آب حیات,پانی کم پینا کیا نقصان پہنچاتا ہے؟-ڈاکٹر امۃ البریرہ فہمیدہ سفیان دہلی
جسمانی درجہ حرارت کا توازن بگڑ جاتا ہے
سانس کی بو: ہر وقت پیاز یا لہسن کو سانس کی بو کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا، در حقیقت پانی منہ میں جاکر لعاب دہن کو بو پیدا نہیں کرنے دیتا، تو اگر آپ پانی کی کمی کے شکار ہیں تو سانس کی بو کا سامنا ضرور ہوگا۔ ایک تحقیق کے مطابق منہ زیادہ دیر تک خشک رہے تو منہ میں موجود بیکٹیریا بدبو دار ہوجاتے ہیں جو سانس میں بو کا باعث بنتے ہیں۔
ہر وقت سر درد رہنا: اگر آپ کو اکثر شدید سر درد رہتا ہے تو یہ ممکنہ طور پر اس بات کی علامت ہے کہ آپ ڈی ہائیڈریشن کے شکار ہورہے ہیں، ایسا ہونے پر درد کش ادویات کے استعمال سے پہلے ایک یا دو گلاس پانی پی کر انتظام کریں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ ایسا کرنے سے درد دور ہوجائے۔
گہرے زرد رنگ کا پیشاب: پانی کی کمی کا ایک بڑا ثبوت پیشاب کی رنگت کا بدل جانا ہے، اگر وہ بہت زیادہ زرد یا پیلے رنگ کا ہے تو یہ واضح ہے کہ آپ کے جسم میں پانی کی کمی واقع ہوگئی ہے۔
قبض کی شکایت: اگر آپ کو اکثر قبض کی شکایت رہتی ہے تو یہ بھی پانی کی کمی کی ایک علامت ہوسکتی ہے جس کا حل پانی کا استعمال بڑھا دینا ہوسکتا ہے، کیونکہ ایسا کرنے سے آنتوں کا کام کرنے میں مدد ملتی ہے۔
جسمانی درجہ حرارت کا توازن بگڑ جاتا ہے: آپ کی معمولی سی سرگرمی بھی جسم میں حرارت پیدا کرتی ہے مگر ہمارا بنیادی درجہ حرارت کو مستحکم رہتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق جسم مختلف عمل جیسے پسینہ خارج کرکے درجہ حرارت کو مستحکم رکھتا ہے مگر جب آپ پانی کی کمی کا شکار ہو تو پسینہ خارج ہی نہیں ہوتا اور اس کا مطلب ہے کہ جسم کو ٹھنڈا کرنے کا میکنزم بھی درست طریقے سے کام نہیں کرپاتا اور وہ حرارت جسم میں قید ہوکر درجہ حرارت کو بڑھانے لگتی ہے۔
ہر وقت تھکاوٹ: مناسب نیند کے باجود اگر آپ دن بھر تھکاوٹ کے شکار رہتے ہیں تو اس کی وجہ ڈی ہائیڈریشن ہوسکتی ہے، جسم میں پانی کی مناسب مقدار حسوں کو چوکنا رکھتی ہے اور توانائی بھی فراہم کرتی ہے، تو اگر آپ سستی محسوس کررہے ہوں تو پانی پی لیں اگر پھر بھی شکایت دور نہ ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کریں کیونکہ یہ دیگر امراض کا انتباہ بھی ہوسکتی ہے۔
پسینے کا اخراج رک جاتا ہے: اگر جسم میں پانی کی کمی ہوجائے تو اس کے اندر پسینے اور پٹھوں میں خون کی سپلائی کے لئے مناسب مقدار میں سیال نہیں ہوتا تو وہ اپنے کچھ کاموں کو بند کرنا شروع کردیتا ہے۔ اگر آپ کا جسم اعضاء تک خون کی سپلائی کی کوشش کرے گا تو پسینہ خارج ہونا رک جائے گا۔ اگر پانی کی کمی کو پورا نہ کیا جائے تو وہ خون کی شریانوں کو ہی بند کرنا شروع کردیتا ہے مگر ایسا بہت ہم کم ہوتا ہے۔
