بین الاقوامی خبریں

نائیجیریا میں اسکولوں کے طلبا اغواکاروں کا ہدف کیوں بنے ہوئے ہیں؟

لندن:(اردودنیا/ایجنسیاں)نائیجیریا میں مسلح افراد نے ایک اور اسکول پر حملہ کیا اور اس بار تین سال کی عمر تک کے بچوں کو بھی ساتھ لے گئے تاہم بعد ازاں ایسے کم عمر بچوں کو جنگل میں چھوڑ دیا جو گروپ کے ساتھ چل نہیں سکتے تھے۔ ریاست نائیجر میں صالح تانکو اسلامک اسکول سے اتوار کے روز اغوا کی واردات اس سال ملک کے شمال میں طلبا کو تاوان کے لیے اغوا کرنے کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے۔

اغوا ہونے والے کچھ یونیورسٹی کے طالب علم ہیں لیکن کچھ ایلیمنٹری سکول کے بچے بھی مغویان میں شامل ہیں۔دہشت ناک اغوا کے بعد، اغواکاروں نے کادونا کی گرین فیلڈ یونیورسٹی کے پانچ طالب علموں کو ہلاک کر دیا ہے کیونکہ ان کے والدین اغوا کاروں کے مطالبات پورے نہیں کر پائے تھے۔ایسوسی ایٹڈ پریس نے ایک تفصیلی جائزہ لیا ہے کہ افریقہ میں سب سے زیادہ آبادی والے اس ملک نائیجیریا میں اسکولوں سے اغوا کاری معمول کیوں بن گیا ہے؟

حکومت کے ردعمل پر اطراف سے شدید تنقید کیوں ہو رہی ہے؟نائیجیریا کو سال 2014 میں بین الاقوامی توجہ ملی جب ایک انتہا پسند گروپ بوکو حرام نے چیبوک میں 276 لڑکیوں کو اغوا کر لیا۔ اس واقعے کے بعد ’’برنگ بیک آور گرلز‘‘ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ ایک عالمی مہم چل پڑی۔ نوجوان لڑکیوں کو زبردستی مذہب اسلام قبول کروایا گیا اور ان کو اپنے اغواکاروں کے ساتھ شادی پر مجبور کیا گیا۔

کئی لڑکیوں کے ہاں اب اولادیں ہیں، جب کہ بعض فرار ہونے میں کامیاب ہو گئیں اور سو سے زیادہ لڑکیاں سات سال گزر جانے کے بعد بھی لاپتہ ہیں۔ سال 2018 میں بوکو حرام سے الگ ہونے والے ایک گروپ نے، جس کو آئی ایس ڈبلیو اے پی (اسواپ) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، داپچی میں واقع ایک گورنمنٹ گرلز سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کالج سے 110 لڑکیوں کو اغوا کر لیا۔

پانچ لڑکیاں، جہادیوں کے استعمال والی گاڑیوں میں، جن میں گنجائش سے زیادہ لوگ موجود تھے، دم گھٹنے سے ہلاک ہو گئیں۔ ایک کرسچین لڑکی شاریبو، اب بھی اغواکاروں کی تحویل میں ہے جب کہ باقی لڑکیوں کو رہا کر دیا گیا ہے۔اگرچہ اس سے پہلے بھی کئی بار اغوا کے واقعات رونما ہوئے ہیں لیکن سال 2021 میں اس طرح کے واقعات میں تیزی آئی ہے۔ فروری سے لے کر اب تک اسکولوں سے اجتماعی اغوا کے پانچ واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔

نائیجیریا کے حکام نے اب تک صرف ’’ ڈاکوؤں‘‘ کو ملک کے شمال سے اغوا کے یکے بعد دیگرے ہونے والے واقعات کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ اغواکار سابق مویشی پال ہیں جو اب ایک منظم مسلح گروپ کی شکل اختیار کر گئے ہیں اور اغوا برائے تاوان میں مہارت رکھتے ہیں۔گرین فیلڈ یونیورسٹی پر حملے میں ملوث اغوا کاروں نے طالب علموں کی وڈیو جاری کی ہے جنہیں یرغمال بنایا گیا ہے لیکن اغواکاروں نے اپنی شناخت نہیں بیان کی ہے۔

تاوان کا مطالبہ کیا گیا ہے لیکن ڈاکووں نے اپنے انتہا پسندانہ نظریات ظاہر نہیں کیے ہیں۔ حکام کو خدشہ ہے کہ شمال مغرب میں موجود ان ڈاکووں کا ان انتہا پسند مسلمان گروپوں کے ساتھ کوئی تعلق ہے جو شمال مشرق کے علاقوں میں متحرک رہے ہیں۔ امریکی حکام نے بتایا ہے کہ ایک امریکی کو نائیجریا کے شمال مغربی سرحدی علاقے سے اغوا کرنے کے بعد شمال مشرق میں انتہا پسندوں کے حوالے کیا گیا، جسے آخر بازیاب کرا لیا گیا۔

یہ واقعہ اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ ان گروپوں کا ایک دوسرے کے ساتھ کوئی تعلق ہے۔اغوا کار بعض ایسے طریقے بھی اپنائے ہوئے ہیں جو جہادی گروپوں نے بہت عرصے تک استعمال کیے ہیں۔ جیسے یرغمال بنائے گئے افراد کی وڈیو بنانا۔ ادھر مسلح افراد نے، جنہوں نے گرین فیلڈ یونیورسٹی کیمپس پر حملہ کر کے طالب علموں کو اغوا کر لیا تھا، انہوں نے پانچ کو ہلاک کرنے کے بعد باقی کو رہا کر دیا ہے۔ رہا ہونے والے طالب علم سڑکوں پر پیدل چلتے پائے گئے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button