رسول سعیدی محمد مصطفیٰ ﷺ کا مرتبہ بہت بلند وعظیم ہے، قرآن کریم محمد مصطفیٰ ﷺ کی عظمت جابجا بیان کرتا ہے، رسول سعیدی ﷺ اخلاق میں سب سے عظیم نیز دنیا کے سب سے بہترین سپہ سالار بھی محمد مصطفیٰ ﷺ معرکہ بدر میں مہز ٣١٣ اصحاب کرام کی موجودگی تاہم دشمن کا لشکر ١٠٠٠ عسکری لحاظ سے کوئی موازنہ نہیں، محمد مصطفیٰ ﷺ کی جنگی حکمت عملی کا آج تک کوئی ثانی نہیں جنگ بدر میں رسول سعیدی محمد مصطفیٰ ﷺ کی فتح تاریخ میں رقم ہیں، انتہائی قلیل و مختصر عرصے میں کرہ ارض کے ٧٠ فیصد علاقے پر کلمہ حق کا پرچم لہرایا گیا، خلافت کو قائم کردیا گیا۔
اس نظام کے تحت عدل و انصاف کا لاثانی معیار، بنی نوع انسان کے مابین نسلی و جنسی بنیاد پر کوئی تفرقہ نہیں، اسلامی دور خلافت میں اقلیتوں کو غیر معمولی تحفظ حکومت کی جانب سے سہولیات وغیرہ وغیرہ، شامل تھے، مزید کاروبار و معیشت میں اللہ کے جاری کردہ حکم کے ماتحت معیشت و کاروباری لین دین عمل پزیر تھے، دھوکہ و فریب کو معیشت میں کوئی مقام حاصل نہ تھا، معاشرہ جرائم سے پاک، انتہائی خوبصورت و بہترین نظام محمد مصطفیٰ ﷺ نے بحکم الٰہی دنیا میں قائم کردیا تھا۔
کثیر تعداد میں لوگ جوک در جوک کلمہ پڑھتے ہوئے اسلام میں شامل ہوتے چلے گئے، اس بہترین طرز نظام کو اپناتے ہوئے خوشی سے زندگی گذارنے لگے، ہر سمت امن و امان کا دور دورہ تھا، دور قدیم کی بڑی بڑی سلطنتوں کو رسول سعیدی محمد مصطفیٰ ﷺ نے دین اسلام کی دعوت دی، تاہم سلطنت روم و پرشین امپائر کو شکست دے کر اللہ کے نظام کو نافذ کردیا، دنیا پوری میں نظام محمد مصطفیٰ ﷺ ١٩٢٤ تک قائم رہا، کرہ ارض کا بڑا علاقہ نظام محمد مصطفیٰ ﷺ کے پرچم تلے تھا، خلافت عثمانیہ ١٩٢٤ میں اختتام پذیر ہوئی، اسے گرانے میں برطانیہ و یہود نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، جس کے نتیجے میں عین عربوں کے درمیان عربوں کی سرزمین کو تقسیم کرتے ہوئے ناجائز اسرائیلی ریاست کو قائم کیا گیا۔
فتنہ نے دجال کے ہاتھوں شر کا بیج ریاست اسرائیل کی شکل میں سرزمین عرب پر بو دیا امریکہ و برطانیہ نے اس کی آب یاری کی، ١٩٤٨ میں بویا گیا یہ بیج آج پختہ تن آور درخت بن چکا ہے، عرب ریاستیں ایک کے بعد دیگر اسے ریاست کو قبول کرنے پر تقریباً آمادہ ہوچکی ہے، برطانیہ و امریکہ کے تحفظ میں پروان چڑھتا اسرائیل کا واحد مقصد دین اسلام کو ضرب دے کر نقصان پہنچانا، نیز مسجد اقصیٰ کو گرا کر ہیکل سلیمانی کو نصب کرنا اور اپنے مسایہ دجال کی آمد کے لئے راہ ہموار کرناہے، گزشتہ ٧٤ سال میں اسرائیل نے غزہ، جورڈن، فلسطین کی زمین پر غاصبانہ قبضہ کر تے ہوئے اپنے حدود میں ان ملکوں کی زمین شامل کرکے اسرائیلی ریاست کو بتدریج وسیع کیا نیز آج بھی اس کے مظالم فلسطینیوں پر جاری ہے۔
اقوام متحدہ خاموش تماشائی بنے ہوئے اپنے دجالی کردار کا حق ادا کر رہی ہے، ٥٨ اسلامیک ممالک کے درمیان تنہا اسرائیل اپنی سرکشی میں تمام حدود کو عبور کر چکا تمام اسلامی ممالک اسرائیل کی عسکری قوت سے لرزہ براندام و خوف ذدہ ہوچکے، ١٣٠٠ سالوں سے جاری نظام محمد مصطفیٰ ﷺ کو مہز چند سالوں میں زمین دوز کردیا گیا اسلام کا اصل مغز غائب کر دیا گیا یا غائب ہو چکا مہز چھلکا باقی رہ گیا، اسلام کے پیروکاروں کو نماز، روزہ، حج زکوٰۃ تک محدود کردیا گیا، اس سے زیادہ دین اسلام حالات حاضرہ میں کرہ ارض پر کہی باقی و موجود نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ نے معیشت میں سونے و چاندی کے سکوں کے استعمال کی اجازت دی، تا ہم آج سونے و چاندی کے سکے معیشت کا حصہ ایک دیرینہ خواب بن چکاہے، معیشت میں کاغذی کرنسی دجال کا سب سے بڑا ہتھیار بنا ہوا ہے، برطانیہ و یہود کے ذریعے کاغذی کرنسی کو تقویت ملتی گئی، بہر کیف اس کاغذی کرنسی سے یہود جسے چاہتا ہے اس ملک کی معیشت کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، سری لنکا کا معاشی بحران ہمارے آنکھوں کے سامنے پیش ہے، اقوام متحدہ کے زیر اہتمام قانون سازی کرنا تاہم اسے ہر ملک میں اسی ملک کے ذریعے نافذ کرنا ایک باآسان عمل یہود ونصاریٰ کے لئے بنچکا ہے۔
جس کے تحت مرد کی مرد سے شادی و عورت کی عورت سے شادی قانونی حیثیت سے جائز قرار دینا، بغیر نکاح کے مرد و خواتین کا ایک ساتھ شوہر و بیوی کی طرح رہنا نیز اس ناجائز رشتے سے پیدا ہونے والی اولاد کو جائز قرار دینا، شراب نوشی کو قانوناً جائز قرار دینا، زنا کو معاشرے میں جائز قرار دینا بشرط یہ کہ باھمی رضامندی شامل حال ہو، جوۓ خانوں کو صنعت کی طرح فروغ دینا شامل ہیں، بہر کیف اس فتنہ گر نظام میں سود کو کاروبار کا اہم رکن تصور کرنا و سود کو قانوناًجائز قرار دینا بھی شامل ہے، بہر کیف مصلحت اللہ کچھ دیگر ہے، اللہ نے بڑی سختی کے ساتھ سود کو حرام قرار دیا، سورہ بقرہ آیت نمبر ٢٧٨ اور ٢٧٩ آیت کا مفہوم ہے
” مومنوں اللہ کا تقوہ اختیار کرو سود کو چھوڑ دو، پھر اگر اس پر عمل نہ کرو گے تو جان لو اللہ کی اور رسول کی طرف سے اعلان جنگ ہے،” دنیا کا ہر ممالک سودی کاروبار میں ملوث ہیں، اسلامی ممالک بھی سود کے نظام کو تسلیم کرتے ہوئے اسلامی ممالک میں اپنا وجود کا شمار کرتے ہیں، یہ اللہ کے دین کو دھوکہ دینا ہیں، تاہم حرام کام کو فروغ دے کر اس میں حصہ دار بننے سے امت کی فلاح کیسے ممکن ہے، جبکہ تمام امت فل وقت اللہ اور رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کے ساتھ حالت جنگ میں مبتلا ہیں، یہ وہ جنگ ہے جو دنیا پوری کے تمام مسلمان جیت نہیں سکتے، اللہ اور رسول سعیدی محمد مصطفیٰ ﷺ کی رضامندی سودی کاروبار میں نہیں، سودی کاروبار کو ترک کرنے میں ہے۔
بہر کیف اسلام کے ہم پیروکار بنے ہوے ہے، ہم اللہ اور رسول سعیدی محمد مصطفیٰ ﷺ کے ساتھ جنگ بھی کر رہے ہیں، مزید نماز، روزہ حج زکوٰۃ بھی ادا کر رہے ہیں، تاہم اللہ یہ کہ کر فارغ ہوچکا، سورت حشر آیت نمبر ٧ مفہوم ہے ” جو رسول سعیدی محمد مصطفیٰ ﷺ تمہیں عطاء کریں اسے لے نیز جس سے روکے اسے چھوڑ دیں ” کرہ ارض پر بسنے والے ایک ارب سے زائد مسلمان، کروڑوں کی تعداد میں علمائے کرام، مدارس و تعلیمی ادارے مساجد کیوں نہیں اعلان جنگ کرتے سودی کاروبار و دجالی نظام کے خلاف ، بلکہ سودی کاروبار کی وجہ سے ہم خود اللہ و رسول کی طرف سے اعلان جنگ کا حصہ بن گئے۔
بہر کیف ہمیں معیشت میں کاغذی کرنسی، سودی کاروبار، مرد سے مرد کی شادی و خواتین کی خواتین سے شادی، شراب نوشی عام، زنا عام وغیرہ وغیرہ رسول سعیدی محمد مصطفیٰ ﷺ نے تو عطا نہیں کیا تھا، کیوں مسلمان ان غیر اسلامی اشیاء کا حصہ دار بنا ہوا ہے، ہم مجرم ہے اللہ اور رسول سعیدی محمد مصطفیٰ ﷺ کے، تاہم ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے سورہ حشر آیت نمبر ١٩ مفہوم ہے” جس نے اللہ کو بھلا دیا، اللہ نے خود اسے اپنی ہی ذات سے غافل کر دیا”
وماعالینا الاالبلاغ المبین



