بین الاقوامی خبریںسرورق

مسجد الحرام کے مؤذن شیخ ابراہیم المدنی انتقال کر گئے، آخری اذان فجر کی تھی

15 سال کی عمر میں اذان دینا شروع کی

مکہ مکرمہ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) مسجد الحرام کے معروف مؤذن شیخ ابراہیم بن عادل حمزہ المدنی 50 برس کی عمر میں پیر، 21 ستمبر کی صبح انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کی خبر کے بعد مسجد الحرام اور حرمین شریفین سے وابستہ افراد کی جانب سے تعزیتی پیغامات سامنے آئے۔

شیخ ابراہیم المدنی مدینہ منورہ میں 1976 میں پیدا ہوئے تھے اور 2017 سے مسجد الحرام کے مرکزی مؤذنین میں شامل تھے۔ ان کی آواز بالخصوص فجر کی اذان اور تکبیرات کے حوالے سے نمازیوں میں جانی جاتی تھی۔

رپورٹس کے مطابق شیخ ابراہیم المدنی نے انتقال سے قبل پیر کی صبح مسجد الحرام میں فجر کی پہلی اذان دی تھی۔ اس موقع کی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر سامنے آئی، جس میں خانہ کعبہ کے منظر کے ساتھ ان کی آواز مسجد الحرام کے لاؤڈ اسپیکرز سے سنائی دیتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ان کی نماز جنازہ پیر کو نماز عصر کے بعد مسجد الحرام میں ادا کی جائے گی، جس کے بعد انہیں مکہ مکرمہ کے معروف قبرستان جنت المعلیٰ میں سپرد خاک کیا جائے گا۔

شیخ ابراہیم المدنی کا تعلق مدینہ منورہ سے تھا اور ان کی پرورش ایک دینی ماحول میں ہوئی۔ ان کے دادا حافظ قرآن تھے اور ان کی دینی تربیت میں ان کا اہم کردار رہا۔

شیخ ابراہیم نے قرآن سے متعلق تعلیم حاصل کی اور صرف 15 سال کی عمر میں مدینہ منورہ کی ایک مقامی مسجد میں اذان دینا شروع کردی تھی۔ ابتدا میں وہ تین دیگر پڑوسیوں کے ساتھ باری باری اذان دیتے تھے اور کالج کی تعلیم مکمل ہونے تک یہ سلسلہ جاری رہا۔

بعد میں تدریسی ذمہ داریوں کے باعث انہوں نے کچھ عرصے کے لیے اذان کی ذمہ داری سے کنارہ کشی اختیار کی۔ 2007 سے 2008 کے دوران انہوں نے مسجد المداح میں دوبارہ اذان دینا شروع کی، جہاں ان کی خدمات نے انہیں مسجد الحرام میں مؤذن کی ذمہ داری تک پہنچنے کا موقع فراہم کیا۔ 2017 سے 2018 کے دوران انہیں مسجد الحرام کے مؤذن کے طور پر باقاعدہ مقرر کیا گیا۔

مدینہ منورہ میں پرورش پانے کی وجہ سے شیخ ابراہیم المدنی اذان کے مدنی انداز سے واقف تھے، جبکہ والد کے ساتھ مکہ مکرمہ کے دوروں کے دوران انہوں نے مکی اندازِ اذان بھی قریب سے سنا۔ دونوں روایات کے اثرات ان کے اندازِ اذان میں نمایاں تھے۔

وہ مسجد الحرام کے 24 مرکزی مؤذنین میں شامل تھے۔ حرم میں روزانہ مختلف مؤذنین باری باری پانچوں نمازوں اور فجر کی پہلی اذان کی ذمہ داری انجام دیتے ہیں۔

شیخ ابراہیم المدنی خاص طور پر فجر کی اذان اور تکبیرات کے لیے معروف تھے۔ وہ تبلیغی ذمہ داری بھی انجام دیتے تھے، جس کے تحت امام کی تکبیرات اور نماز کی حرکات کو مسجد کے لاؤڈ اسپیکر نظام کے ذریعے دور موجود نمازیوں تک پہنچایا جاتا تھا۔

ایک سابق انٹرویو میں شیخ ابراہیم المدنی نے مسجد الحرام میں اپنی پہلی اذان کا واقعہ بھی بیان کیا تھا۔ انہوں نے بتایا تھا کہ خانہ کعبہ کے گرد طواف کرتے ہوئے نمازیوں کو دیکھنا اور اسی دوران اپنی آواز کو حرم کی فضا میں سننا ان کے لیے انتہائی جذباتی لمحہ تھا۔

انہوں نے بتایا تھا کہ اس موقع پر ان کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ وہ کون ہیں جو اس مقدس مقام پر اپنی آواز بلند کرنے کا موقع پا رہے ہیں۔

شیخ ابراہیم المدنی نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں اذان کے روایتی انداز کے فرق پر بھی گفتگو کی تھی اور بتایا تھا کہ دونوں مقدس شہروں کی اذان کی روایات نے ان کے اپنے انداز کو متاثر کیا۔

شیخ ابراہیم المدنی کی وفات پر حرمین شریفین سے وابستہ افراد اور سوشل میڈیا صارفین نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لیے دعائے مغفرت کی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button