بین الاقوامی خبریںسرورق

اسرائیل میں انتخابات کی صورت میں نیتن یاھو کو کون ہرا سکتا ہے؟

الیکشن ہونے کی صورت میں نفتالی بینٹ کی جماعت کنیسٹ کی 27 نشستوں پر کامیابی حاصل کرسکتی ہے

دبئی،۲۹؍اگست :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اگرچہ اسرائیل میں فی الحال غزہ جنگ کی وجہ سے پارلیمانی الیکشن کا کوئی امکان نہیں مگر رائے عامہ کے جائزے بتاتے ہیں کہ بنجمن نیتن یاھو عوام میں اپنی مقبولیت کافی حد تک کھو چکے ہیں۔ آج اگر اسرائیل میں انتخابات ہوتے ہیں تو انہیں شکست ہوسکتی ہے۔ ان کے مقابلے میں دائیں بازو کی ایک دوسری جماعت کے سربراہ اور سابق وزیراعظم’نفتالی بینٹ‘ کی مقبولیت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔رواں ماہ کی 24 اور 27 اگست کے درمیان پروفیسر یتزحاک کاٹز کی سربراہی میں ماگر موحوت انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام رائے عامہ کا ایک جائزہ لیا گیا۔ تین روز تک جاری رہنے والے اس سروے میں 18 سال سے زائد عمر کے 608 افراد نے رائے دی۔ اس سروے کے نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ آج الیکشن ہونے کی صورت میں نفتالی بینٹ کی جماعت کنیسٹ کی 27 نشستوں پر کامیابی حاصل کرسکتی ہے جب کہ بنجمن نیتن یاھو کی جماعت ’لیکوڈ‘ 22نشتوں پر کامیابی کا امکان ہے۔

پیشے کے اعتبار سے کاروباری شخصیت باو سالہ نفاتلی بینیٹ اسرائیل کی تاریخ میں وزارت عظمیٰ سنبھالنے والی انتہائی دائیں بازو کی مذہبی جماعت کے پہلے رہ نما کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے 2021ء میں نیتن یاہو کی 12 سال سے زیادہ کی حکمرانی کا خاتمہ کیا تھا۔اس سے قبل 2020ء میں انہیں وزارت عظمیٰ سمیت 5 وزارتوں کے قلم دان سونپے گئے تھے۔

رائے عامہ کے جائزوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ بینی گانٹز کی قیادت میں اسٹیٹ کیمپ پارٹی نے 21 نشستیں حاصل کرسکتی،آوی گیڈور لائبرمین کی قیادت میں اسرائیل بیتینوپارٹی نے 14 اور یار لپیڈ پارٹی اور یائر گولان کی جماعتیں مشترکہ طور پر 11 حاصل کرسکتی ہیں۔آریہ دیری کی قیادت میں شاس پارٹی کو بھی نو نشستیں ملیں گی جب کہ اتزما یہودیت پارٹی جس کی قیادت ایتمار بن گویر کر رہے ہیں یونائیٹڈ تورہ یہودیت پارٹی کے ساتھ مل کر آٹھ آٹھ نشستیں جیت سکتے۔عرب فرنٹ فار چینج کو جس کی قیادت ایمن عودہ اور احمد طیبی کر رہے ہیں کو 6 اور سموٹرچ کی مذہبی صیہونیت پارٹ پانچ پانچ نشستیں جیت سکتی ہے۔ عرب یونائیٹڈ لسٹ جس کی قیادت منصور عباس کر رہے ہیں کو بھی پانچ سیٹیں ملنے کا امکان ہے۔

مغربی کنارے میں آباد کاروں پر امریکی پابندیوں کو نیتن یاہو نے خطرناک بتایا

مقبوضہ بیت المقدس ،۲۹؍اگست:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)امریکہ نے مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں پر نئی پابندیوں کا اعلان کیا اور اسرائیل پر زور دیا کہ وہ ان انتہا پسند گروہوں کا مقابلہ کرے جن پر تشدد کو ہوا دینے کا الزام ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ پابندیوں کے اس نئے پیکیج میں خاص طور پر ’’ہاشومیر‘‘ کی غیر سرکاری تنظیم کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس پر مغربی کنارے میں ایک یہودی بستی کو مادی مدد فراہم کرنے کا الزام ہے۔امریکی اقدام پر اپنے پہلے تبصرے میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بدھ کو اعلان کیا کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف تشدد کی کارروائیوں کے ارتکاب پر اسرائیلی آباد کاروں پر امریکہ کی طرف سے عائد کردہ نئی پابندیوں کو بڑا خطرناک سمجھ رہے ہیں۔ یہ معاملہ امریکہ کے ساتھ بحث کا موضوع ہے۔فلسطینی ذرائع کے مطابق بدھ کی صبح شمالی مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی جانب سے شروع کیے گئے فوجی آپریشن کے دوران کم از کم 10 فلسطینی مارے گئے۔

اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے دہشت گردی کو ناکام بنانے کے لیے فضائی اور زمینی آپریشن شروع کیا ہے جو جاری ہے۔فلسطینی ہلال احمر نے ایک بیان میں کہا کہ مغربی کنارے میں ہماری ٹیموں نے 10 شہداء اور 22 زخمیوں کو منتقل کیا۔ اسرائیلی فوج نے قبل ازیں اعلان کیا تھا کہ شمال میں جنین اور طولکرم میں 9 جنگجو مارے گئے ہیں۔ ہلال احمر کے مطابق اس کے عملے نے جنین میں چھ اور طوباس میں چار شہدا کو پایا۔ زخیمی ہونے والے رام اللہ، البیرہ، طولکرم، جنین، نابلس اور طوباس کے شہروں میں پائے گئے۔سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں تشدد کی رفتار میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

مغربی کنارے میں کم از کم 660 فلسطینی یہودی.آباد کاروں اور اسرائیلی فورسز کے حملوں میں ہلاک ہوچکے ہیں۔ فلسطینی حملوں میں فوجیوں سمیت کم از کم 20 اسرائیلی مارے گئے ہیں۔حماس کی وزارت صحت کے مطابق غزہ میں اسرائیل کے قتل عام میں 40534 فلسطینیوں کو شہید کیا جا چکا۔ شہید ہونے والوں میں اکثریت خواتین اور بچوں کی شامل ہے۔ واضح رہے اسرائیلی افواج اکثر مغربی کنارے کے ان شہروں میں کارروائیاں اور چھاپے مارتی رہتی ہیں جن پر اسرائیل نے 1967 سے قبضہ کر رکھا ہے۔ گزشتہ ہفتوں میں شمالی مغربی کنارے کے علاقوں میں کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ان علاقوں میں فلسطینی گروپ سرگرم ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button