بین الاقوامی خبریں

مصری شہری جنسی طاقت کی ادویات پر کروڑوں ڈالر کیوں خرچ کر رہے ہیں؟

قیمتوں میں اضافہ اور مارکیٹ کے رجحانات

قاہرہ (اردو دنیا نیوز) – مصر میں میڈیسن مارکیٹ کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق، ستمبر 2022 سے ستمبر 2023 کے دوران جنسی طاقت کی ادویات پر مجموعی طور پر 16 ملین ڈالر (تقریباً نصف ارب مصری پاؤنڈ) خرچ کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق، مصر میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی جنسی محرک دوا کی کھپت 6.9 ملین یونٹس رہی، لیکن گزشتہ سال کے مقابلے میں اس میں 23 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

قیمتوں میں اضافہ اور مارکیٹ کے رجحانات

اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ جنسی طاقت کی ادویات کی فروخت کی قدر میں بھی 4.3 فیصد کمی دیکھی گئی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ایرک (Erec) نامی دوا کی قیمت میں 25 فیصد اضافے کی وجہ سے اس کی فروخت میں کمی ہوئی ہے۔

فارماسیوٹیکل انڈسٹری اور دوا ساز کمپنیاں

ایرک کو مصری دوا ساز کمپنی "ادویا” تیار کرتی ہے، جس کی ملکیت میں یورپی بینک برائے تعمیر نو و ترقی (EBRD) اور برطانوی امپیکٹ انویسٹنگ اینڈ ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن (CDC) شامل ہیں۔ مصر میں فارمیسیوں کے ذریعے فروخت ہونے والی ادویات کا کل حجم 142.7 بلین مصری پاؤنڈ رہا، جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 18 فیصد زیادہ ہے، تاہم فروخت شدہ دوائیوں کی مجموعی اکائیوں میں 8 فیصد کمی دیکھی گئی۔

مصری ماہرین کی رائے

ازدواجی تعلقات کی ماہر ڈاکٹر ہبہ قطب کے مطابق، مصر میں ایرک کے زیادہ استعمال کی وجوہات میں اس کی کم قیمت اور طبی علاج کے مہنگے ہونے کی وجہ سے اسے ایک سستا متبادل سمجھا جانا شامل ہے۔ مزید برآں، جنسی قوت بڑھانے والی یہ دوائیں ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر عام فروخت کی جاتی ہیں، جس کی وجہ سے ان کا استعمال زیادہ عام ہوگیا ہے۔

مصر میں قوتِ باہ کی ادویات کا رجحان

ڈاکٹر ہبہ قطب کا کہنا ہے کہ یہ ادویات ازدواجی تعلقات کے علاوہ مجموعی جنسی طاقت اور خون کی گردش بہتر بنانے کے لیے بھی استعمال کی جاتی ہیں، جس کی وجہ سے مصر میں ان کی مانگ برقرار ہے۔ تاہم، مارکیٹ میں حالیہ قیمتوں میں اضافے نے ان کی خریداری کی رفتار کو متاثر کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button