حرکاتِ قلب-بلڈپریشر سے کیا مراد ہے؟ڈاکٹر صداقت علی
کیا خون کی سب نالیاں ایک جیسی ہوتی ہیں؟
سینے میں بائیں طرف تقریباً انسانی مٹھی کا وزن اور ہم شکل دل شکمِ مادر سے دمِ آخر تک مسلسل دھڑکتا ہے اور آرام کئے بغیر انسانی جسم کے اندر سینکڑوں میل لمبی نالیوں میں خون گردش میں رکھتا ہے۔
کیا دل خون صاف کرتا؟
عموماً ایسا ہی سمجھا جاتا ہے لیکن درحقیقت ایسا نہیں، خون صاف کرنا پھیپھڑوں، جگر اور گردوں کا کام ہے دل تو صرف پھیپھڑوں سے خون وصول کرکے پورے جسم میں بھیجتا اور پورے جسم سے وصول کرکے پھیپھڑوں تک پہنچاتا ہے۔ جو خون دل پورے جسم سے وصول کرکے پھیپھڑوں کو بھیجتا ہے وہ کار بن ڈائی آکسائڈ سے لبریز اور آکسیجن سے خالی ہوتا ہے۔ پھیپھڑے اس خون میں سے کاربن ڈائی آکسائڈ نکال کر آکسیجن بھردیتے ہیں۔ اب یہی خون واپس دل میں آتا ہے اور دل اسے پورے جسم میں آکسیجن بانٹنے کے لئے بھیج دیتا ہے۔ خون کی یہ دوہری گردش ہی دل کا اصل کام ہے جو اس میں پہلو بہ پہلو چلتی ہے۔ ان گردشوں کو سر انجام دینے کے لئے خون کی نالیاں جسم کے کونے کونے میں موجود ہیں۔
کیا خون کی سب نالیاں ایک جیسی ہوتی ہیں؟
بظاہر تو ایک جیسی نظر آتی ہیں لیکن اپنے فعل اور ساخت کے اعتبار سے ان میں بہت فرق ہوتا ہے خون کی وہ نالیاں جو دل سے خون لے کر دور جاتی ہیں شریانیں کہلاتی ہیں یہ درخت کے تنے کی طرح شاخوں میں بدل جاتی ہیں اور شاخیں چھوٹی چھوٹی ٹہنیوں کی شکل اختیار کرلیتی ہیں اسی طرح جو خون کی نالیاں خون لے کر دل کی طرف آتی ہیں وہ وریدیں کہلاتی ہیں، ندّی نالوں کی طرح دریاؤں میں گرتی ہیں اور دریا بالآخر سمندر کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ یہ وریدیں ہی ہیں جو جلد کے نیچے نیلگوں رنگت کی بل کھاتی نظر آتی ہیں شریانیں دکھلائی نہیں دیتیں لیکن اپنی موجودگی کا احساس جسم میں کئی جگہ نبض کی شکل میں دلاتی ہیں، گلاب کے مانند سرخ سرخ رخساروں کا حسن شریانوں ہی کا مرہونِ منت ہے۔
ایسا کیوں ہوتا ہے کہ کچھ لوگوں کی جلد بہت نیلگوں ہوتی ہے، ہونٹ نیلے رہتے ہیں، ناخن بھدّے اور نیلے ہوتے ہیں اور انہیں سانس بھی بہت جلد چڑھتا ہے، دھڑکن بے انتہاء ہوتی ہے؟
ایسا عموماً دل کی پیدائشی بیماریوں میں ہوتا ہے، ان بیماریوں میں دل کی ساخت اور بناوٹ میں ایسے نقائص رہ جاتے ہیں جن کی وجہ سے دل میں گندے اور صاف خون کی ملاوٹ ہوتی ہے اور جس قدر یہ ملاوٹ زیادہ ہو اسی قدر یہ علامات زیادہ ہوتی ہیں۔ دل کی مثال ایک چوک سے دی جاسکتی ہے۔ ذرا فرق کے ساتھ چوک میں ٹریفک بتیوں کے حساب سے چلتی ہے۔ ایک طرف رکتی ہے تو دوسری طرف چلتی ہے لیکن دل میں گندے اور صاف خون کی ٹریفک ایک ساتھ چلتی ہے، اور ہیڈ برج میں اگر بڑا چھید ہوجائے تو جو نتیجہ برآمد ہوگا اس کا تصور کیا جاسکتا ہے۔ اسی قسم کے نقائص جب دل کے مختلف چیمبرز میں پیدا ہوجاتے ہیں تو مکس اپ ہوجانے سے ’’گندہ‘‘ خون صاف خون سے مل کر جسم کو مہیا ہوتا ہے۔ اس خون میں آکسیجن اتنی نہیں ہوتی جو جسم کی تمام ضرورتیں پوری کرسکے۔ اس قسم کے نقائص کا علاج عموماً آپریشن تصور کیا جاتا ہے۔ آپریشن کے ذریعہ ان مخصوص نقائص کی مرمت کردی جاتی ہے اور مریض کسی حد تک تندرست ہوجاتے ہیں۔
سوچ اور جذباتی معاملات سے دل کا کیا تعلق ہے؟
دل کا سوچ اور جذباتی معاملات سے کوئی رشتہ نہیں لیکن وہ بہت حساس ہوتا ہے۔ وہ سوچتا نہیں سوچوں سے متاثر ہوتا ہے۔ دماغ میں اگر جذبات کی لہریں اٹھتی ہوں تو دل ان کے لَے اور ردھم اپنا لیتا ہے۔ منفی سوچ اور غیر ضروری جذباتی پن صحت مند انسان کو دل کا مریض بناتا اور دل کے مریض کی حالت ابتر کرسکتا ہے۔ اس طرح عشق اور محبت کے معاملات کا بھی دل سے کوئی تعلق نہیں۔ اسے عبث بدنام کیا گیا ہے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ ’’میرا دل چاہتا ہے‘‘ تو در حقیقت دل کچھ نہیں چاہتا۔ دماغ چاہتا ہے دل تو بس امن چاہتا ہے اور ایک دریا کی طرح بہتا رہتا ہے موج در موج۔
بلڈپریشر سے کیا مراد ہے؟
دورانِ خون کا جو دباؤ خون کی نالیوں کی اندرونی سطح پر پڑتا ہے، وہ بلڈپریشر Blood pressure کہلاتا ہے۔ خون کا دباؤ دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک کل وقتی یاڈایا سٹولک دوسرا جز وقتی سسٹولک، کل وقتی بلڈپریشر وہ ہمہ وقت دباؤ ہے جو خون اپنے حجم اور موجودگی سے خون کی نالیوں کی اندرونی سطح پر ڈالتا رہتا ہے جبکہ جز وقتی بلڈپریشر وہ دباؤ ہے جو دل کے دھڑکنے کی کیفیت کے دوارن خون کی نالیوں کی اندرونی سطح پر پڑتا ہے۔
Diastolic blood pressure ڈایا سٹولک بلڈپریشر 90 سے اور سٹولک بلڈپریشر Systolic blood pressure 140 سے کم ہونا چاہئے۔ اگر بلڈپریشر بالترتیب ان اعداد سے ذرا زیادہ ہو تو فوری طور پر یہ نہیں سمجھ لینا چاہئے کہ بلڈپریشر کا مرض لاحق ہوگیا ہے، اس بیماری کی علامتیں کچھ اور بھی ہوتی ہیں، بلڈپریشر کے لئے مروجہ فارمولا 100 جمع عمر درست نہیں اور بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ بلڈپیشر لازمی طور پر زیادہ نہیں ہونا چاہئے۔



