سرورققومی خبریں

ہندوستانی خلائی سائنس کے ہیرو پہلے خلا نورد راکیش شرما کہاں ہیں ؟

سینٹ جارجس گرامر اسکول اور نظام کالج کے سابق طالب علم گوشہ ٔگمنامی میں کیوں ؟

حیدرآباد :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) ایک ایسے وقت جبکہ چندریان مشن ۔ 3 کی کامیابی کو لیکر وزیراعظم نریندر مودی اور اُن کے حامی بے شمار دعوے کررہے ہیں اور یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ اس مشن کو کامیاب بنانے کا کریڈٹ اسرو اور اس کے 1000 سائنسدانوں کی بجائے صرف وزیراعظم مودی کو جاتا ہے ۔ دوسری طرف آل انڈیا ہندو مہاسبھا سنت مہاسبھا کے قومی صدر سوامی چکرپانی نے تو حد کردی ۔ اسے بیوقوفی کہئے یا فرقہ پرستی ، انھوں نے چاند کو پارلیمنٹ میں ہندو راشٹر قرار دینے کا مطالبہ کیا جس پر ساری دنیا میں اُن کا مضحکہ اُڑایا جارہا ہے اور بیرون ملک لوگ اب سوال کرنے لگے ہیں کہ آخر ہندوستان کو کیا ہوگیا ہے کہ یہاں چند شرپسند باالفاظ دیگر بے وقوف عجیب و غریب بیانات دے رہے ہیں۔ بہرحال چندریان مشن ۔ 3 کی کامیابی کا سارے ملک میں جشن منایا جارہا ہے لیکن حکومت اور سارے ملک نے اس شخصیت کو فراموش کردیا ہے جسے خلاء میں سفر کرنے والے پہلے ہندوستانی ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔

 آج بہت سے لوگوں کو یہ بھی معلوم نہیں کہ ہندوستانی ہیرو ابھی تک زندہ ہے اور میڈیا کی چکاچوند اور لائم لائٹ سے دور زندگی گزار رہا ہے۔ہم بات کررہے ہیں ہندوستان کے پہلے خلا نورد راکیش شرما کی جو فی الوقت تاملناڈو کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں گمنامی کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ راکیش شرما کا حیدرآباد سے گہرا تعلق رہا ہے ۔ انھوں نے سینٹ جارجس گرامر اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور نظام کالج سے گریجویشن کیا ۔

آپ کو یاد دلادیں کہ راکیش شرما جب انڈین ایرفورس اور سویت یونین ( روس) کے انٹر کاسموس کے مشترکہ خلائی پروگرام کے تحت خلائی گاڑی Soyuz T-11کے ذریعہ خلاء میں پہنچے اور وہاں انھوں نے 7 دن 21 گھٹے اور 40 منٹ گذارے ۔ اس دوران انھوں نے اُس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی سے خلائی اسٹیشن سے بات کی اور جب اندرا گاندھی نے پوچھا کہ بھارت کیسا دکھائی دے رہا ہے تب راکیش شرما نے ایک طویل جواب دینے کی بجائے شاعر مشرق علامہ اقبال کے ترانہ ہندی کا ایک مصرعہ ’’سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا ‘‘ کا استعمال کیا ۔ اس طرح علاقہ اقبال بھی وہ پہلے شاعر بن گئے جن کے کلام کی گونج خلا میں سنائی دی ۔

راکیش شرما نے بحیثیت خلانورد ہندوستانی خلائی سائنس کی تاریخ بدل کر رکھ دی ۔ اگرچہ راکیش شرما کو حکومتو ں اور حکومتی اداروں نے بھلادیا ہے لیکن ہندوستانی خلائی سائنس کا جب بھی ذکر ہوگا راکیش شرما کا نام ضرور آئے گا ۔ ایک بات ضرور ہے کہ انھوں نے اپنے ملک کیلئے جو کچھ کیا اس کیلئے ان کی وہ پذیرائی نہیں کی گئی جس کے وہ مستحق ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جولائی 2023 ء میں جب راکیش شرما کی تصویر سوشل میڈیا پر منظرعام پر آئی تب کئی لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال گردش کرنے لگا کہ کیا راکیش شرما ہنوز بقیدحیات ہیں اور پھر انٹرنیٹ پر لوگوں نے ان کے بارے میں جاننا شروع کردیا ۔ آپ کو بتادیں کہ 13 جنوری 1949 ء کو راکیش شرما کی پنجابی ہندو برہمن خاندان میں پیدائش ہوئی ۔ راکیش شرما ہمیشہ پائلٹ بننا چاہتے تھے چنانچہ انھوں نے 1966 ء میں نیشنل ڈیفنس اکیڈیمی میں داخلہ لیا اور 1970 ء میں ہندوستانی فضائیہ میں پائلٹ مقرر کئے گئے ۔

1984 ء میں انھیں اسکواڈرن لیڈر کے رینک پر ترقی دی گئی اور پھر 1982 ء میں انھیں کاسموناٹ (خلانورد) بننے کیلئے منتخب کیا گیا اور وہ گھڑی بھی آئی جب وہ د و روسی خلا نوردوں کے ساتھ خلاء میں پہنچ گئے اور ونگ کمانڈر راکیش شرما نے ہندوستان کا نام روشن کردیا اور ہندوستان خلاء میں کسی خلانورد کو بھیجنے والا 14 واں ملک بن گیا ۔ سوویت یونین نے راکیش شرما کو خلاء سے واپسی پر ہیرو آف دی سویت یونین کا اعلیٰ ترین اعزاز عطا کیا ۔ آج کی تاریخ تک یہ ایوارڈ کسی اور ہندوستانی کو نہیں دیا گیا ۔ راکیش شرما کو اشوک چکرا ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ۔ انھوں نے 1971 ء میں بنگلہ دیش کی جنگ آزادی میں بھی اہم کردار ادا کیا ۔ انھوں نے اس جنگ میں MIG-21 کے ذریعہ 21 جنگی مشن مکمل کئے۔انہوں نے ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (HAL) کے چیف ٹیسٹ پائلٹ کے طور پر شمولیت اختیار کی۔ تاہم، ناسک کے اوزر کے قریب MIG-21 کی آزمائشی پرواز کے دوران، انھیں معمولی چوٹیں آئیں جبکہ وہ جان لیوا واقعہ سے بال بال بچ گئے۔2001 میں اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد، وہ اپنی بیوی کے ساتھ تمل ناڈو کے کونور میں آباد ہو گئے۔ راکیش شرما اپنی بیوی مدھو کے ساتھ ٹاملناڈو کے کونور میں مقیم ہیں جبکہ ان کے فرزند کپل ایک فلمساز اور اداکار ہے جبکہ دختر میڈیا آرٹسٹ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہیں ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button