کولکاتہ ، ۱۱؍فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مغربی بنگال کے جلپائی گوڑی میں گزشتہ ماہ پیش آئے ٹرین حادثے میں ریلوے حکام کی لاپرواہی کھل کر سامنے آگئی ہے۔ دراصل 13 جنوری کو بیکانیر-گوہاٹی ایکسپریس Bikaner Guwahati Express, کے کئی ڈبے پٹری سے اتر گئے تھے، اس واقعے میں نو افراد ہلاک ہو ئے تھے، نیز کئی زخمی بھی ہوئے۔ اب تقریباً ایک ماہ بعد اس حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آئی ہے۔
اس میں کئی چونکا دینے والے انکشافات ہوئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق بیکانیر-گوہاٹی ایکسپریس نے حادثے سے قبل تقریباً 18 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ مناسب معائنہ کے بغیر مکمل کیا تھا، جب کہ عام طور پر ہر 4500 کلومیٹر پر ٹرین کے انجن کا معائنہ کرناریلوے کی ذمہ داری ہے۔
ریلوے سیفٹی کمیشن کی طرف سے شمال مشرقی سرحدی ریلوے کو لکھے گئے خط میں ریل نیٹ ورک کے ساتھ فراڈ متعلق تحقیقات کے معاملہ پر بھی وارننگ دی گئی ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ ٹرین کے انجن کی حفاظتی جانچ آخری بار 6 دسمبر 2021 کو کی گئی تھی۔
اس کے بعد حادثہ ہونے تک ٹرین بغیر معائنہ کے 18 ہزار کلومیٹر چل چکی تھی۔خط میں کہا گیا ہے کہ جانچ کے قواعد کے مطابق WAP4 کلاس ٹرین لوکوموٹیوز کو ہر 4500 کلومیٹر پر یقینی بنایا جانا چاہیے، لیکن ایسا بیکانیر-گوہاٹی ایکسپریس کے انجن کے ساتھ نہیں کیا گیا۔
غور طلب ہے کہ ٹرین کی حفاظت کے نقطہ نظر سے ٹرین کے انجن کو چیک کرنا بہت ضروری ہوتا ہے ، اس میں ریلوے کے ٹرین افسران ٹرین کے مناسب آپریشن کو یقینی بنانے کے لیے انجن کے انڈر گیئر سے لے کر تمام حفاظتی تفصیلات کا جائزہ لیتے ہیں۔



