سرورقگوشہ خواتین و اطفال

عورت قرآن کی نظر میں

قران نے عورت کو اس پستی و ذلت بھری زندگی سے باہر نکالا

عورت تمام ادیان نے جہاں عورت کے متعلق پست خیالات کا اظہار کیا جس کی بنا پر اسے انسانیت کے کندھوں پر ہمیشہ ایک بار سمجھا گیا چنانچہ قدیم دنیا کا ذرہ ذرہ اس کے خون کا پیاسا اور چپا چپا اس کی ذات کا خواہاں اور اس کی عزت و ناموس کے در پہ رہا ۔عورت کو اس کے سوا کچھ نہ سمجھا جاتا تھا کہ وہ محض خادمہ بن کر گھر والوں کی خدمت کرتی رہیں وہی قران نے عورت کو اس پستی و ذلت بھری زندگی سے باہر نکالا اسے نئی زندگی دی اسے معاشرے میں رہنے کا سلیقہ اور طریقہ دیا قران نے عورت کو زندگی کے وہ اصول دیے جس نے اسے فرش سے عرش پر بٹھا دیا ۔

قران عورت کو ایک مکمل نظام حیات دیتا ہے قران عورت کو اس کے اپنے وجود سے آشنا کراتا ہے جہاں قران نے عورت کو اس کی قدر و منزلت دکھائی ہے وہیں اسے اس کے فرائض بھی بتائے ہیں۔قران عورت کو دنیا کی اس باگ دوڑ میں قدم سے قدم ملا کے چلنا سکھاتا ہے۔

ایک بہترین عورت کون ہے اور اس میں کیا صفات ہونا چاہیے قرآن نے ان سب باتوں کو ظاہر کیا ہے قران کی نظر میں جو ایک بہترین عورت کی صفات ہے اگر وہ جس عورت میں ہو وہ ہی اصل بہترین عورت ہے۔کوئی بھی انسان چاہے مرد ہو یا عورت اس کا اس فانی دنیا میں سفر پیدائش سے شروع ہوتا ہے ۔۔۔قرآن کی تعلیمات سے پہلے عورت کی پیدائش کو منحوس سمجھا جاتا

جیسے قران میں ہے ،

جب ان میں سے کسی کو بیٹی پیدا ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کے چہرے پر کلونس چھا جاتی ہے اور بس وہ خون کا سا گھونٹ پی کر رہ جاتا ہے لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے کہ اس بری خبر کے بعد کیا وہ کسی کو منہ دکھائے سوچتا ہے ذلت کے ساتھ بیٹی کو لیے رہے یا مٹی میں دبا دے (سورہ نحل آیت نمبر 59)

جیسا کہ اس آیت میں اللہ نے ان لوگوں کی سوچ بتائی کہ جو بیٹی کو برا جانتے اس ظلم پر اللہ تعالی ظالموں سے ضرور سوال کریں گا اس بات کی نشاندہی قران میں کی گئی ہے_اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس قصور میں ماری گئی۔قران نے عورت پر سب سے پہلا احسان یہ کیا کہ عورت کی شخصیت کے بارے میں مرد اور عورت دونوں کی ذہنیت کو بدلا انسان کے ذہن و قلب میں عورت کا وقار مقام اور مرتبہ تعین کیا اس کی شخصی سماجی تمدنی اور معاشی حقوق کا تخیل جاگریں کیا.

قران پاک میں ارشاد ہوتا ہے_اللہ نے تمہیں ایک انسان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو بنایا_(سورہ نساء ایت ۱)

قران نے یہ بتایا ہے کہ انسان ہونے میں مرد اور عورت سب برابر ہے یہاں مرد کے لیے اس کی مردانگی باعث شرف ہے نہ عورت کے لیے اس کی نسوانیت باعث عار ہے ایک عورت قران کی نظر میں وہی حیثیت رکھتی ہے جو مرد رکھتا ہے

جو لوگ سمجھتے ہیں کہ عورت کا مقام کم ہے وہ مردوں سے کم ہے ان کے اس قول کو قران غلط قرار دیتا ہے_اللہ کے ہاں تم میں سے بزرگ ترین وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہو_(سورہ حجرات 13)

یہاں قران نے بتا دیا کہ کوئی انسان چاہے مرد ہو یا عورت ہو صرف اللہ سے محبت اور ڈر کے بنیاد پر اعلی اور کمتر ہے نہ کی مرد یا عورت ہونے کی بنا پر .قران کی نظر میں کسی کےبھی نیک اعمال ضائع نہیں ہوتے چاہے وہ مرد ہو یا عورت اکثر لوگوں کا یہ گمان ہوتا ہے کہ عبادت صرف مرد کے ذمّہ ہے کہ مرد کے ہی نیک اعمال قابل قبول ہیں عورت تو محض گھر کی چار دیواری کے کاموں کے لیے بنی ہوئی ہے۔ایسے لوگوں کے گمان کو غلط ثابت کر کے قران کا قول ہے ،_اللہ تم میں سے کسی کے عمل ضائع نہیں کرتا عمل کرنے والا خواہ مرد ہو یا عورت تم سب ایک دوسرے سے ہو_(سورۃ ال عمران 195)

جس مرد یا عورت نے اچھے عمل کیے اور وہ مومن ہے تو ہم اسے پاکیزہ زندگی عطا کریں گے اور ان کو ان کے انجام دیے ہوئے بہتر اعمال کا بہترین اجر و ثواب عطا فرمائیں گے_(سورہ نحل ۹۷)

قران کریم میں جن صفات کو مردوں کے لیے بنظر استحصان دیکھا گیا ہے وہی صفات عورتوں کے لیے بھی پسند فرمائی گئی ہیں اور دنیاوی و اخروی فوز و فلاح کا جو معیار مردوں کے لیے رکھا ہے بعینہ وہی معیار عورت کے لیے بھی رکھا گیا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں ہی اسلام کے نزدیک معاشرے کے ناقابل تقسیم اجزاء اور تمدن کی گاڑی کے ناگزیر پہیے ہیں۔قران نے حق بندگی میں عورت کو مرد کے برابر لا کھڑا کیا ہے_بے شک جو مرد اور عورتیں مسلم ہیں مومن ہیں مطیع فرمان ہیں راست باز ہیں صابر ہیں اللہ کے اگے جھکنے والے ہیں صدقہ دینے والے ہیں اور روزہ رکھنے والے ہیں اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں اللہ نے ان کے لیے مغفرت اور بڑا اجر مہیا کر رکھا ہے_

قران کے نزدیک صلاح و تقوی اور آخرت کی کامیابی کا جو معیار مرد کے لیے ہے وہی معیار عورت کے لیے ہے اس معیار کو پورا کرنا ہر مرد اور عورت کا فرض ہے۔_ایمان لانے والے مرد اور ایمان لانے والی عورتیں ایک دوسرے کے معاون ہیں وہ بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں نماز قائم کرتے ہیں اور زکوۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں ان لوگوں پر اللہ ضرور رحم کرے گا بلاشبہ اللہ غالب اور حکمت والا ہے_(سورہ توبہ 71 )

اسلام نے عورت کو بہت قیمتی سرمایہ کہا ہے اس لیے قرآن میں اسے خود کو چھپانے کے لیے پردے کا حکم دیا ہے قران کی نظر میں ایک باحیا اور خوبصورت عورت وہ ہے جو پردے کا اہتمام کرتی ہے جو محرم اور غیر محرم کی حدود کو جانتی ہیں،قران میں اللہ رب العالمین سورہ احزاب میں فرماتے ہے_اے نبی کی بیویوں تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر تم اللہ سے ڈرنے والی ہو تو دبی زبان سے بات نہ کیا کرو کہ دل کی خرابی کا مبتلا شخص لالچ میں پڑ جائے بلکہ صاف سیدھی بات کرو اپنے گھر میں ٹک کر رہو اور سابق دور جاہلیت کی طرح سج دھج نہ دکھاتی پھرو۔ نماز قائم کرو زکوۃ دو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم اہل بیت نبی سے گندگی کو دور کر دے اور تمہیں پوری طرح سے پاک کر دے_

