سیول 20جون:(اردودنیا/ایجنسیاں)شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان نے اپنی حکومت کو بائیڈن انتظامیہ سے مذاکرات اور مقابلے کے لیے تیار رہنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کی رپورٹس کے مطابق جمعرات سے شمالی کوریا کی حکمران جماعت کا اجلاس جاری ہے جس میں کم جونگ ان نے صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کی پالیسی کا جائزہ لیا ہے اور امریکہ سے تعلقات کے بارے میں اقدامات کی وضاحت کی ہے۔
تاہم اس کی تفصیلات سامنے نہیں لائی گئی ہیں۔کورین سینٹرل نیوز ایجنسی کے مطابق کم جونگ ان نے حکام کو امریکہ سے مذاکرات اور محاذ آرائی کے لیے تیار رہنے کی ہدایات جاری کی ہیں جب کہ محاذ آرائی کی تیاری پر زیادہ زور دیا ہے۔واضح رہے کہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب گزشتہ دنوں امریکہ نے شمالی کوریا پر جوہری پروگرام سے دست بردار ہونے اور بات چیت کی جانب واپس آنے کے لیے زور دیا تھا۔
بعض مبصرین کے مطابق کم جونگ نے اپنے بیان میں یہ عندیہ دیا ہے کہ وہ امریکہ پر دباؤ بڑھانے کے لیے اپنے جوہری ہتھیاروں پر کام جاری رکھیں گے۔اس سے قبل 2018 اور 2019 میں امریکہ کے اس وقت کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں پر بات چیت کے لیے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ لیکن کم جونگ ان نے جوہری صلاحیت سے جزوی طور پر دست بردار ہونے کے لیے پابندیوں میں بڑے پیمانے پر نرمی کے مطالبات کیے تھے۔
جنہیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسترد کردیا تھا اور مذاکرات کا سلسلہ بھی ٹوٹ گیا تھا۔صدر بائیڈن کی حکومت شمالی کوریا کے جوہری پروگرام سے متعلق نئے زاویے سے پالیسی ترتیب دے رہی ہے اور اسے ’متوازن اور عملی‘ پالیسی قرار دیتی ہے۔ لیکن تاحال شمالی کوریا سے متعلق صدر بائیڈن کی انتظامیہ کی حکمتِ عملی کے خدوخال سامنے نہیں آئے ہیں۔
شمالی کوریا پر امریکہ کے اعلیٰ ترین عہدے دار سنگ کم ہفتے کو جنوبی کوریا اور جاپانی حکام کے ساتھ ہونے والے ایک سہ فریقی اجلاس میں شرکت کے لیے سول جائیں گے۔امریکہ کے دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ان کا یہ دورہ شمالی کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے مکمل دست بردار کرنے کے لیے سہ طرفہ تعاون کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔



