سینے کی جلن و تیزابیت میں کون سی غذائیں مفید و مضر
تیار شدہ غذائیں(Processed Foods) چکنائی سے لبریز ہوتی ہیں
سینے میں جلن اور تیزابیت کی زیادہ تر وجہ یہ ہوتی ہے کہ معدے میں موجود تیزابی مادہ واپس غذائی نالی میں جمع ہونے لگتا ہے۔ تیز مرچ مسالوں والی غذائوں کے زیادہ استعمال سے عموماً یہ شکایت پیدا ہوتی ہے کیونکہ یہ غذائی اشیاء معدے کی اندرونی سطح پر خراش ڈالتی ہیں اور تیزابی مادہ واپس غذائی نالی میں جانے لگتا ہے۔
علاوہ ازیں وہ غذائیں جو جسم میں دیر سے ہضم ہوتی ہیں، ان کے استعمال سے بھی تیزابی مادہ کے جمع ہونے کا امکان بڑھ سکتا ہے۔ مثلا تیار شدہ غذائیں(Processed Foods) چکنائی سے لبریز ہوتی ہیں اور ان سے نمٹنے میں جسم کو کافی وقت صرف کرنا پڑتا ہے۔ اس سے معدہ بھرا بھرا محسوس ہوتا ہے اور تیزابی مادہ غذائی نالی میں راہ فرار اختیار کرتا ہے۔
حد تو یہ ہے کہ ایسی چکنائی والی غذائیں جو صحت بخش سمجھی جاتی ہیں مثلاً پنیر، ان سے بھی معدے میں گیس اور تیزابیت بنتی ہے اور جب یہ غذائی نالی میں واپس ہوتی ہے تو سینے میں جلن کا احساس ہوتا ہے۔ سینے میں جلن اور تیزابیت سے بچنے کیلئے ایسی غذائیں استعمال کرنی چاہئیں جو معدے میں تیزابی مادے کو جذب کرسکیں اور وہاں جمع نہ ہونے دیں۔ نشاستے والی غذائیں اس حوالے سے بہترین ہیں۔ جو کا دلیہ اور آلو وہ غذا ہیں جو دن بھر معدے میں تیزابی مادے کو کم رکھتی ہیں۔
جن غذائوں میں وٹامن سی زیادہ ہوتا ہے، وہ بھی معدے سے فرار ہونے والے تیزابی مادے سے ہونے والی جلن اور تیزابیت سے بچاتی ہیں اور اس سے ٹشوز کو جو نقصان پہنچتا ہے، اس کی بھی مرمت کر دیتی ہیں۔ آلو کے علاوہ بروکولی، سبز پھلیاں، اسپارکس، پھول گوبھی، سبز پتوں والی سبزیاں مثلاً پالک، میتھی اور کھیرے میں نہ صرف شکر اور چکنائی کم ہوتی ہے بلکہ معدے کی تیزابیت بھی یہ غذائیں گھٹاتی ہیں اور آنتوں اور معدے کے دیگر مسائل سے بھی محفوظ رکھتی ہیں۔



