بارہ بنکی: 11 دسمبر (ایجنسیاں)بارہ بنکی ضلع میں نہری پانی کی کمی کی وجہ سے گیہوں اور آلو کی فصلوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ نہروں میں پانی نہ ہونے کے باعث انہیں پمپنگ سیٹوں کے ذریعے فصلوں کو سیراب کرنا پڑ رہا ہے، جس سے ان کی لاگت میں بے تحاشا اضافہ ہو گیا ہے۔
مینا پور اور زید پور کے کسان جگموہن ورما نے بتایا کہ انہوں نے 20 بیگھا زمین پر کیلا لگایا ہے، جسے ایک بار سیراب کرنے میں تقریباً 1500 روپے کا ڈیزل خرچ آتا ہے۔ اسی طرح گنجاریہ کے کسان چندر شیکھر ورما نے بتایا کہ انہوں نے 8 بیگھا زمین پر گیہوں کی بوائی کی ہے، لیکن نہر میں پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے ایک بار سیراب کرنے میں انہیں 2200 روپے کی لاگت برداشت کرنی پڑ رہی ہے۔
سدھار راجبھاہ علاقے میں محکمہ آبپاشی کی جانب سے پانی کی فراہمی نہ ہونے کے سبب کسانوں کی گندم، سرسوں، آلو اور بارسیم کی فصلیں تباہ ہونے کے خطرے میں ہیں۔ کاشتکاروں نے الزام لگایا ہے کہ جب فصل کو سیراب کرنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے، تب نہریں صاف کرنے کے بہانے بند کر دی جاتی ہیں۔
کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ گندم کی بوائی کو ایک ماہ سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے، مگر اب تک نہری پانی کی کمی کے باعث کھیتوں کی آبپاشی نہیں ہو سکی۔ ان کے مطابق، فصل کو تین ہفتوں کے اندر سیراب کیا جانا ضروری ہے، لیکن مسلسل پانی کی قلت کے باعث کھیت سوکھنے لگے ہیں۔
کسانوں نے محکمہ آبپاشی سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر نہروں میں پانی کی فراہمی یقینی بنائے، تاکہ فصلوں کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔



