
کولکاتا، یکم اگست مغربی بنگال کے کوچ بہار میں اس وقت ایک حادثہ پیش آیا جب اتوار کے روز کرنٹ لگنے سے 10 کانوڑ یاتری ہلاک ہو گئے۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ جل ابھیشیک کیلئے جا رہے یاتریوں کو لے جا رہی پک اپ وین میں کرنٹ آنے کے سبب پیش آیا۔یاتریوں کو واقعہ کے فوراً بعد اسپتال پہنچایا گیا۔پولیس نے بتایا کہ ممکنہ طور پر واقعہ وین میں ڈی جے سسٹم کے لئے کی گئی جنریٹر کی وائرنگ کی وجہ سے پیش آیا ہوگا۔ ماتھابھنگا کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس امت ورما نے کہا کہ رات کے تقریباً 12 بجے میکھلی گنج پولیس اسٹیشن کے تحت دھرلا برج پر یہ واقعہ پیش آیا، جہاں جل پیش جا رہے یاتریوں کو لے جا رہی پک اپ وین بجلی کے کرنٹ کی زد میں آ گئی۔
بادی النظر محسوس ہوتا ہے کہ یہ حادثہ ڈی جے کے لئے کی گئی جنریٹر وائرنگ کے سبب پیش آیا۔ ڈی جے سسٹم وین کے عقبی حصہ میں نصب کیا گیا تھا۔پولیس عہدیدار نے کہا کہ متاثرین کو چنگربندھا بی پی ایچ سی لایا گیا۔ طبی اہلکار نے 27 میں سے 16 افراد کو بہتر علاج کے لئے جلپائی گڑی اسپتال ریفر کیا ہے۔ وہ کرنٹ سے معمولی طور پر جھلسے ہییں تاہم ان کا بہتر طبی معائنہ کیا جانا ضروری ہے۔
جبل پور کے نجی اسپتال میں آتشزدگی، 8 ہلاک، مزید ہلاکت کا خدشہ-وزیراعلیٰ اور کمل ناتھ کا اظہارِ تعزیت ، متأثرین کے لیے 5-5لاکھ معاوضہ کا اعلان
جبل پور ، یکم اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مدھیہ پردیش میں جبل پور کے چندل بھاٹا علاقے میں واقع نیو لائف ملٹی اسپیشلٹی اسپتال میں پیر کی دوپہر آگ لگ گئی۔ کچھ ہی دیر میں آگ نے زبردست شکل اختیار کر لی۔ اس میں کئی مریض جھلس گئے۔ دفتری عملے سمیت آٹھ افراد جاں بحق ہوئے۔اس میں چار مریضوں، ایک اٹینڈنٹ اور تین ملازمین کی موت کی اطلاع ہے۔ دو مریضوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ انہیں آئی سی یو میں داخل کرایا گیا ہے۔
دیگر کو دوسرے اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔ آگ لگنے کے بعد فائر بریگیڈٹیم بجھانے کے لیے موقع پر پہنچ گئی ہے۔ فوری طور پر اعلیٰ انتظامی اور پولیس افسران نے بھی پیش قدمی کی۔حکام نے آٹھ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ان میں ہسپتال کا تین عملہ بھی شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہسپتال 2021 میں ہی رجسٹرڈ ہوا تھا۔ اس بات کی تحقیقات کی جارہی ہے کہ غلطی کس سے ہوئی اور یہ غلطی کیا تھی۔ اس کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان اور ریاستی کانگریس صدر کمل ناتھ نے اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ایم پی حکومت نے مرنے والوں کے لواحقین کے لیے فی کس 5 لاکھ روپے کی مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق دو افراد کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔
جھلسنے والوں کو شہر کے مختلف اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔ مرنے والوں میں ہسپتال کا عملہ اور مریض بھی شامل ہیں۔ ابتدائی تحقیقات میں بتایا جا رہا ہے کہ وولٹیج میں اتار چڑھاؤ تھا۔ جس کی وجہ سے جنریٹر میں آگ لگ گئی اور اس نے پوری عمارت کو لپیٹ میں لے لیا۔ فائر بریگیڈ نے ایک گھنٹے کی کوشش کے بعد آگ پر قابو پالیا ہے۔ آگ کے شعلے اتنے شدید تھے کہ لوگوں کو بھاگنے کا موقع بھی نہ ملا اور وہ زندہ جل گئے۔ ہسپتال میں کتنے مریض داخل تھے اور حادثے کے وقت کتنے رشتہ دار وہاں موجود تھے اس بارے میں معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔
