’بی جے پی کاچاچا‘کہنے پرمجلس کاپلٹ وار،سیکولرزم پرسوال اٹھایا
نئی دہلی15ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)حالانکہ یوپی انتخابات میں تقریباََ6 ماہ باقی ہیں لیکن اب سے #اباجان ، چاچا جان کے بہانے ہنگامہ آرائی ہوئی ہے۔کسانوں نے ہندو، #مسلم #اتحاد کا نیا نعرہ دیاجس کااچھا پیغام گیااور #فسادات کے زخم بھرنے لگے لیکن اویسی کی پارٹی نے زخم پرنمک چھڑک کر اپناسیاسی دائو کھیلاہے۔بی جے پی تو چاہتی ہے کہ #فسادات کے نام پرووٹروں کوتقسیم کیاجائے،اویسی نے پھربی جے پی کو واک اووردے دیاہے ۔
اس سے پہلے انہوں نے ایک اورمتنازعہ بیان دیاتھااورمذہب کے نام پرووٹ مانگاہے جس سے بی جے پی کودلیل مل گئی ہے۔ بھارتیہ کسان یونین کے رہنماراکیش ٹکیت نے اشاروں میں اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی کوبی جے پی کا چچا قرار دیا۔ اے آئی ایم نے ٹکیت کے اس بیان کامناسب جواب دیا ہے۔ اویسی کی پارٹی کے ترجمان سید عاصم وقار نے کہاہے کہ #راکیش ٹکیت کاایک بیان آیا ہے جس میں وہ #اویسی صاحب کو بی جے پی کی بی ٹیم اور اویسی صاحب کوبی جے پی کے چچابتارہے ہیں۔.
لیکن وہ مظفر نگر فسادات کے دوران کہاں چھپے ہوئے تھے۔عاصم وقارنے کہاہے کہ راکیش ٹکیت کتنے سیکولر ہیں۔ یہ لوگوں کو اچھی طرح معلوم ہے۔ 2017 اور 2019 کے انتخابات میں راکیش ٹکیت بی جے پی کو جتانے کے لیے کام کر رہے تھے۔ اور ان کے لیے ووٹ مانگ رہے تھے۔راکیش ٹکیٹ #مسلمانوں کے کندھوں پر بیٹھ کر سیاسی فاصلہ طے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آج آپ اسٹیج پر چڑھ کر جاٹوں کی طرف سے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کر رہے ہیں ، لیکن جب مظفر نگر میں فسادات ہوئے تو وہ کہاں چھپے ہوئے تھے۔
اس وقت آپ کے لوگ نعرے بلند کرکے اس قتل عام میں ملوث تھے۔وقار کے مطابق اس وقت ٹکیت نے امن کی اپیل نہیں کی تھی۔ آج آپ ہمیں بی جے پی کی بی اور سی ٹیم بتا رہے ہیں۔یہی سوال مجلس سے بھی کیاجاسکتاہے کہ جب ان کے دوست کے سی آر کی حکومت میں تلنگانہ میں #مسجدیں #شہید کی جارہی تھیں تووہ کہاں تھے۔
کانگریس نے راکیش بھی ٹکیت کے اس بیان کی تائید کی ہے۔ مقامی کانگریس قائدین نے کہا ہے کہ اویسی بی جے پی کی حمایت کے لیے جگہ جگہ پہنچ رہے ہیں۔



