ہرارے۲؍جولائی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) ہرارے میں اسکاٹ لینڈ سے ملی سات وکٹوں سے شکست کے بعد ویسٹ انڈیز ورلڈ کپ کوارلیفائر سے باہر ہوگیا ہے۔ دو بار کی چمپئن ویسٹ انڈیز ہفتہ کو ہندوستان میں آئندہ 2023 میں پچاس اووروں کے ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے کی دوڑ سے باہر ہوگئی ہے، جب اسکاٹ لینڈ نے ہفتہ کو یہاں کوالیفائر کے سوپر سکس میچ میں انہیں سات وکٹ سے ہرادیا۔ سال 1975 اور سال 1979 سیزن کے چمپئن، ٹورنامنٹ کے 48 سالوں کی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ویسٹ انڈیز محدود اووروں کے کرکٹ میں ٹاپ 10 ٹیموں میں شامل نہیں ہوگی۔
ہفتے کے روز، ویسٹ انڈیز نے ایک بار پھر بیٹ سے مایوس کیا، 43.5 اوورز میں صرف 181 رنز پر ڈھیر ہو گیا، اور اسکاٹ لینڈ نے جیتنے والے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے سات وکٹوں اور 6.3 اوورز باقی رہتے ہوئے میچ جیت لیا۔یہ اسکاٹ لینڈ کی ویسٹ انڈیز کے خلاف چار میچوں میں پہلی جیت ہے۔ ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے میٹ کراس (107 گیندوں میں ناٹ آؤٹ 74 رنز) اور برینڈن میک ملن (106 گیندوں پر 69 رنز) نے دوسری وکٹ کے لیے 125 رنز کی شراکت داری کرکے ٹیم کی فتح کی بنیاد رکھی۔اس سے قبل گروپ مرحلے میں ویسٹ انڈیز کو ہالینڈ کے ہاتھوں سوپر اوور میں شکست ہوئی تھی۔ اس کے بعد ٹیم کو زمبابوے کے خلاف بھی شکست ہوئی۔ زمبابوے اور ہالینڈ کے سوپر سکسز میں کوالیفائی کرنے کی وجہ سے ویسٹ انڈیز کی ٹیم بغیر کسی پوائنٹس اور خراب نیٹ رن ریٹ کے اس مرحلے تک پہنچی۔
ورلڈ کپ سے باہر ہونے پر ویسٹ انڈیز ٹیم کو سخت تنقید کا سامنا
ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کے ورلڈ کپ سے باہر ہوتے ہی مقامی اور سابق کرکٹرز نے توپوں کا رخ بورڈ کی طرف موڑ دیا ۔ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان کارلوس بریتھ ویٹ نے کہا ہے کہ یہ وہ کم ترین جگہ ہے جہاں آپ جا سکتے ہیں، یہ چیز عرصہ دراز سے ہماری طرف بڑھ رہی تھی۔کارلوس بریتھ ویٹ نے کہا کہ گزشتہ برس ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کا سپر 12 مرحلہ مِس کیا، وائٹ بال کرکٹ میں گزشتہ برسوں سے مشکلات رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ویسٹ انڈیز کرکٹ کو بے شمار مسائل کا سامنا ہے، ٹیلنٹ کی شناخت نہ کر پانا مسائل میں سے ایک ہے۔
سابق کرکٹر اور کمنٹیٹر این بشپ نے کہا ہے کہ یہ ڈرامائی انداز سے اپنے ایک مقام سے گرنا ہے، ویسٹ انڈیز ٹیم ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ دو دو بار جیت چکی ہے۔این بشپ نے کہا کہ کپتان تبدیل کرو، کوچ تبدیل کرو، جو چاہے تبدیلی لاؤ لیکن نتائج توقعات کے برعکس ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم بلند عزائم کے ساتھ کوالیفائنگ راؤنڈ کھیلنے کے لیے گئی ؛لیکن اس کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی۔



