نیویارک کی ایک تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ سفید لوبیا پر حملہ کرکے اسے نقصان پہنچانے والا وائرس سرطان کے علاج میں انتہائی مفید ثابت ہوسکتا ہے۔سائنسی جریدے مالیکیولر فارماسیوٹکس میں شائع کی گئی تحقیق کے مطابق جب اس وائرس کو سرطانی رسولیوں میں داخل کیا گیا تو اس نے اندر کا امنیاتی نظام سرگرم کردیا اور کینسر کا پھیلاؤ رکنے لگااسے انگریزی میں کاؤپی وائرس کہا جاتا ہے ۔
عام حالات میں یہ سفید لوبیا کے پتوں کو نشانہ بناتا ہے لیکن ایک پودے کا وائرس اب جانوروں اور انسانوں کے لیے شفا بن سکتا ہے اور عام حالات میں بھی انسانوں کے لئے بے ضرر ہوتا ہے تاہم اس کام میں کئی سائنسداں شریک ہیں جن میں خردحیاتیات، نینوٹیکنالوجی، سرطان اور بایوٹیکنالوجی کے ماہرین قابلِ ذکر ہیں۔
یونیورسٹی کلیفورنیا، سان ڈیا گو اورڈارٹ ماؤتھ کالج کے ساتھیوں نے سات سالہ تحقیق کے بعد وائرس کو نینوذرات میں تقسیم کیا اسے کینسر امیونوتھراپی سے گزارا تو چوہوں اور کتوں پر حیرت انگیز مثبت اثرات مرتب ہوئے نہ صرف یہ سرطانی رسولی میں داخل ہوکر اس کا علاج کرتا ہے بلکہ جسم کے اندر اپنا اثر بڑھا کر مستقبل کے سرطانی حملوں کو بھی پسپا کرسکتا ہے۔
یہ تحقیق کاؤپی وائرس نینوذرات کو مستقبل کی بہترین امینوتھراپی بناتی ہیں جیسے ہی اس کے نینوذرات کینسر زدہ خلیات میں جاتے ہیں بدن کا دفاعی نظام خود کینسر کا دشمن بن جاتا ہے اسے مختلف اقسام کے سرطان پر آزمایا گیا ہے چوہوں کو جب جب جلد کے کینسر، بیضہ دانی، چھاتی، آنت اور دماغی کینسر میں مبتلا کیا گیا وائرس ان سب کے لیے یکساں طور پر مؤثر ثابت ہوا صرف یہی نہیں بلکہ یہ وائرس پورے بدن میں ہرطرح کے سرطان کے خلاف ایک دفاعی لہر پیدا کرتا ہے جو بہت خوش آئند بات ہے۔