اس ایت میں بظاہر خطاب نبی کی بیویوں سے کیا گیا ہے مگر مقصود ساری عورتیں ہیں اس آیت میں جہاں یہ بتایا ہے کہ عورتوں دور جاہلیت کے اطوار کو چھوڑ دو وہی انہیں نماز قائم کرنے اور زکوۃ دینے کے لیے بھی کہا ہے قران کی نظر میں ایک عورت سچی مومنہ تب ہوتی ہےجب وہ قران کے احکام کو من و عن قبول کرتی ہیں۔

اللہ تعالی قران مجید میں سورہ نور میں فرماتا ہے

وہ زمین پر اس طرح پاؤں مارتی ہوئی نہ چلیں کہ جو زینت انہوں نے چھپا رکھی ہے اس کا علم لوگوں کو ہو”_”اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مومن عورتوں سے کہہ دو اپنی نظریں بچا کر رکھے اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ سنگھار نہ دکھائیں بجز اس کے جو خود ظاہر ہو جائے اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے انچل ڈالے رہیں وہ اپنا بناؤ سنگار نہ ظاہر کرے مگر ان لوگوں کے سامنے شوہر, باپ ،شوہروں کے باپ ،بیٹے،شوہر کے بیٹے،بھائی اور بھانجے اپنے میل جول کی عورتیں اپنے مملوک وہ زیر دست جو کسی قسم کی غرض نہ رکھتے ہوں اور وہ بچے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے ابھی نام واقف ہو”_(سورہ نور 31 )

اس طرح قران نے مختلف مقامات پر عورت کی حیات اور عصمت و عفت کی حفاظت کو بے پناہ اہمیت دی ہے اور اس کے لیے ایک معتدل ضابطہ عمل مقرر کر دیا ہے،قران نے عورت کی معاشی خود کفالت کا انتظام کیا اسے وراثت میں اپنا حق بتایا ہے_”مردوں کے لیے اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ داروں نے چھوڑا ہو اور عورتوں کے لیے بھی اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ داروں نے چھوڑا ہو خواہ تھوڑا ہو یا بہت اور یہ حصہ اللہ کی طرف سے مقرر ہے”_(سورہ نساء ۷)

عورت کو جو مختلف طریقے سے جو کچھ مال پہنچتا ہے اس میں ملکیت قبضہ اور تصرف کے تمام اختیارات اور حقوق اسے دیے گئے ہیں جن میں کسی کو بھی مداخلت کا اختیار نہیں

ارشاد باری تعالی ہے,

"خوشحال ادمی اپنی استطاعت کے مطابق اور غریب ادمی اپنی استطاعت کے مطابق معروف طریقے سے نفقہ دے "(سورہ بقرہ 236 )

جو حقوق عموماً عورت سے چھین لیے جاتے ہیں قران نے اسے بہترین طریقے سے لوٹا دیا ہے قران نے عورت کو وراثت میں حصہ دیا اس کے نان و نفقہ کا انتظام کیا اسے مہر کا حق بھی دیا قران کی ان دلائل سے عورت کی معاشی حیثیت اور مستحکم ہوتی ہے” عورتوں کے مہر خوش دلی کے ساتھ ادا کرو البتہ اگر وہ خود اپنی خوشی سے مہر کا کوئی حصہ تمہیں معاف کر دیں تو اسے تم مزے سے کھا سکتے ہو”(سورہ نساء )

