
علی خامنہ ای کے بعد ایران کا سپریم لیڈر کون؟ تجزیہ، اندیشے اور عالمی خدشات
خامنہ ای تقریباً 35 سال سے برسراقتدار ہیں
تہران، ۲۰ جون (اردو دنیا/ایجنسیز)اسرائیل، ایران کی موجودہ اسلامی رجیم کو ختم کرنے کے لیے اپنی کارروائیاں تیز کر رہا ہے۔ یہ وہی رجیم ہے جو 1979 میں انقلاب کے بعد برسراقتدار آئی اور ایران کو "اسلامی جمہوریہ” کا درجہ دیا۔ اسرائیل اور امریکہ کو اس نظام کی "اسلامی تعبیر” کبھی قابل قبول نہیں رہی، خاص طور پر اس کی جوہری پالیسی اور خطے میں بڑھتی عسکری مداخلت کے تناظر میں۔
اسرائیل کا ممکنہ ہدف: خامنہ ای؟
ایرانی جوہری و بیلسٹک تنصیبات کے علاوہ، حالیہ مہینوں میں اسرائیل نے آئی آر آئی بی جیسے نشریاتی اداروں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ اب یہ سوال شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کہ کیا اسرائیلی افواج علی خامنہ ای کو بھی نشانہ بنا سکتی ہیں؟ ڈونالڈ ٹرمپ کے سابقہ بیانات نے اس امکان کو مزید تقویت دی، جنہوں نے ایک بار کہا تھا کہ "ہمیں معلوم ہے وہ کہاں چھپے ہیں۔”
اگر خامنہ ای نہ رہے تو؟
ایران میں سپریم لیڈر کی جانشینی کا کوئی واضح منصوبہ نظر نہیں آتا۔ خامنہ ای تقریباً 35 سال سے برسراقتدار ہیں اور اس دوران کسی واضح جانشین کو سامنے نہیں لایا گیا۔ اس خلا کو پر کرنے کی صورت میں دو ممکنہ راستے سامنے آ سکتے ہیں:
پاسداران انقلاب کا کنٹرول – اگر نظام کو زبردستی ختم کیا جاتا ہے تو سخت گیر پاسداران انقلاب (IRGC) فوراً اقتدار سنبھال سکتے ہیں، جیسا کہ کارنیگی انڈومنٹ کی نکول گریجوسکی نے کہا: "یہ حملے حکومت کی تبدیلی پر مرکوز لگتے ہیں، نہ کہ صرف عدم پھیلاؤ پر۔”
جلاوطن رہنما – سابق شاہ ایران کے بیٹے رضا پہلوی، یا پیپلز مجاہدین کی مریم راجوی جیسے رہنما منظر عام پر آ سکتے ہیں، لیکن ان کی ایران میں مقبولیت بہت محدود ہے۔
رضا پہلوی یا مریم راجوی؟
رضا پہلوی، جو امریکہ میں مقیم ہیں، شاہ ایران کے بیٹے ہیں اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے حامی ہیں۔ تاہم، ان کا عوامی اور بین الاقوامی اعتماد کمزور ہے۔ مریم راجوی کی تنظیم بھی کمزور تصور کی جاتی ہے، خاص طور پر اس کی صدام حسین سے پرانی قربت کی وجہ سے۔
یورپی تحفظات
یورپی رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ اگر ایران میں بھی عراق یا لیبیا جیسا خلا پیدا ہوا تو خانہ جنگی ناگزیر ہو جائے گی۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں نے خبردار کیا ہے کہ ایران میں فوجی ذرائع سے حکومت کی تبدیلی تباہ کن ہوگی۔
ایران کا نسلی تنوع: موقع یا خطرہ؟
مغربی تجزیہ کاروں کو امید ہے کہ ایران کا نسلی تنوع (کرد، عرب، ترک، بلوچ) کسی نئی سیاسی لہر میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان گروہوں کے پیچھے مغربی حمایت ایرانی عوام میں شکوک کو جنم دے سکتی ہے۔



