تلنگانہ کی خبریں

چیف منسٹر اوورسیز اسکالرشپس کی رقومات آخر کہاں چلی گئیں ؟

محکمہ اقلیتی بہبود نے رقم جاری کردینے کی اطلاع دی ۔ طلبا کے بینک کھاتے 15 دن بعد بھی خالی !

حیدرآباد :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کیلئے اسکالر شپس کی رقم کہاں گئی! سال 2020-21 میںجن طلبہ نے چیف منسٹر اوورسیز اسکالر شپس کیلئے درخواستیں داخل کی تھیں انہیں جاریہ ماہ کے اوائل میں پیغام ملے ںکہ ان کی اسکالر شپس منظور ہوچکی ہیں اور رقومات کی اجرائی عمل میں لائی جاچکی ہے لیکن بیشتر طلبہ کی شکایت کر رہے ہیں کہ اب تک ان کے کھاتوں میں یہ رقومات منتقل نہیں ہوئی ہیں جبکہ ایس ایم ایس ملے 15 دن سے زیادہ گذر چکے ہیں۔ محکمہ اقلیتی بہبود میں سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا ہے اس کی کئی مثالیں موجود ہیں لیکن جب طلبہ کو ایس ایم ایس مل چکے ہیں کہ ان کی درخواستیں منظور ہوچکی ہیں اور رقومات منتقل کی جاچکی ہیں تو 15 دن کا وقت لگنا ناقابل فہم ہے۔

چیف منسٹر اوورسیز اسکالر شپس کی درخواستوں کی یکسوئی میں تاخیر کی شکایات عام بات ہوچکی ہے لیکن ایسا دوسری مرتبہ ہورہا ہے کہ طلبہ کو رقومات کی اجرائی کے ایس ایم ایس ملنے کے باوجود کھاتو ںمیں رقم پہنچنے میں تاخیر ہورہی ہے۔ ذرائع کے مطابق محکمہ اقلیتی بہبود سے چیف منسٹر اوورسیز اسکالرشپس کیلئے جاری بجٹ کے دیگر مقاصد کیلئے استعمال کے سبب یہ تاخیر ہورہی ہے جبکہ عہدیداروں سے رابطہ پر بتایاجارہا ہے کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے بلکہ محض تکنیکی خرابی کے باعث رقومات کی منتقلی میں دشواریوں کا سامنا ہے۔

حکومت کی اس اسکالرشپس کی رقومات ان طلبہ اور سرپرستوں کیلئے اہمیت کی حامل ہوتی ہیں جو سطح غربت کے نیچے زندگی گذارتے ہیں یا متوسط طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں لیکن محکمہ اقلیتی بہبود بالخصوص ملازمین کی جانب سے درخواست گذاروں کو مؤثر جواب نہ دیئے جانے سے شدید تکالیف کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔

دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد کے علاوہ اضلاع کے طلبہ جو دنیا کے مختلف ممالک میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں وہ شکایت کر رہے ہیں کہ چیف منسٹر اوورسیز اسکالر شپس بعض غیر سنجیدہ ملازمین کے سبب تعطل کا شکار ہورہی ہے اور طلبہ اس تاخیر کے سبب تعلیم حاصل کرنے کی بجائے یونیورسٹی کی فیس ادا کرنے کی فکر میں مبتلاء ہیں کیونکہ وہ بیرونی ممالک یونیورسٹی ذمہ داروں کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ حکومت کی اسکالر شپس کی اجرائی میں تاخیر کے سبب وہ فیس ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیدارجو اس اسکیم کے نگران ہیں انہیں چاہئے کہ وہ فوری اس بات کی تحقیقات کا آغاز کریں کہ کیوں طلبہ کو ایس ایم ایس موصول ہونے کے باوجود بھی ان کے کھاتوں میں رقومات منتقل نہیں کی گئی ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button