سرورققومی خبریں

گیان واپی کیس میں آگے کیا ہوگا؟ یوپی کورٹ کا فیصلہ کل

وارانسی، 23 مئی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) وارانسی ڈسٹرکٹ کورٹ نے گیان واپی مسجد کیس کی سماعت منگل کو دوپہر 2 بجے تک ملتوی کر دی ہے۔ توقع ہے کہ جج اگلی سماعت کے دوران ایک حکم جاری کریں گے کہ ضلعی عدالت کے سامنے معاملہ کس طرح آگے بڑھے گا۔ گیان واپی مسجد کیس کی سماعت کرنے والی وارانسی ڈسٹرکٹ کورٹ نے 24 مئی بروز منگل دوپہر 2 بجے اس معاملے کی سماعت کے لیے وقت رکھا ہے۔ عدالت فی الحال اس معاملے میں تین عرضیوں کی سماعت کر رہی ہے۔ تین درخواستوں میں سے دو ہندو فریق اور ایک مسجد کمیٹی نے دائر کی ہے۔

وارانسی کی عدالت میں پیر کو ہونے والی سماعت یہ طے کرنے کے لیے تھی کہ کیس کیسے آگے بڑھے گا۔مسلم فریق نے کہا کہ آرڈر 7 قاعدہ 11 کے تحت برقرار رکھنے سے متعلق درخواست کو سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق پہلے اٹھایا جانا چاہئے۔ دوسری جانب ہندو فریق نے سروے کمیشن کی جانب سے دائر رپورٹ کو ترجیحی بنیادوں پر زیر غور لانے کی درخواست کی۔ فاضل جج نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد اس محدود معاملے پر فیصلہ محفوظ کر لیا کہ کیس کی سماعت کیسے آگے بڑھے گی۔

منگل کو، جج سے اس بارے میں حکم جاری کرنے کی توقع ہے کہ سماعت کیسے کی جائے گی اور ضلعی عدالت کے سامنے معاملہ کیسے آگے بڑھے گا۔ہندو فریق کی درخواستیںکے نکات یوں ہیں۔ گیان واپی کمپلیکس پر شرنگر گوری کی روزانہ پوجا کی اجازت۔ مسجد کے وضوخانہ میں ملنے والے نام نہاد شیولنگ‘ کی پوجا کی اجازت۔اس مبینہ شیولنگ کے نیچے کمرے کی طرف جانے والے راستے سے ملبے کو ہٹایا جانا۔شیولنگ کی لمبائی اور چوڑائی جاننے کے لیے سروے ۔ متبادل وضو خانہ کا انتظام۔جبکہ مسجد کمیٹی کی پٹیشن یوں ہے :وضوخانہ پر کوئی سیل نہیں، گیان واپی سروے پر غور کرتے ہوئے عبادت گاہوں کے ایکٹ 1991 کے حوالے سے معاملہ پر فیصلہ کیا جائے ۔

گیان واپی مسجد معاملہ میں سپریم کورٹ میں ایک اور عرضی داخل

گیان واپی مسجد معاملہ میں سپریم کورٹ میں ایک اور درخواست دائر کی گئی ہے۔ بی جے پی لیڈر اور وکیل اشونی اپادھیائے نے یہ درخواست دائر کی ہے۔ درخواست میں مسجد کمیٹی کی درخواست کو خارج کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں کہا گیا کہ اسلامی اصولوں کے مطابق مندر توڑ کر بنائی گئی مسجد درست نہیں ہے۔واضح ہو کہ مسجد کمیٹی اس مفروضہ کو ہمیشہ کرتی رہی ہے ۔ درخواست میں کہا گیا کہ 1991 کا عبادت گاہوں کا قانون اسے کسی مذہبی مقام کی نوعیت کا تعین کرنے سے نہیں روکتا۔

اشونی اپادھیائے نے عرضی میں کہا ہے کہ ان کے فریق کو بھی سنا جائے اور فریق بنایا جائے۔ اس سے قبل 2021 میں اشونی اپادھیائے نے عبادت گاہوں کے قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا، جس پر سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا تھا۔ اشونی اپادھیائے نے سپریم کورٹ میں داخل کی گئی مداخلت کی درخواست میں کہا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 13(2) ریاست کو بنیادی حقوق چھیننے کے لیے قانون بنانے سے منع کرتا ہے۔

تاہم1991 کا قانون ہندوؤں، جینوں، بدھ مت کے ماننے والوں کے حقوق چھینتا ہے۔اس قانون میں بھگوان رام کی جائے پیدائش شامل نہیں ہے، لیکن بھگوان کرشن کی جائے پیدائش شامل ہے، حالانکہ دونوں بھگوان وشنو کے اوتار ہیں اور پوری دنیا میں یکساں طور پر پوجے جاتے ہیں، اس لیے یہ من مانی ہے۔خیال رہے کہ گیان واپی مسجد کمیٹی 1991ایکٹ کے تحت پیدا کئے مسئلہ کا حل چاہتی ہے ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button