بین الاقوامی خبریںسرورق

غزہ کے الاھلی عرب اسپتال میں دھماکے کے متعلق ہم کیا جانتے ہیں؟

’ثبوت ملے ہیں کہ اسرائیل نے غزہ میں اسپتال پر MK-84 بم گرایا تھا‘

غزہ ،19اکتوبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) امریکی صدر بائیڈن کے اسرائیل کے دورے سے عین قبل غزہ کے ایک اسپتال میں خوفناک دھماکہ ہوا۔ اور اس دھماکے میں 500 سے زیادہ فلسطینی شہید ہوگئے۔اسرائیلیوں اور فلسطینیوں نے ایک دوسرے پر اسپتال پر بمباری کا الزام عائد کیا ہے۔ بائیڈن جو تنازع کے آغاز سے ہی اسرائیل کے پیچھے کھڑے ہیں،جوبائیڈن نے کہا کہ میں نے جو دھماکہ دیکھا ہے۔ اس کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ دھماکہ دوسری ٹیم کی وجہ سے ہوا ہے۔ دوسری ٹیم سے بائیڈن نے مراد فلسطینی عسکریت پسندوں کو لیا۔ بعض مغربی ملکوں نے اس مرحلے پر انگلی اٹھائے بغیر تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ عرب ریاستوں نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے۔یہ اسپتال 1882 میں قائم کیا گیا تھا اور اسے اینگلیکن چرچ کے ذریعے چلایا گیا۔

’’الاہلی عرب‘‘ اسپتال نے اپنی ویب سائٹ پر خود کو دنیا کے سب سے زیادہ پریشان کن مقامات میں سے ایک کے درمیان امن کی پناہ گاہ کے طور پر بیان کیا۔ اسپتال کے مطابق اس نے خدمات کے ساتھ 80 بستروں کی پیشکش کی ہے۔ اسپتال نے چھاتی کے کینسر کا پتہ لگانے کے لیے ایک مفت پروگرام بھی پیش کیا ہے۔ بزرگ خواتین کے لیے ایک مرکزقائم کیا۔ ایک موبائل کلینک بھی تیار کیا جو آس پاس کے شہروں میں مفت خدمات پیش کرتا ہے۔ یہ اسپتال غزہ شہر کے الزیتون محلے میں واقع ہے۔اگرچہ اسپتال میں بستروں کی تعداد محدود تھی لیکن 7 اکتوبر کو شروع ہونے والی لڑائی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے آغاز کے بعد سے یہ اور غزہ کے دیگر اسپتال اپنی گنجائش سے بہت زیادہ بھرے ہوئے تھے۔ یہ مانتے ہوئے کہ اسپتال حملوں کیخلاف محفوظ پناہ گاہیں ہیں، لوگوں نے پورے غزہ میں اسپتالوں کے میدانوں میں پناہ لی ہے۔

آرتھوپیڈک سرجری کے سربراہ ڈاکٹر فضل نعیم نے بتایا کہ منگل کی صبح تقریباً ایک ہزار افراد ’’الاھلی عرب‘‘ اسپتال میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج نے الزیتون محلے کے رہائشیوں کو اپنے گھر خالی کرنے کی تنبیہ کی تھی۔ ڈاکٹر ابراہیم النقا نے بتایا کہ حملہ کے وقت 3000 سے زیادہ افراد اسپتال میں پناہ لیے ہوئے تھے۔سینکڑوں لوگوں کی موت کا باعث بننے والے اس حملے سے قبل اسرائیل نے غزہ کے شمال میں فلسطینیوں سے کہا تھا کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے جنوب کی طرف چلے جائیں۔ ان شمالی علاقوں میں غزہ شہر اور الزیتون محلہ بھی آتا تھا۔ صہیونی فوج نے ’’ایکس‘‘ پر خاص طور پر الزیتون محلے کے مکینوں کو ہجرت کرجانے کا کہا تھا۔

غزہ کے جنوب میں واقع رفح شہر میں کویتی خصوصی اسپتال نے 16 اکتوبر کو بتایا کہ اسے انخلا کے لیے دو اسرائیلی انتباہات موصول ہوئے لیکن اس کے ڈائریکٹر نے کہا تھا کہ اس کا عملہ وہاں سے نہیں جائے گا۔ڈاکٹر فضل نعیم نے کہا کہ میں نے ایک سرجری مکمل کر لی تھی اور اپنی میڈیکل بنیان کو تبدیل کرنے کے لیے دوسری سرجری شروع کرنے ہی والا تھا کہ ایک زبردست دھماکے کی آواز سنی۔ ڈاکٹر نقا نے بتایا کہ دھماکہ شام 6.30 بجے جی ایم ٹی وقت کے مطابق 1520 بجے ہوا۔خبر رساں ادارے رائٹرز کی جانب سے اسپتال کے اندر سے حاصل کی گئی فوٹیج اور تصاویر میں تقریباً دو درجن تباہ شدہ گاڑیاں دکھائی دے رہی ہیں۔ دیواروں اور زمین پر خون کے دھبے تھے۔

تباہ شدہ عمارت بھی نظر آرہی ہے۔فلسطینی حکام نے دھماکے کا الزام اسرائیل پر عائد کیا ہے۔ تنظیم تحریک اسلامی جہاد نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اس کا کوئی راکٹ دھماکے کی وجہ بنا ہے۔ تنظیم نے کہا کہ اس وقت اس کی غزہ شہر یا اس کے آس پاس کوئی سرگرمی نہیں تھی۔ حماس کے رہنما اسماعیل ھنیہ نے کہا کہ اس حملے کا ذمہ دار امریکہ ہے۔ واشنگٹن نے اس جارحیت پر اسرائیل کی پردہ پوشی کی ہے۔ مغربی کنارے میں مقیم فلسطینی اتھارٹی کے وزیر صحت نے بھی اس حملے کا ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہرایا ار اسے قتل عام قرار دیا۔اسرائیل نے اس دھماکے میں ملوث ہونے کی تردید کردی اور کہا کہ یہ دھماکہ اسلامی جہاد کے ناکام راکٹ لانچ کی وجہ سے ہوا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے کہا کہ اسرائیلی ڈیفنس فورسز کے آپریشنل سسٹمز کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ غزہ میں عسکریت پسندوں کی طرف سے راکٹوں کا ایک برسٹ مارا گیا۔ یہ برسٹ اسپتال سے قریب سے گزرا تھا۔ اسی کی وجہ سے دھماکہ ہوا۔امریکی صدر بائیڈن نے بھی دھماکہ کے حوالے سے الزام تراشی کرتے ہوئے انگلی فلسطینی عسکریت پسندوں پر اٹھائی ہے۔ نیتن یاہو کے ساتھ بات کرتے ہوئے بائیڈن نے کہا کہ گزشتہ روز غزہ کے اسپتال میں ہونے والے دھماکے سے مجھے بہت دکھ ہوا اور غصہ آیا۔ جو کچھ میں نے دیکھا ہے۔ اس کی بنیاد پر ایسا لگتا ہے کہ یہ دوسری ٹیم نے کیا ہے نہ کہ آپ لوگوں نے۔کینٹربری کے آرچ بشپ اور اینگلیکن چرچ کے سربراہ جسٹن ویلبی نے کہا ہے کہ یہ معصوم جانوں کا خوفناک اور تباہ کن نقصان ہے۔ ہم اپنے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ اس سوگ میں شریک ہیں۔ میں اس تباہ کن جنگ میں شہریوں کے تحفظ کے لیے اپنی اپیل کی تجدید کرتا ہوں۔


’ثبوت ملے ہیں کہ اسرائیل نے غزہ میں اسپتال پر MK-84 بم گرایا تھا‘

ترکی کی دفاعی ٹیکنالوجی کمپنی ٹرائے نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں منگل کے روز المعمدانی اسپتال پر کی گئی بمباری میں یہ ثابت ہوا ہے کہ اسرائیل نے ایک خطرناک بم گرایا تھا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ غزہ کے عرب اہلی اسپتال تک پہنچنے والے گولہ بارود کے نشانات کے ساتھ ساتھ دھماکے کی آواز اور طاقت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ MK-84 بم سے کیا گیا تھا۔ ٹرائے وار ہیڈ ٹیکنالوجیز، چھوٹے میزائلوں اور ملٹری گریڈ کے اعلیٰ دھماکہ خیز کیمیکلز کے شعبے میں کام کرتی ہے۔ کل بدھ کو اناطولیہ نیوز ایجنسی نے کمپنی کے ڈائریکٹر سعید ایرسوئے بارکتلی اوگلو کے ساتھ ایک میٹنگ کی تاکہ ان تصاویر اور مناظر پر تبصرہ کیا جا سکے جو منگل کے روز غزہ میں اسپتالپر بمباری کے حوالے سے رائے عامہ کی عکاسی کرتے ہیں جس کے نتیجے میں 478 شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اسپتال میں گولہ بارود پہنچنے کے آثار اور دھماکے کی آواز اور طاقت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دو ہزار پاؤنڈ (910 کلوگرام) وزنی "MK-84” بم کی وجہ سے ہوا ہے جو "مشترکہ براہ راست حملہ کرنے والے ہتھیاروں سے لیس ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سازوسامان کی مدد سے بم ایک گائیڈڈ میزائل میں تبدیل ہو گیا تھا۔ اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ بم میں تقریباً 430 کلو گرام دھماکہ خیز مواد موجود ہے ترک کمپنی کے عہدیدار نے کہا کہ اگر گولہ بارود مناسب زاویے پر اپنے ہدف تک پہنچ جائے تو بہت تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اس گولہ بارود کو مختلف قسم کے دھماکا خیز مواد سے بھرا جا سکتا ہے تاکہ اس کی افادیت میں اضافہ ہو سکے، اور یہ کہ MK-84 بم HMX پر مشتمل ہے اور اس میں گھسنے والا اثر ہے جو کسی عمارت کو آسانی سے تباہ کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک اور امکان یہ ہے کہ یہ BLU-109 بنکر بسٹر بم ہو سکتا ہے، یہ دونوں اسرائیلی فوج کی انوینٹری میں موجود ہیں۔ غزہ میں وزارت صحت نے بتایا کہ منگل کی شام عرب الاھلی  اسپتال کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی قتل عام میں مرنے والوں کی تعداد 471 تک پہنچ گئی جن میں سے 28 کی حالت تشویشناک ہے۔ اسپتال پر بمباری کے بعد عالمی سطح پر سخت رد عمل سامنے آیا ہے تاہم انسانی حقوق کے نام نہاد مغربی ٹھیکیدار اس بربریت پر مسلسل آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button