دبئی ، 17اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)لبنان کے وزیر دفاع مورس سیلم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ دارالحکومت بیروت کے علاقے طیونہ میں جو کچھ ہوا اسے دہرایا نہیں جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت طیونہ میں سیکیورٹی فورسز تعینات ہیں۔وزیردفاع نے لبنانی میڈیا کے ساتھ ایک انٹرویو میں اشارہ کیا کہ وزارت دفاع کو مظاہروں کے پرامن ہونے کی تصدیق پیشگی معلومات ملی تھیں لیکن یہ کہ طیونہ میں بھگدڑ اور تصادم کی وجہ سے دونوں طرف سے فائرنگ ہوئی۔
تشدد کا سلسلہ طیونہ سے شروع ہوا اور عین الرمانہ تک پھیل گیا۔جہاں تک بندرگاہ دھماکوں کی تفتیش کے ذمہ دار جج البیطار کے بارے میں فیصلے کا تعلق ہے اس بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مورس سلیم نے کہا کہ جج کو ہٹانا یا لگانا سیاست نہیں بلکہ عدلیہ کا کام ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فوج اور انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ تحقیقات سے متعلق دباؤ کا شکار نہیں ہیں۔ وزیر دفاع نے کہا کہ طیونہ میں جو کچھ ہوا اسے دہرایا نہیں جائے گا۔ وہاں کوئی متوقع پیش رفت نہیں اور سیکورٹی فورسز تعینات ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ لبنان کے دارالحکومت میں جمعرات کو پرتشدد جھڑپیں شروع ہوئیں ، جو خانہ جنگی کے برسوں کی یاد دلاتی ہیں۔ یہ جھڑپیں بیروت کی بندرگاہ میں ہونے والے دھماکے کی تحقیقات سے منسلک سیاسی کشیدگی کو جنم دیتی ہیں۔بیروت نے برسوں بعد اس نوعیت کا تصادم اور تشدد دیکھا گیا۔
یہ ایک خطرناک اضافہ ہے جس کے باعث ملک کو ایک نئے بحران میں ڈوب سکتا ہے۔ یہ کشیدگی لبنان میں حکومت کے قیام کے صرف ایک ماہ کے بعد سامنے آئی ہے۔ موجودہ حکومت اس وقت ملک کو درپیش معاشی مسائل کے حل پر توجہ مرکوز کررہی ہے جب کہ حالیہ ایام میں ملک میں امن وامان کی صورت حال بھی خراب ہوئی۔