قران نے عورت کو ایک قدر و منزلت عطا کی ہے قران نے عورت کا مقام عزت بڑھایا ہے اگر کوئی نکاح کرنا چاہے تو اس پہ فرض کر دیا ہے مہر کو ادا کرنا۔اگر مرد عورت میں کوئی تنازعہ ہو جائے تو اس کا حل قران نے اس طرح پیش کیا ہے۔”اگر تم کو معلوم ہو کہ میاں بیوی میں ان بن ہے تو ایک منصف مرد کے خاندان سے اور ایک عورت کے خاندان میں سے مقرر ہو اگر یہ صلح کرا دینا چاہیں گے تو اللہ ان میں موافقت پیدا کر دے گا کچھ شک نہیں کہ اللہ سب کچھ جانتا اور سب باتوں سے خبردار ہیں”(سورہ نساء 35 )

اس کے باوجود بھی اگر طلاق کا معاملہ پیش آتا ہے تو قران عورت کو تنہا نہیں چھوڑتا وہ ایسی عورتوں کو جنہیں طلاق دی گئی ہو حقوق دیتا ہے اور معاشرے میں انہیں سر اٹھا کر جینے کا حق دیتا ہے۔”نہ تو تم ہی ان کو ایام عدت ان کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ خود ہی نکلے”قران نے عورتوں کو ظالم شوہروں سے نجات کے لیے خلعہ کا ذریعہ بھی بتایا ہے”اس لیے اگر تمہیں ڈر ہو کہ دونوں اللہ کی حد قائم نہ رکھ سکیں گے تو اگر عورت رہائی پانے کے بدلے میں کچھ دے ڈالے تو دونوں پر کچھ گناہ نہیں”(سورہ بقرہ ٢٩٩)

قران نے عورتوں کو خلعہ کا حق دے کر اسے بہت بڑی تکلیف سے نجات دلائی ہے۔آج سماج میں بیوہ عورتوں کی صورتحال قابل رحم ہے صدیوں سے بیوہ عورتیں ظلم کا شکار ہے اور ان کی حالت قابل رحم ہے اسلام نے بیواؤں کو بھرپور سماجی تحفظ فراہم کیا ہے ۔”اور جو لوگ تم میں سے مر جائیں اور عورتیں چھوڑ جائیں وہ اپنی عورتوں کے حق میں وصیت کر جائیں کہ ان کو ایک سال تک خرچ دیا جائے اور گھر سے نہ نکالی جائیں”
(البقرہ)

ایک بے سہارا بیوہ کے ساتھ سب سے بڑا نیک سلوک یہ ہے کہ اس کے لیے صالح جوڑا تلاش کر کے اس کو حصار نکاح میں محفوظ کر دیا جائے”اور تم میں جو عورتیں بیوہ ہیں ان کے نکاح کر دو” (النور 32)

قران نے عورتوں پر اپنے گھر والوں کو خدا کی نافرمانی سے بچانے کی ذمہ داری بھی دی ہے

"اے لوگوں جو ایمان لائے ہو بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے جس پر تیز تندخو اور سخت گیر فرشتے مقرر ہوں گے جو کبھی اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم بھی انہیں دیا جاتا ہے اسے بجا لاتے ہیں”(سورہ تحریم)

مذکورہ بالا آیات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ کی انجام دہی عبادت و فرائض کی ادائیگی اور معروف کے کام میں ایک دوسرے کا تعاون کرنا مرد اور عورت دونوں پر لازم ہے۔قران اور اسلام نے عورت کو مستقل بالذات تسلیم کیا ہے دوسری طرف اسے اعلی مقام عطا کیا ہےاب یہ اہل ایمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے میں اپنا صحیح مقام حاصل کریں اور مرد اور عورتیں اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی سمجھ کر معاشرے کی قرانی نسخہ پر تشکیل نو کرے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب مرد اور عورت اپنی ذات میں ایک قرانی نسوانی شخصیت کی تعمیر کرنے کی طرف متوجہ ہوں ۔

نواب ہانی جمالی ارشاد نواب
پوسد مہاراشٹر

متعلقہ خبریں

Back to top button