بین الاقوامی خبریںسرورق

سعودی عرب کا دوسرا بڑا پل کہاں تعمیر کیا جا رہا ہے؟

اپنے 3 بچوں کی تعلیم سے محرومی کا سبب بننے والے سعودی شہری کیخلاف تحقیقات

ریاض، 20اگست:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)سعودی روڈز جنرل اتھارٹی (آر جی اے) نے اعلان کیا ہے کہ الشرقیہ ریجن میں 3.2 کلومیٹر طویل صفوی – راس تنورۃ پل منصوبے کی تعمیر میں تکمیل کی شرح 88 فیصد تک پہنچ گئی۔ خبر کے مطابق اس تاریخی منصوبے میں ایل لنک روڈ کے ساتھ ایک زمینی اور سمندری پل شامل ہے۔ یہ مملکت کا دوسرا سب سے بڑا ڈوئل کیریج وے سمندری پل ہے۔ یہ راس تنورہ گورنریٹ میں ایک نیا داخلی اور خارجی روٹ شامل کرتا ہے۔ یہ منصوبہ راس تنورہ، دمام اور قطیف کے درمیان فاصلے کو کم کرنے کے علاوہ، دمام کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے براہ راست منسلک کرنے میں معاون ہے۔ اس منصوبے پر کا آغاز2020 میں ہوا تھا اور توقع ہے یہ جون 2025 میں مکمل ہوجائے گا۔

اتھارٹی کا کہنا ہے یہ منصوبہ شہروں اور گورنریٹس کے درمیان رابطے کو بڑھائے گا۔ یہ منصوبہ افراد اور کارگو کی ٹرانسپورٹیشن میں سہولت فراہم کرنے کے لیے اتھارٹی کی کوششوں کے فریم ورک میں آتا ہے جو ایک عالمی لاجسٹک مرکز کے طور پر مملکت کی پوزیشن کو بڑھاتا ہے۔اتھارٹی کے مطابق منصوبے کو نافذ کرنے میں معیار اور حفاظت کے اعلی معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے سائن بورڈز، فلور پینٹس، گراؤنڈ مارکنگ، وارننگ وائبریشنز اور کنکریٹ رکاوٹوں جیسے بہت سے کام شروع کیے ہیں۔ ان کاموں کا مقصد سڑک پر حفاظت کی سطح کو بڑھانا اور ٹریفک کی ہموار روانی کو یقینی بنانے کے لیے روڈ نیٹ ورک کی بڑھتی ہوئی طلب کے ساتھ رفتار کو برقرار رکھنا ہے۔


اپنے 3 بچوں کی تعلیم سے محرومی کا سبب بننے والے سعودی شہری کیخلاف تحقیقات

ریاض ، 20اگست:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)سعودی پبلک پراسیکیوشن ایک سعودی شہری کے خلاف تحقیقات کر رہا ہے جو اپنے تین بچوں کو بغیر کسی قانونی جواز کے تعلیم چھڑانے کا سبب بن گیا۔ بچوں کی عمریں 7 سے 11 سال کے درمیان ہیں۔ سعودی شہری کی وجہ سے انہیں تعلیم میں داخلہ لینے میں تاخیر ہوئی جس کی وجہ سے انہیں شدید نفسیاتی نقصان پہنچا۔ پبلک پراسیکیوشن نے مجاز حکام کو ہدایت کی کہ وہ بچوں کو سکول واپس لانے کے لیے ضروری قانونی اقدامات کریں اور ان بچوں کے لیے ضروری حفاظتی اقدامات بھی کریں۔سعودی پبلک پراسیکیوشن نے ان والدین کو انتباہ کیا تھا جو اپنے بچوں کو تعلیم چھوڑنے پر مجبور کر رہے ہیں اور انہیں سیکھنے میں مدد نہیں کر رہے ہیں۔

پبلک پراسیکیوشن نے بتایا کہ اس ممانعت کی سزا چائلڈ پروٹیکشن قانون کے آرٹیکل تین کے تحت آتی ہے۔ اس میں بچے کی تعلیم ترک نہ کرنے کی اہمیت کی نشاندہی کی گئی ہے۔استغاثہ نے پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ یہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کے لیے تعلیم حاصل کرنے کے لیے مناسب حالات پیدا کریں، انھیں سیکھنے میں مدد کریں اور انھیں مختلف منحرف رویوں سے بچائیں۔ بچوں کا تعلیم چھوڑنا بدسلوکی اور غفلت کی ایک شکل ہے جس کے لیے تحفظ کے نظام کے تحت جواب دہی کرنے کی ضرورت ہے۔


سعودی عرب میں 6 ہزار مساجد کی دیکھ بھال پر 500 ملین ریال خرچ

ریاض، 20اگست:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)سعودی وزارت اسلامی امور نے رواں سال اب تک مملکت میں چھ ہزار سے زیادہ مساجد پر کام مکمل کیا ہے۔ایس پی اے کے مطابق 2024 کے پہلے چھ ماہ کے دوران وزارت نے 6 ہزار 153 مساجد کی دیکھ بھال، صفائی، بحالی اور تزئین کے منصوبے مکمل کیے جس میں تقریبا 500 ملین ریال کی مشترکہ سرمایہ کاری کی گئی۔ان میں سے زیادہ تر کا مقصد 5 ہزار 300 سے زیادہ مساجد کی دیکھ بھال کی کوششیں تھیں جن پر 362 ملین ریال لاگت آئی۔

میقات الجعفہ، التنعیم اور المشعر الحرام سمیت اہم حج مقامات پر ائیرکنڈیشنگ کے نظام کو اپ گریڈ اور تزئین وآرائش کے کام پر13.5 ملین ریال لاگت آئی۔تین مساجد کو مکمل طور پر بحال کیا گیا اور ایک انتظامی عمارت 13.5 ملین ریال میں تعمیر کی گئی۔توانائی کی بچت کے لیے وزارت نے 683 مساجد میں گلاس پارٹیشن منصوبے کو نافذ کیا جس کے نتیجے میں بجلی کے استعمال میں 60 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔علاوہ ازیں 66 مساجد کو فرنشڈ کیا گیا جس کا کل رقبہ 56 ہزار 761 مربع میٹر ہے، جس پر6.8 ملین ریال لاگت آئی۔وزارت نے چارعمارتوں کی دیکھ بھال کے لیے 30 ملین ریال سے زیادہ مختص کیے ہیں۔یہ جامع کوششیں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے وزارت کے عزم کو ظاہر کرتی ہیں کہ نمازیوں کے لیے مملکت میں صاف، آرام دہ اوراچھی دیکھ بھال والی مساجد ہوں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button