کھانے کی خواہش بڑھ جانا: اگر میٹھے یا نمکین کھانوں کی خواہش بڑھ جائے یا تھوڑی تھوڑی دیر بعد بھوک لگنے لگے تو یہ جسم میں پانی کی کمی کا نتیجہ ہوسکتا ہے جو کہ بھوک بڑھانے والے ہامونز کی کارکردگی کو بڑھا دیتا ہے، جب ہم پیاسے ہوتے ہیں تو ہمارا جسم اسے بھوک سمجھتا ہے،
تو ایسی صورت میں پہلے پانی پی کر دیکھیں کہ بھوک موجود رہتی ہے یا نہیں۔
دل کو زیادہ کام کرنا پڑتا ہے: انسانی جسم کا 60 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے اور اس کا بڑا ذخیرہ خون کی صورت میں ہوتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق جسم میں پانی کی کمی کی صورت میں خون کا والیوم گھٹنے لگتا ہے مگر ہمارا دل خون پمپ کرنے کا کام اسی رفتار سے جاری رکھتا ہے تاکہ اعضاء کو معمول پر رکھا جاسکے۔ پانی کی کمی کے باعث دل کا کام مشکل ہوجاتا ہے اور جب وہ کمی پورا نہیں کرپاتا تو مختلف مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔
خشک جلد اور جھریاں: اگر آپ کی جلد خشک اور جھریوں کا شکار ہورہی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ جسم پانی کی طلب کررہا ہے جو کہ جلد کو روشن اور صحت مند رکھتا ہے، جب جسم میں پانی کی کمی ہوتی ہے تو وہ خشک اور پرت دار ہونے لگتا ہے خاص طور پر سردیوں کے موسم میں اور یہ ضروری ہے کہ اچھی جلد کے لئے مناسب مقدار میں پانی کا استعمال کیا جائے۔
دماغی صلاحیت میں کمی: کبھی چیزیں بھولنے لگتے ہیں، الجھن کے شکار اور دماغ میں دھند چھائی ہوئی محسوس ہوتی ہے اور پھر اچانک احساس ہوتا ہے کہ آپ تو پیاسے ہیں؟ ہمارے دماغ پانی کی کمی کو پسند نہیں کرتا اور ایسا ہونے کی صورت میں دماغ کے کچھ حصوں کا حجم گھٹنے کا امکان ہوتا ہے۔ طبی ماہرین کے مردوں اور خواتین میں ایسا ہونے کی صورت میں مختلف طریقے سے اثرات مرتب ہوتے ہیں، جیسے خواتین چڑچڑی ہوجاتی ہیں، کام کرنا مشکل ہوتا ہے اور سر درد ہونے لگتا ہے۔ اس کے مقابلے میں مرد اتنا تھکان اور خوف محسوس کرنے لگتے ہیں جبکہ ان کی یاد داشت بھی متأثر ہوتی ہے۔
کھڑے ہونے پر سر چکرانا: طبی ماہرین کے مطابق کھڑے ہونے پر سر چکرانا یا ہلکا پن اس بات کی علامت ہے کہ آپ کے اندر پانی کی کمی ہورہی ہے، اگر ایسا ہو تو دن بھر میں کچھ گلاس پانی زیادہ پینا شروع کردیں اور اگر تبدیلی آئے تو ثابت ہوجائے گا کہ یہ ڈی ہائیڈریشن کا نتیجہ تھا۔
نمکیات کی کمی: اگر آپ نے کافی دیر سے پانی نہیں پیا اور اتنی دیر پسینہ بہتا رہا تو اس بات کے پورے امکان ہیں کہ جسم کو نمکیات کی کمی کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔
مسلز اکڑنا: اگر صبح اٹھنے کے بعد جسم کے مختلف حصوں میں اکڑن اور تناؤ محسوس ہو تو یہ بھی پانی کی کمی کا نتیجہ ہوسکتا ہے، اگر آپ اضافی اکڑن محسوس کریں تو فوری طور پر پانی پی لیں تاکہ تناؤ میں کمی آسکے۔



