
کن اسکیموں نے پلٹ دی ایم پی اور چھتیس گڑھ میں بازی
اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں بڑی جیت حاصل کی
نئی دہلی، 4دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں بڑی جیت حاصل کی ہے۔ اس میں پارٹی کی جانب سے خواتین کے لیے اعلان کردہ دو اسکیموں لاڈلی بہنا اور مہتاری وندن نے کافی حد تک اہم کردار ادا کیا۔ وہیں دونوں ریاستوں میں شروع سے ہی کانگریس اس معاملے میں بی جے پی سے پیچھے دکھائی دے رہی تھی اور انتخابی نتائج اس کے سبق کے طور پر سامنے ہیں۔مدھیہ پردیش حکومت نے انتخابات سے پہلے اعلان کیا تھا کہ لاڈلی بہنا یوجنا کے تحت نچلے اور متوسط طبقے کی غریب خواتین کو 12000 روپے سالانہ (1000 روپے ماہانہ) دیئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ کچے گھروں میں رہنے والی غریب خواتین کو پکے گھر فراہم کرنے کا بھی وعدہ کیا گیا۔ یہی نہیں انتخابی مہم کے دوران وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے اس اسکیم کے تحت ریاست کی تقریباً 1 کروڑ 31 لاکھ خواتین کے کھاتوں میں 1250 روپے کی دو قسطیں بھی جمع کرائیں۔
خود پی ایم مودی نے اپنی کئی انتخابی میٹنگوں میں لاڈلی بہنا یوجنا کا ذکر کیا۔ اس کا نتیجہ بی جے پی کے لیے خواتین کے بمپر ووٹوں کی شکل میں سب کو نظر آ رہا ہے۔چھتیس گڑھ میں بی جے پی نے اپنے انتخابی منشور میں خواتین کے لیے مہاتری وندن (ماں کو سلام) اسکیم کا اعلان کیا تھا۔ اس میں خواتین سے یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ ریاست میں بی جے پی کی حکومت بنتے ہی خواتین کو ایک سال میں 12 ہزار روپے دیے جائیں گے یعنی ایک ہزار روپے ماہانہ براہ راست ان کے بینک اکاؤنٹ میں جمع کرائے جائیں گے۔ اس کا نمایاں اثر 7 نومبر کو پہلے مرحلے میں بیس سیٹوں پر ہونے والی ووٹنگ میں بھی دیکھا گیا۔ اس سے گھبرا کر حکمراں کانگریس نے عجلت میں دیوالی کے دن چھتیس گڑھ گرہ لکشمی یوجنا شروع کرنے کا اعلان کیا۔تاہم اس سے پہلے کانگریس کے منشور میں خواتین کے لیے کسی اسکیم کا اعلان نہیں کیا گیا تھا اور نہ ہی کانگریس نے ریاست میں گزشتہ پانچ سالوں میں اپنے دور حکومت میں خواتین سے متعلق کسی اسکیم پر کوئی توجہ نہیں دی تھی۔’
پارٹی کو اس کا خمیازہ انتخابی نتائج کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ کم و بیش وہی صورتحال جو مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں دونوں پارٹیوں کے لیے راجستھان میں دیکھی گئی۔ریاست میں خواتین ووٹروں کو راغب کرنے کے لیے بی جے پی نے اپنے انتخابی منشور میں کچھ اہم وعدے کیے اور حکومت بنتے ہی انھیں پورا کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ وہیں یہاں بھی کانگریس بی جے پی سے بہت پیچھے رہ گئی۔ یہی نہیں پارٹی نے ووٹنگ سے کچھ دن پہلے اپنا منشور بھی جاری کیا۔



