قومی خبریں

ڈبلیو ایچ او کی وارننگ: کورونا کے ساتھ اب’موٹاپے‘ کاسنگین خطرہ

ہندوستان سمیت یورپی ممالک کے اعداد و شمار تشویشناک

نئی دہلی ،13مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دو سال سے زائد عرصے سے عالمی نظام ِصحت کورونا کی وبا سے نمٹنے میں مصروف ہے۔ کرونا وائرس کی دریافت شدہ اور تخلیق شدہ تمام ویری ینٹس نے عوامی صحت کو بری طرح متاثر کیا ہے، حالانکہ اس وقت دنیا کے لیے صرف کورونا ہی خطرہ نہیں، صحت کے دیگر کئی مسائل بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ایک اور وبا کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے ایک رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی ممالک میں موٹاپے کا خطرہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال 2016 میں یورپی ممالک میں 59 فیصد سے زیادہ بالغوں کا باڈی ماس انڈیکس (BMI) معمول سے زیادہ تھا۔ کرونا وبا کے دوران اس میں مزید اضافہ ہونے کے آثار ہیں۔ تیزی سے بڑھتے ہوئے وزن کو صحت کے بہت سے سنگین خطرات کا ایک عنصر سمجھا جاتا ہے۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ وزن زیادہ ہونے سے صحت سے متعلق کئی مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اسے ذیابیطس، امراض قلب سمیت کئی دیگر سنگین صحت کے مسائل میں ایک اہم عنصر کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ جس انداز میں عالمی سطح پر موٹاپے کی کیفیت کو ظاہر کرتی ہے، وہ یقینا تشویش کا باعث ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بڑھتے ہوئے خطرے پر قابو پانے کے لیے تمام ممالک کو منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے ورنہ یہ ایک بڑی وبا کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button