قومی خبریں

مغرب کی روس کیخلاف پابندیاں اعلانِ جنگ کے مترادف ہیں: صدرپوتین

ماسکو، 6مارچ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)روس کے صدر ولادیمیر پوتین President Vladimir Putin نے کہا ہے کہ روس پرمغرب کی عاید کردہ پابندیاں اعلانِ جنگ کے مترادف ہیں۔انھوں نے خبردارکیا ہے کہ یوکرین میں نوفلائی زون نافذ کرنے کی کوئی بھی کوشش تنازع میں داخل ہونے کے مترادف ہوگی۔

پوتین نےایک بیان میں اس بات کا اعادہ کیا کہ یوکرین میں ان کی فوجی کارروائی کا مقصد اس کو غیرفوجی اورغیرنازی (ڈی ملٹریائزیشن اور ڈی نازیفیکیشن) بنانا ہے۔

اس طرح وہاں روسی بولنے والی کمیونٹیوں کا دفاع کرنا ہے تاکہ یوکرین غیرجانبدارہو جائے۔یوکرین اورمغربی ممالک نے روسی صدرکے بیان کردہ اس مؤقف کو 24 فروری کو شروع کیے گئے حملے کا بے بنیاد بہانہ قراردیا ہے۔امریکا سمیت مغربی ممالک نے روس کوالگ تھلگ کرنے کے مقصد سے متعدد پابندیاں عاید کی ہیں۔

پوتین نے ماسکو کے نواح میں ایک ایروفلاٹ ٹریننگ سینٹر میں خواتین فلائٹ اٹینڈنٹس کے ایک گروپ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ روس کے خلاف عاید کی جانے والی پابندیاں اعلانِ جنگ کے مترادف ہیں لیکن خدا کاشکر ہے کہ یہ اس پراثراندازنہیں ہوئی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یوکرین میں کسی بھی طاقت کی جانب سے نو فلائی زون مسلط کرنے کی کسی بھی کوشش کو روس فوجی تنازع میں ایک قدم تصور کرے گا۔تاہم فی الحال نیٹو نے کیف کی نو فلائی زون کے قیام کی درخواست مستردکردی ہے کیونکہ اس سے جنگ یوکرین سے آگے بڑھ سکتی ہے۔

ولادیمیرپوتین نے کہا کہ فوجی آپریشن میں کوئی رنگروٹ حصہ نہیں لے رہا ہے۔اس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی صرف پیشہ ور فوجی ہی کررہے ہیں۔اس میں کوئی ایک بھی رنگروٹ ہے اور نہ ہی ہم اس کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری فوج تمام کاموں کو پوراکرے گی۔ مجھے اس میں بالکل شک نہیں۔

سب کچھ منصوبہ بندی کے مطابق ہورہا ہے۔انھوں نے ان خدشات کومستردکردیا کہ روس میں کسی قسم کے مارشل لا یا ہنگامی صورت حال کا اعلان کیا جاسکتا ہے۔انھوں نے کہا کہ اس طرح کا اقدام صرف اس وقت مسلط کیا جاتاتھا جب اہم اندرونی یا بیرونی خطرہ لاحق ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم روسی علاقے پر کسی بھی قسم کی خصوصی حکومت متعارف کرانے کا ارادہ نہیں رکھتے،فی الحال اس کی کوئی ضرورت بھی نہیں ہے۔

روس میں مارشل لا لگانے کا کوئی امکان نہیں:روسی صدر پوٹن

روسی صدر نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے ملک میں مارشل لگانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یوکرین میں سبھی کچھ طے شدہ منصوبے کے مطابق جاری ہے۔

دوسری جانب روسی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ یوکرینی صدر زیلینسکی مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کو تنازعے میں شامل کرنے کے بیانات دے کر مجموعی صورتِ حال کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔صدر ولادیمیر پوٹن نے کہا کہ وہ ملک میں مارشل لا کے نفاذ کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے ہیں۔

پوٹن نے یہ بات ایسے موقع پر کہی جب ان کی افواج کو یوکرین میں داخل ہوئے دوسرا ہفتہ شروع ہو چکا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ مارشل لا کی ضرورت اس وقت ہوتی ہے جب ملک کو بیرونی جارحیت کا سامنا ہوتا ہے اور اس وقت ایسی کوئی صورت موجود نہیں اور مستقبل میں بھی ایسے حالات کا امکان نہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button