سرورققومی خبریں

مظفر نگر طالب علم کے ساتھ پٹائی کا معاملہ جو کچھ ہوا، اُس سے ریاستی حکومت کا ضمیر دہل جانا چاہیے : عدالت عظمیٰ

سپریم کورٹ نے کہا کہ معاملے کی جانچ سینئر آئی پی ایس افسر کی نگرانی میں کرائی جائے

نئی دہلی،25ستمبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) یوپی کے مظفر نگرمیں اسکول میں طالب علم کو ساتھی طالبعلموں سے فرداً فرداً تھپڑ مارے جانے کے معاملے پر سپریم کورٹ نے کہا کہ بچے کو اس کے مذہب کی وجہ سے مارنے کا حکم دیا گیا؟آخریہاںکیسی تعلیم دی جا رہی ہے؟ سپریم کورٹ نے کہا کہ ایف آئی آر درج کرنے کے طریقے پر ہمیں شدید اعتراض ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ والد نے بیان میں الزام لگایا تھا کہ اسے مذہب کی وجہ سے مارا پیٹا گیا، لیکن ایف آئی آر میں اس کا ذکر نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اگلا سوال یہ ہے کہ ویڈیو ٹرانسکرپٹ کہاں ہے؟سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ معاملہ معیاری تعلیم کا ہے، معیاری تعلیم میں حساس تعلیم بھی شامل ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ جس طرح سے یہ ہوا ہے اس سے ریاست کے ضمیر کو جھنجھوڑ دینا چاہیے۔ جسٹس کے ایم نٹراج نے کہا کہ فرقہ وارانہ پہلو کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔ وہاں کچھ ہے، یہ بہت سنجیدہ ہے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ معاملے کی جانچ سینئر آئی پی ایس افسر کی نگرانی میں کرائی جائے۔ سپریم کورٹ نے پوچھا کہ اس معاملے میں چارج شیٹ کب داخل کی جائے گی؟ گواہوں اور بچے کو کیا تحفظ دیا جائے گا؟سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ فوجداری قانون کے نفاذ میں ناکامی کا معاملہ ہے۔ اس کے علاوہ معیاری تعلیم فراہم کرنے کے بنیادی حقوق اور آر ٹی ای ایکٹ کی بھی خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بچے کو جسمانی سزا دینے پر پابندی کی بھی خلاف ورزی ہے۔ سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت 30 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔ سپریم کورٹ نے اتر پردیش حکومت کو ہدایت دی کہ وہ اس معاملے میں ملوث طلباء کی کونسلنگ کے بارے میں رپورٹ داخل کرے اور متاثرہ بچے کی تعلیم کی ذمہ داری لینے کا حکم دے۔

اتر پردیش کے مظفر نگر میں ایک طالب علم کو تھپڑ مارنے اور متنازعہ ریمارکس کرنے کے معاملے میں تشار گاندھی کی طرف سے دائر عرضی پر سپریم کورٹ نے کہا کہ ریاستی حکومت اس معاملے کی نگرانی کے لیے ایک ہفتے کے اندر ایک سینئر آئی پی ایس افسر کی تقرری کرے۔ یہ افسر عدالت کو رپورٹ دے گا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ بچے کو اب اس اسکول میں نہیں رکھا جائے گا۔ اس کے علاوہ عدالت نے اسکول کو غیر قانونی طور پر چلانے پر بھی سوالات اٹھائے۔ سپریم کورٹ اس معاملے میں یوپی حکومت کو پہلے ہی نوٹس جاری کر چکی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ وائرل ہونے والے ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک سرکاری اسکول کی ٹیچر ایک طالب علم کو دوسرے طلباء سے تھپڑ لگوا رہی ہے اور متنازعہ تبصرہ بھی کیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button