مبینہ مسخ شدہ تاریخ کو دوبارہ لکھنے سے ہمیں کون روک سکتا ہے،امیت شاہ کا اعلان
انہوں نے کہا کہ آگے آئیں، تحقیق کریں اور تاریخ کو دوبارہ مرتب کریں۔ اس طرح ہم اپنی آنے والی نسلوں کو تحریک دے سکتے ہیں
نئی دہلی، 25 نومبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے مؤرخین سے کہا ہے کہ وہ تاریخ کو ہندوستانی تناظر میں دوبارہ لکھیں، انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت ان کی کوششوں کی مکمل حمایت کرے گی۔ دہلی میں آسام حکومت کی طرف سے منعقدہ ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ میں تاریخ کا طالب علم ہوں، اور میں نے کئی بار یہ سنا ہے کہ ہماری تاریخ کو صحیح طریقے سے پیش نہیں کیا گیا، اور اسے توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے، شاید یہ سچ ہے لیکن اب ہمیں اسے صحیح کرنا ہوگا۔سترہویں صدی کے آہوم جنرل لاچیت برفوکن کے 400ویں یوم پیدائش کے موقع پر تین روزہ تقریبات کے دوسرے دن مرکزی وزیر داخلہ نے کہاکہ میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ ہمیں ہماری تاریخ کو صحیح اور شاندار طریقے سے پیش کرنے سے کون روک رہا ہے!‘
برفوکن کی یاد میں 24 نومبر کو لاچیت دیوس کے طور پر منایا جاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ میں یہاں موجود تمام طلبہ اور یونیورسٹی کے پروفیسروں سے گزارش کرتا ہوں کہ یہ لوگوں کے ذہنوں سے یہ بات نکالنی ہے کہ ہماری تاریخ کو مسخ کیا گیا ہے۔ انہیں ہندوستان کے کسی بھی حصے میں 150 سال اس سے زیادہ حکومت کرنے والے 30 مملکتوں پر ملک کی آزادی کے لئے جدوجہد کرنے والی 300 شخصیات پر تحقیق کرنی چاہئے۔مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ جب ہم کافی کچھ لکھ چکے ہوں گے تو یہ خیال ختم ہو جائے گا کہ تاریخ غلط پڑھائی جا رہی ہے۔ وگیان بھون میں منعقدہ پروگرام میں موجود مورخین اور طلباء کو یقین دلاتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ مرکز ان کی تحقیق میں مکمل تعاون کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ آگے آئیں، تحقیق کریں اور تاریخ کو دوبارہ مرتب کریں۔ اس طرح ہم اپنی آنے والی نسلوں کو تحریک دے سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں کے وسیع تر فائدے کے لیے تاریخ کو دوبارہ سمجھنے اور اس پر نظر ثانی کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ مغل سلطنت کے پھیلاؤ کو روکنے میں لاچیت کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ انہوں نے (لاچیت) نے اپنی خراب صحت کے باوجود سری گھاٹ کی لڑائی میں مغلوں کو شکست دی۔ مرکزی وزیر داخلہ نے اس موقع پر لاچیت پر بنائی گئی دستاویزی فلم کا بھی افتتاح کیا۔