بتایا جا رہا ہے کہ ہسپتال میں تقریباً 52 افراد کا عملہ ہے اور مرنے والوں میں دو نرسیں بھی شامل ہیں۔وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے سوشل میڈیا پر کہا کہ جبل پور کے ایک اسپتال میں خوفناک آتشزدگی کی افسوسناک خبر موصول ہوئی ہے۔ میں مقامی انتظامیہ اور کلکٹر سے مسلسل رابطے میں ہوں۔ چیف سیکرٹری کو پورے معاملے پر نظر رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ راحت اور بچاؤ کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔آتشزدگی میںجانوں کے ضیاع پر دل افسردہ ہے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ مرحوم کی روح کو سکون ملے اور لواحقین کو یہ گہرا نقصان برداشت کرنے کی طاقت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی ہو۔ریاستی حکومت مہلوکین کے لواحقین کو فی کس 5 لاکھ روپے اور شدید زخمیوں کو 50ہزار روپے کی امداد فراہم کرے گی۔ زخمیوں کے مکمل علاج کے اخراجات بھی حکومت برداشت کرے گی۔
ریاستی کانگریس کمیٹی کے صدر کمل ناتھ نے کہا کہ جبل پور کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں آگ لگنے سے کئی لوگوں کی موت اور ہلاکتوں کی خبریں موصول ہوئی ہیں، یہ بہت دردناک واقعہ ہے۔ میں مرنے والوں کی روح کے سکون کے لیے دعا گو ہوں۔ میں آتشزدگی میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتا ہوں۔اس سے قبل گزشتہ سال 8 نومبر کو بھوپال کے حمیدیہ اسپتال کے شیرخوار وارڈ میں آگ لگ گئی تھی۔ اس میں کم از کم پانچ بچوں کی موت ہوئی تھی، اس پر بھی سیاست گرم ہو ئی تھی۔ اس وقت وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان کے حکم پر تمام اسپتالوں کا سیفٹی آڈٹ کیا گیا تھا۔ تاہم جبل پور واقعہ سے لگتا ہے کہ کام کچھ بھی نہیں کیا گیا، محض خانہ پُری کی گئی ۔
پنجاب کے سات نوجوان گوبند ساگر جھیل میں غرقاب، تلاش جاری
شملہ ، یکم اگست :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ہماچل پردیش کے اونا ضلع میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ گوبند ساگر جھیل میں سات نوجوان ڈوب گئے۔ تمام نوجوان موہالی پنجاب کے رہنے والے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ سبھی نوجوان گوبند ساگر جھیل میں نہا رہے تھے کہ اچانک ڈوب گئے۔حادثے کی اطلاع ملتے ہی بنگانہ پولیس موقع پر روانہ ہوئی۔پولیس اسٹیشن بنگانہ سے موصولہ اطلاع کے مطابق یہ واقعہ دوپہر تقریباً 3.50 بجے گاؤں گووند ساگر جھیل میں پیش آیا۔ پولیس کو 7 نوجوانوں کے ڈوبنے کی اطلاع ملی۔ 11 لوگ گاؤں بنور ضلع محلی پنجاب سے بابا بالک ناتھ مندر جا رہے تھے، غریب داس مندر کے قریب گووند ساگر جھیل میں نہانے لگے۔
پانی گہرا ہونے کی وجہ سے سات نوجوان پانی میں ڈوب گئے۔ چار نوجوان کسی طرح پانی سے باہر آئے اور مدد کے لیے چیخنے لگے۔مقامی لوگ بھی مدد کے لیے پہنچے،تاہم اب تک ڈوبنے والے نوجوان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ پولیس اور انتظامیہ موقع پر پہنچ کر مزید کارروائی کر رہی ہے۔ غوطہ خور اور فائر بریگیڈ کے اہلکار بھی موقع پر موجود ہیں۔ ایس پی ارجیت سین نے بتایا کہ پولیس اور انتظامیہ کی ٹیم موقع پر موجود ہے۔



