قانون محنت اور سعودائزیشن کی خلاف ورزیاں، جرمانے اور سزاؤں میں ترامیم کیا ہیں؟
وزارت نے نجی اداروں کو ملازمین کی تعداد کے لحاظ سے تین زمروں میں تقسیم کیا
الریاض ، 11دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)سعودی وزارت افرادی قوت و سماجی بہبود نے قانون محنت اور اس کے لائحہ عمل میں خلاف ورزیوں اور سزاوں میں ترمیم کی ہے۔اخبار 24 کے مطابق وزارت کا کہنا ہے کہ قانون محنت اور لائحہ عمل کی خلاف ورزیوں اور سزاؤں میں ترامیم سے سعودائزیشن کے فروغ میں مدد ملے گی۔نجی ادارے مستحکم ہوں گے اور ان کا دائرہ وسیع ہو گا۔ ملازمین کے حقوق محفوظ اور چھوٹے اور درمیانے سائز کے نجی اداروں کی پوزیشن مضبوط ہوگی۔وزارت نے نجی اداروں کو ملازمین کی تعداد کے لحاظ سے تین زمروں میں تقسیم کیا ہے۔ پہلے زمرے میں ان اداروں کو شامل کیا گیا ہے جن کے ملازمین کی تعداد 50 یا اس سے زیادہ ہے۔
دوسرے زمرے میں ان اداروں کو رکھا گیا جن کے ملازمین کی تعداد 21 سے 49 تک ہے۔ تیسرے زمرے میں وہ ادارے شامل کیے گئے ہیں جن کے ملازمین کی تعداد 20 یا اس سے کم ہے۔ وزارت نے قانون محنت اور لائحہ عمل کی خلاف ورزیوں اور سزاوں میں جو ترامیم کی ہیں انہیں سنگین اور معمولی خلاف ورزیوں میں تقسیم کیا ہے۔مثال کے طور پر دوپہر کے وقت کھلے مقامات پر دھوپ میں کارکن سے ڈیوٹی لینا سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔ اس پر ایک ہزار ریال تک کا جرمانہ ہے۔یہ خلاف ورزی اور جرمانہ تینوں زمروں میں شامل اداروں پر لاگو ہے۔اسی طرح پندرہ برس سے کم عمر کے بچوں کو روزگار فراہم کرنا سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔ اس پر ایک ہزار ریال سے دو ہزار ریال تک کا جرمانہ ہے۔ غیر ملکی کو ورک پرمٹ کے بغیر روزگار فراہم کرنے پر دس ہزار ریال جرمانہ ہو گا تاہم غیر ملکیوں کو سعودیوں کیلیے مختص اسامی پر تعینات کرنا سنگین خلاف ورزی شمار کیا جائے گا۔
اس پر دو ہزار ریال سے آٹھ ہزار ریال تک کا جرمانہ ہوگا۔ وزارت کا کہنا ہے کہ جو نجی ادارے سعودائزیشن کی مقررہ شرح کی پابندی نہیں کریں گے ان پر دو ہزار ریال سے چھ ہزار ریال تک جرمانہ ہوگا۔سعودی کارکن کو روزگار فراہم کیے بغیر ملازمین کی فہرست میں شامل کرنے والے ادارے پر دو ہزار سے آٹھ ہزار ریال تک کا جرمانہ مقرر ہے۔ وزارت سے پرمٹ لیے بغیر سعودیوں کو روزگار فراہم کرنا قابل سزا عمل ہے۔ اس پر تینوں زمروں میں شامل نجی اداروں پر تیس ہزار ریال تک کا جرمانہ ہو گا۔ کاروباری پرمٹ حاصل کرنے کے بعد 180 روز تک مطلوبہ کاروبار شروع نہ کرنے پر ایجنسیوں سے دس ہزار ریال اور کمپنیوں سے پندرہ ہزار ریال جرمانہ کیا جائے گا۔
پانچ سو ارب ڈالر کی لاگت سے زیرتعمیر شہرنیوم میں نئی فوڈ کمپنی متعارف
ریاض، 11دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)سعودی عرب کے مستقبل کے سب سے بڑے کاروباری اور سیاحتی مرکز نیوم میں ‘ٹوپیان ‘ نامی نئی فوڈ کمپنی متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ ٹوپیان سعودی عرب میں کھانوں کی ایک نئی شناخت اور پہچان کا ذریعہ بنے گی۔ کھیت سے لے کر کھانے کی میز تک اور کھانوں کی تقسیم سے لے کر استعمال تک ہر سطح پر ایک نیا انداز سامنے لائے گی۔سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ٹوپیان موسمیاتی اثرات سے پاک خوراک، زراعت کی از سر نو پیداوار، منفرد کھانے، ہر فرد کے ذائقے اور ضرورت و پسند کے مطابق ڈشیں ایک پائیدار خوارک زنجیر کا اہتمام ٹوپیان کے یہ پانچوں بنیادی ستون اور شناختیں ہوں گی۔ٹوپیان کی لانچنگ سعودی محکمہ ماحولیات، سعودی محکمہ پانی و زراعت کے علاوہ سعودی عرب میں بروئے کار ویژن 2030 کے مطابق نیز 2060 کے حوالے سے ماحولیاتی اہداف کے تقاضوں کے عین مطابق ہو گی۔
یہ فوڈ کمپنی خوراک کی پائیداری کے لیے بھی ایک منفرد معیار کو متعارف کرائے گی۔ گویا کھانے پینے کا ایک نیا دور شروع ہو گا۔ٹوپیان اپنے طریقہ کار میں جدید تر اور انقلابی انداز میں خوراک سے متعلق حل پیش کرے گی۔ تاکہ آج کی دنیا کو خوراک کے حوالے سے جن چیلنجوں اور ضرورتوں کو پورا کرنے میں مشکلات ہیں ٹوپیان ان کے حل کے طور پر سامنے آئے گی۔’ایس پی اے’ کے مطابق نیوم کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ناظمی النصر نے اس بارے میں کہا ‘ ٹوپیان محفوظ اور پائیدار فوڈ انڈسٹری کی تشکیل کی طرف ایک سنگ میل ثابت ہو گی۔ جس میں ندرت اور جدت کے ساتھ ساتھ صحت اور لذت سب کچھ کی دستیابی ہو گی۔



