قیدیوں کے اہل خانہ سے ملاقات میں اسرائیلی وزیر اعظم نے کیا کہا؟
نیتن یاہو نے تاخیر کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ بہتر شرائط کا حصول ہے۔
واشنگٹن، 24جولائی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو امریکہ کے سرکاری دورے پر واشنگٹن پہنچ گئے۔ آمد کے بعد ابتدائی چوبیس گھنٹوں کے اندر نیتن یاہو نے اُن افراد کے اہل خانہ اور خاندانوں سے ملاقاتیں کیں جن کو حماس نے سات اکتوبر کے حملے میں قیدی بنا لیا۔اس موقع پر اسرائیلی وزیر اعظم نے باور کرایا کہ باقی ماندہ 120 قیدیوں کے تبادلے کو فائر بندی کے معاہدے کا حصہ بنانے پر مذاکرات میں پیش رفت کو یقینی بنایا گیا ہے۔ البتہ نیتن یاہو نے تاخیر کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ بہتر شرائط کا حصول ہے۔
اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق نیتن یاہو نے افسوس کے ساتھ بتایا کہ قیدیوں کے تبادلے کا عمل ایک ہی کھیپ میں نہیں ہو گا، معاہدے پر مرحلہ وار عمل ہو گا۔اسرائیلی وزیر اعظم نے منتبہ کیا کہ معاہدے تک پہنچنے کا راستہ حماس پر دباؤ جاری رکھنے کے ذریعے طے ہو گا۔ اس موقع پر قیدیوں کے بعض گھرانوں نے نیتن یاہو پر زور دیا کہ معاہدے کو جتنا جلدی ہو سکے طے کیا جائے۔ دیگر گھرانوں نے بائیڈن انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ سمجھوتے کو پورا کرنے کے لیے نیتن یاہو کو مجبور کرے۔نیتن یاہو نے اپنے موقف پر اصرار کرتے ہوئے کہا کہ میں کسی بھی صورت میں حماس پر فتح پانے سے دست بردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہوں، اگر ہم پیچھے ہٹ گئے تو ہم پوری طرح ایرانی شر کے خطرے میں آ جائیں گے۔
نیتن یاہو نے اپنی آمد کے ایک روز بعد تک کسی امریکی عہدے دار سے علانیہ ملاقات نہیں کی ہے۔ صدر جو بائیڈن جو کرونا سے صحت یاب ہو رہے ہیں، ان کے ساتھ نیتن یاہو کی ملاقات جمعرات تک ملتوی کر دی گئی۔سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیلی وزیر اعظم سے جمعے کے روز فلوریڈا میں اپنے فارم ہاؤس پر ملاقات کریں گے۔ادھر امریکی تھنک ٹینک Carnegie Endowment for International Peace کے ایک نمایاں ذمے دار آرون ڈیوڈ ملر کے خیال میں نیتن یاہو پریشانی محسوس کر رہے ہیں کیوں کہ وہ توجہ کا مرکز نہیں ہیں۔ ملر کا اشار بائیڈن کی دست برداری اور تمام نظروں کا کملا کی جانب ہو جانے کی طرف تھا۔یاد رہے کہ منگل کے روز نیتن یاہو کی امریکہ میں مسیحی سوسائٹی کے رہنماؤں کے ساتھ ملاقات مقرر ہے جس کے بعد وہ مقامی یہودی سوسائٹی کے رہنماؤں کے ساتھ ملاقات کریں گے۔جب کہ درجنوں ڈیموکریٹ قانون ساز بدھ کی دوپہر کانگریس میں اسرائیلی وزیر اعظم کے خطاب کے بائیکاٹ پر غور کر رہے ہیں۔



