو گا کہ ہمیں اپنی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے ۔
سورۃ البقرہ کی آیت نمبر148 میں ارشاد ربانی ہے ۔ترجمہ۔ نیک کاموں میں آگے بڑھنے کی کوشش کیا کرو ۔ اسلامی اخوت کا تقاضا یہ ہے کہ ایک مسلمان اپنے اسلامی بھائی کی بہتری چاہے ۔نارضگی کی صورت میں جس نے پہلے سلام کیا اس نے عمل خیر نے سبقت حاصل کر لی ۔اور جس کو سلام کیا گیا اس کے دل میں نفرت کی جگہ محبت پیدا کر لی ۔ اسلامی اقدار کو قرآن و حدیث اور حضور کے اسوہ حسنہ کے روشن آئینے میں دیکھیں تو عیاں ہوتا ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ نیکی او ر بھلائی کرنے کی تلقین کی گئی ہے اس لئے ہمیں اپنی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے ۔



