شیطانی صفات
اللہ تعالیٰ نے نشان دہی فرمادی کہ بہت سے انسان بھی شیطان ہوتے ہیں یعنی شیاطین کی کچھ صفات ان کے اندر ہوتی ہیں ، وہ کلام اللہ بھی پڑھتے ہیں، حدیثِ رسول ﷺ کا بھی ان کوعلم ہے اورنماز روزے کی اہمیت سے بھی واقف ہیں، ان تمام باتوں کے باوجود وہ اپنے نفس کے خلاف نہیں کرسکتے ، ان کے قول وفعل میں تضاد ہے ، اسی لئے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ جب تم کسی کی صحبت اختیار کروتو دیکھو کہ وہ سچاہے یا نہیں ؟ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا جوانسان جھوٹ بولتا ہے اور نماز ترک کردیتاہے اللہ تعالیٰ اس کے چہرے سے صلحاء کا نور چھین لیتے ہیں ،سچائی سے مراد یہ ہے کہ اس کی زبان سے نکلنے والا لفظ بالکل صحیح ہواور اس کی زبان سے کسی کو تکلیف نہ ہو اوراس کے عمل سے کسی کو بیزاری نہ ہو۔
شیخ سعدیؒ کی اپنے بیٹے کو نصیحت
شیخ سعدیؒ اپنے والدکے ساتھ ایک دعوت میں گئے ، اس زمانے میں نوے فیصد مسلمان تہجد کی نماز ادا کرتے تھے ، شیخ سعدیؒ شیراز کے رہنے والے تھے ، دونوں باپ بیٹے دعوت میں گئے، کھانا کھانے کے بعد کچھ حضرات جوکہ دورسے آئے ہوئے تھے جلدی سوگئے ،شیخ سعدیؒ اوران کے والد نوافل اورذکر میں مشغول ہوگئے ، توبیٹے نے باپ سے کہاکہ اباجان یہ لوگ کتنے بدبخت ہیں کہ کھانا کھایا اور سوگئے، نہ نماز نہ ذکر، والد نے فرمایا بیٹے تم ان لوگوں میں عیب نکال رہے ہو جو سور ہے ہیں عیب نکالنے سے تو بہتر تھا کہ تم بھی سوجاتے یعنی کسی آدمی کے اندر عیب نکالنا اور یہ ظاہر کرنا کہ توایساہے ویساہے یہ گناہ کی بات ہے بلکہ انسان کی نظر اپنے اعمال پر ہونی چاہئے۔
حضور ﷺ نے فرمایاکہ تم ایسے انسان کی صحبت اختیار کرو جو سچاہو یعنی اس کے ہاتھ پاؤں زبان وغیرہ تمام کے تمام اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق چلیں ، اس کاکوئی کام شریعت کے خلاف نہ ہو، اس کے اندرحرص نہ ہو، انسان کے اندر حرص ہوتی ہے جس طرح کتے اورلومڑی کے اندر حرص ہوتی ہے ، لالچ ہوتاہے یہاں تک کہ دنیاکے اندر جتنی بھی ذی روح مخلوق ہیں توان کے اندربھی حرص اورلالچ ہوتاہے ، لیکن حرص کا ایک دائرہ ہوتاہے ایک جائز حد ہوتی ہے ۔
کیسے لوگوں کی صحبت اختیار کی جائے ؟
حضورﷺ کی حدیث کا مفہوم ہے کہ تم ان لوگوں کی صحبت اختیار کرو جن کو دیکھنے سے خدا یادآجائے،جن کے پاس بیٹھنے سے اللہ کی یاد تازہ ہوجائے اور جن کے پاس رہنے سے اللہ اوراس کے رسولe سے الفت اورمحبت پیدا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا: ذَرْہُمْ یَأْکُلُوْا وَیَتَمَتَّعُوْا وَیُلْہِہِمُ الأَمَلُ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ۔ ترجمہ: ( اے پیغمبر) انہیں ان کی حالت پر چھوڑ دو کہ یہ خوب کھالیں، مزے اڑالیں، اور خیالی امیدیں انہیں غفلت میں ڈالے رکھیں، کیونکہ عنقریب انہیں پتہ چل جائے گا(کہ حقیقت کیا تھی)
عمر کے ساتھ خواہشات بڑھتی ہیں
جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے ویسے ویسے اس کی خواہشات بڑھتی ہیں لیکن اس کی خواہشات پوری نہیں ہوتیں کہ اس کی عمر ختم ہوجاتی ہے ، خواہشات پر قابو پانا اللہ کے رسول ﷺ کی محبوب ترین صفت ہے، نفسانی خواہشات میں مبتلا کچھ لوگ ایسے بھی ہیںجوطریقت کے پیر بنے ہوئے ہیں وہ مکار ہیںاوروہ سب کودھوکہ دے رہے ہیں۔
بایزید بسطامیؒ کامجاہدہ
حضرت بایزید بسطامیؒ کاایک مرتبہ دل چاہا کہ بینگن کاسالن کھایا جائے ، یہ کوئی بڑی چیزنہیں ہے لیکن انہوں نے کہاکہ میں اپنے نفس کو بینگن کاسالن جب کھلاؤں گا جب یہ ساری رات عبادت میں گذاردے ، توساری رات عبادت کرتے رہے اور دوسرے دن کہا کہ کل کھلاؤں گا ایسے ہی کرتے کرتے چالیس سال گذار دیئے لیکن نفس کوبینگن کاسالن نہیں کھلایا ، چالیس سال بعد خدا کی طر ف سے حکم ہوا کہ اے بایزید اپنے نفس کی خواہش پوری کر ، حلال چیز کاکھانا برا نہیں ہے ، یہ ہمارے اسلاف اور بزرگوں کا طریقہ تھا کہ وہ حلال سے بھی رک جاتے تھے کہ کہیں نفس موٹا نہ ہوجائے ۔
حضرت ذوالنون مصریؒ کا واقعہ
ایک ہم ہیں کہ غلط چیزوں سے بھی اپنے آپ کوروکنے میں عار محسوس کرتے ہیں ، حضرت ذو النون مصریؒ نے ایک مرتبہ اپنے نفس سے کہا کہ میں تجھے گوشت نہیں کھلاؤں گا جب تک تو اتنی ہزار رکعت نماز نہ پڑھ لے یہاں تک کہ جب وہ مقدار پوری ہوگئی تواسی شہر کے ایک مالدار آدمی کوحضور ﷺ نے خواب میں فرمایا کہ تمہارے یہاں آج جو بہترین کھانا بناہوا ہے اس سے ذو النون مصریؒ کی دعوت کرو ۔ اللہ اکبر!
جس انسان کے اندر لالچ اورحرص نہیں ہوتی تو وہ انسان اللہ تعالیٰ کا محبوب اور لاڈلا بندہ بن جاتاہے ، وہ بھلے ہی اپنی خواہش پوری نہ کرے لیکن اللہ تعالیٰ ضرور اس کی خواہش پوری فرماتے ہیں ۔
ایک بڑھیا کا واقعہ
ایک مرتبہ حضرت نوحؑ کے پاس ایک بڑھیا آئی اورکہنے لگی کہ حضرت میرا ڈیڑھ سو سال کاایک بیٹاتھا اس کاانتقال ہوگیا ہے ، حضرت نوحؑ نے فرمایا اللہ کی بندی صبر کرو تمہارا بیٹا توڈیڑھ سوسال کاتھا اس کاانتقال ہوا ، ایک امت ایسی بھی آنے والی ہے جن کی عمریں ساٹھ اورستّر سال کے درمیان ہوگی ، اس بڑھیانے کہا اللہ اکبر! میری یا میرے بچوں کی اتنی کم عمر ہوتی تومیں ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر گذار دیتی !مطلب یہ ہے کہ انسان کواپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے شریعت کے دائرے میں رہنا چاہئے۔
حضرت عثمان غنیؓ کی سخاوت
حضرت عثمان غنیؓ کوئی معمولی انسان نہیں ہیں ، حضور ﷺ کی دوبیٹیاں یکے بعد دیگرے آپ کے نکاح میں تھی ، حضرت رقیہؓ اورحضرت ام کلثومؓ ، آپ مسلمانوں کے امیر اور خلیفہ ہیں ،حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری اورعثمان غنی ؓکی قبر کے درمیان جتنے لوگ بھی دفن کئے جائیں گے سب جنتی ہیں۔ ایک مرتبہ حضورe فاقے سے تھے ، بے چینی کے عالم میں مسجد میں آتے اورسجدے میں چلے جاتے اور خدا کویاد کرتے ،تھوڑی دیر کے بعد حضرت عائشہؓ کے پاس جاتے اور دریافت کرتے کہ گھرمیں کچھ ہے؟ حضرت عائشہؓ فرماتیں کہ اللہ اوراس کے رسول ﷺ کے سوا کچھ نہیں ہے ، اسی طرح آپؐ بار بار مسجد میں جاتے ، اللہ کویاد کرتے اور گھر آکر دریافت کرتے کچھ ہے ؟
حضرت عائشہؓ عرض کرتیں کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے علاوہ کچھ نہیں ہے ، ہمارے کچھ بھائیوں کے دماغ میں بات آتی ہے کہ نعوذ باللہ، اللہ کے رسول ﷺ کمانے والے نہیں تھے اورصحابہ کمانے والے نہیں تھے ، اس لئے ان کو فاقہ سے رہنا پڑتا تھا ایسانہیں بلکہ ان حضرات کے دل میں لالچ نہیں تھا،جو بھی ان کے پاس مال آتا فوراً مستحقین پرخرچ کردیا کرتے تھے ، یہ ان حضرات کی شان تھی ۔ ان کا فاقہ اختیاری تھا۔
میں عرض کررہا تھا کہ پھر جب کئی مرتبہ مسجد آنے جانے کے بعد رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو حضرت عائشہؓ نے فرمایا: اے اللہ کے نبی سامان سے لدا ایک اونٹ حضرت عثمان غنیؓ نے ہدیہ بھجوایا ہے، نبی ﷺ نے دریافت فرمایا: کیا صرف تمہیں بھجوایا ہے؟ عرض کی: نہیں بلکہ تمام ازواج کی خدمت میں ایک ایک اونٹ بھیجا ہے، نبی ﷺ نے حضرت عثمان غنیؓ کو عطا فرمائیں۔
حضرت ابوطلحہؓ کی بے نیازی
حضرت عمرفاروقؓ نے پانچ ہزار اشرفی حضرت ابوطلحہؓ کی خدمت میں بھیجیں اورجو صاحب لیکر گئے ان کو تاکید فرمادی کہ تھوڑی دیر ٹھہرجانا کہ وہ کیا کہتے ہیں؟ حضرت ابوطلحہؓ نے سب اشرفیاں تقسیم کردیں صرف ایک اشرفی ہاتھ میں بچی، بیوی نے کہاواللہ ہم بھی اس کے مستحق ہیں فرمایا یہ تم لے لو، وہ حضرات اس لئے فاقہ کشی کرتے تھے کہ انہوں نے اپنے آپ کواس بات کے لئے تیار کررکھاتھاکہ ہم دنیامیں تکلیف اٹھائیں گے اور آخرت میں راحت حاصل کریں گے۔
آج بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو اپنے پیٹ پر پتھر باندھ کر دوسروں کی خدمت کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ہم سب کوعمل کی توفیق عطا فرمائے اور خواہشات کی تکمیل کے بجائے آخرت میں کام آنے والے اعمال پر توجہ عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین!



