تلنگانہ کی خبریںسرورق

وزیر اقلیتی بہبود کون ؟ چار برسوں سے اقلیتی بہبود کا پرسان حال کوئی نہیں

مسلم وزیر کی خدمات سے استفادہ نہیں،مسلم تحفظات اور دیگر اہم مسائل توجہ طلب، ریاست کی بڑی اقلیت حکومت سے مایوس

حیدرآباد۔28 ۔ نومبر:(رشیدالدین)   تلنگانہ میں اقلیتوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے اور عوام اس بات سے واقف تک نہیں کہ اقلیتی بہبود کے وزیر کون ہیں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے جلسوں میں شرکت کے وقت ان کی تعلیمی و معاشی ترقی کیلئے بلند بانگ دعوے ضرور کرتے ہیں لیکن حکومت کی جانب سے اقلیتی بہبود بجٹ کی اجرائی اور خرچ پر کوئی نگرانی نہیں ہے جس کے نتیجہ میں گذشتہ 4 برسوں سے محکمہ اقلیتی بہبود کی اسکیمات عملاً ٹھپ ہوچکی ہیں اور محکمہ کا وجود برائے نام ہوکر رہ گیا ہے۔ 2014 میں تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد جب ٹی آر ایس پہلی مرتبہ اقتدار میں آئی تو کے سی آر نے اقلیتوں کی ترقی پر توجہ دینے کیلئے اقلیتی بہبود کا قلمدان اپنے پاس رکھا تھا۔

وزارت میں ڈپٹی چیف منسٹر کی حیثیت سے محمد محمود علی کو شامل کرتے ہوئے انہیں ریوینیو کا قلمدان دیا گیا تھا۔ چیف منسٹر نے وزارت اقلیتی بہبود کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے اپنی سطح پر جائزہ اجلاس بھی منعقد کئے اور عمل آوری کا کام محمد محمود علی کے ذمہ کیا جاتا رہا۔ 2018 اسمبلی انتخابات کے بعد ٹی آر ایس دوسری مرتبہ اقتدار میں آئی اور کے سی آر نے وزارت میں محمد محمود علی کو شامل ضرور کیا لیکن اقلیتی بہبودکا قلمدان کے ایشور کو دیا گیا جن کے پاس ایس سی ویلفیر اور معذورین کی بہبود کے اضافی قلمدان بھی ہیں۔ گذشتہ چار برسوں سے کے ایشور نے اقلیتی بہبود پر کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی جس کے نتیجہ میں فلاحی اسکیمات کے ثمرات سے تلنگانہ کی اقلیتیں محروم ہیں۔ عوام اس الجھن میں ہیں کہ تلنگانہ کے اقلیتی بہبود کے وزیر کون ہیں‘ کے ایشور یا پھر محمد محمود علی۔ کے ایشور اردو داں نہیں ہیں اور نہ ہی وہ اقلیتوں کے مسائل سے واقف ہیں۔

گذشتہ چار برسوں میں شاید ہی ایک یا دو جائزہ اجلاس اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر منعقد کئے گئے لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ جب کبھی کسی ادارہ سے متعلق کام ہوتا ہے تو وزیر اقلیتی بہبود اس ادارہ کے عہدیداروں کو طلب کرلیتے ہیں۔ بجٹ کی اجرائی کے سلسلہ میں ان کی عدم دلچسپی کے سبب اسکیمات متاثر ہورہی ہیں اور عہدیداروں کا کہنا ہے کہ محکمہ فینانس پر بجٹ کی اجرائی کیلئے دباؤ بنانے کیلئے کوئی وزیر تیار نہیں ہے۔ دوسری طرف اقلیتی اداروں کے مسائل کے سلسلہ میں وزیر داخلہ محمود علی عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے رہے ہیں۔ سپریم کورٹ میں زیر دوران 4 فیصد مسلم تحفظات کے مقدمہ کے سلسلہ میں بھی وزیر داخلہ نے اجلاس منعقد کیا تھا۔ وقف بورڈ کے موجودہ بحران کے حل اور مستقل چیف ایگزیکیٹو آفیسر کی عدم موجودگی کے سبب پیدا شدہ صورتحال کی یکسوئی میں کے ایشور نے کوئی دلچسپی نہیں دکھائی ہے جبکہ وزیر داخلہ محمد محمود علی نے اپنی مساعی سے چیف ایگزیکیٹو آفیسر کے عہدہ کے اہل امیدواروں کی فہرست تیار کرتے ہوئے محکمہ اقلیتی بہبود کو روانہ کیا ہے۔

حکومت کی پہلی میعاد میں چیف منسٹر کی نگرانی میں وزارت اقلیتی بہبود کی موجودگی کے وقت نہ صرف بجٹ کی اجرائی بہتر تھی بلکہ اسکیمات پر عمل آوری جاری تھی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کو خود بھی اقلیتی بہبود کی اسکیمات سے کوئی دلچسپی نہیں ہے جس کے نتیجہ میں اقلیتی بہبود کا قلمدان مسلم وزیرکو نہیں دیا جارہا ہے۔ چیف منسٹر نے اقلیتی قائدین سے ملاقات کے دوران بارہا تیقن دیا تھا کہ محمد محمود علی کو اقلیتی بہبود کا قلمدان حوالے کردیں گے لیکن آج تک اس پر عمل نہیں ہوسکا۔ سرکاری ملازمتوں میں تقررات کیلئے تحفظات سے متعلق روسٹر پوائنٹس میں مسلم تحفظات کو 4 فیصد سے گھٹاکر 3 فیصد کردیا گیا لیکن مسلمانوں کو مطمئن کرنے کیلئے وزیر اقلیتی بہبود نے کوئی مساعی نہیں کی اور نہ ہی چیف سکریٹری سے نئے روسٹر پوائنٹس کو حاصل کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسمبلی اور کونسل میں اقلیتی بہبود کے اُمور پر زیادہ تر جواب دینے کی ذمہ داری وزیر داخلہ کو دی جاتی رہی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ وزیر اقلیتی بہبود کے انتخابی حلقہ میں دلت رائے دہندوں کی تعداد زیادہ ہے لہذا کے ایشور کو دلت بندھو اسکیم اور ایس سی ڈیولپمنٹ سے متعلق اسکیمات میں زیادہ دلچسپی ہے۔ اقلیتی اداروں کی انفرادی طور پر کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے بجٹ کی اجرائی کو یقینی بنانے میں عدم دلچسپی سے اقلیتوں میں حکومت کے بارے میں ناراضگی بڑھتی جارہی ہے۔ محکمہ کے اعلیٰ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ دونوں وزراء کے درمیان کچھ بھی کہنے یا کرنے کے موقف میں نہیں ہیں لہذا چیف منسٹر کو وزارت اقلیتی بہبود کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنا چاہیئے۔ حکومت نے اقلیتی اُمور کے بارے میں تجاویز پیش کرنے کیلئے ریٹائرڈ آئی پی ایس عہدیدار کو مشیر مقرر کیا لیکن یہ عہدہ بھی اقلیتی بہبود کا بجٹ حاصل کرنے اور اسکیمات پر عمل آوری میں ناکام ثابت ہوا ہے۔ چیف منسٹر کو چاہیئے کہ وہ وزارت اقلیتی بہبود کو مسلم وزیر کے حوالے کریں یا پھر اسے دوبارہ اپنی راست نگرانی میں واپس لے لیں.

متعلقہ خبریں

Back to top button